شامی درس گاہ
علی محمد الصلابیملک شام فتح ہونے کے بعد یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خط تحریر کیا اس کا مضمون یہ تھا:
’’شام والوں کی آبادی بڑھ گئی ہے، شہر تنگ پڑ گئے ہیں، اور انہیں ایک معلم قرآن و عالم دین کی ضرورت ہے، لہٰذا اے امیر المؤمنین! آپ ایسے لوگوں کو بھیج کر میری مدد کیجیے۔‘‘
چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے معاذ بن جبل، عبادہ بن صامت، اور ابو درداء رضی اللہ عنہم کو بلایا اور انہیں اس کام کے لیے بھیج دیا اور نصیحت کی کہ اپنے درس و تدریس کا آغاز ’’حمص‘‘ سے کرو، کیونکہ وہاں مختلف طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، وہاں کچھ لوگ بہت تیزی سے علم سیکھنے والے ہیں، جب تم ایسا دیکھو تو اس طرح کے لوگوں کی ایک جماعت کو تعلیم دو اور جب تم ان سے مطمئن ہو جاؤ تو تم میں سے کوئی ایک ان کے پاس رک جائے اور ایک صاحب دمشق چلا جائے، جب کہ دوسرا فلسطین۔
بہرحال وہ لوگ ’’حمص‘‘ آئے، وہاں قیام کیا، اور جب ایک جماعت کا علمی مقام دیکھ کر مطمئن ہو گئے تو وہاں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ مقیم ہو گئے، پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ دمشق اور معاذ رضی اللہ عنہ فلسطین کی طرف روانہ ہو گئے۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 259)
مفتوحہ علاقوں میں حضرت عمرؓ نے جن علمی مدارس کی بنیاد رکھی تھی وہ مدارس لوگوں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ شامی درس گاہ کی ذمہ داری معاذ، ابودرداء، اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم وغیرہ صحابہ کے کندھوں پر تھی۔ دمشق کی مسجد میں ابو درداءؓ کا بہت بڑا علمی حلقہ ہوتا تھا، اس میں 1600 سے زائد لوگ حاضر ہوتے تھے، وہ دس دس آیتیں پڑھتے تھے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے کی کوشش کرتے تھے اور ابو درداءؓ کھڑے ہو کر قرأت اور لہجوں کے بارے میں فتویٰ دیتے تھے۔
(غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء: ابن الجوزی: جلد 1 صفحہ 608)
ابو درداءؓ شام اور دمشق میں دیگر صحابہؓ کے مقابلہ میں سب سے زیادہ احادیث کے جاننے والے تھے، امام ذہبیؒ کا قول ہے کہ حضرت ابو درداءؓ شام والوں کے سب سے بڑے عالم، اور دمشق والوں کے سب سے بڑے مدرس، فقیہ اور قاضی مانے جاتے تھے۔
(التذکرۃ: جلد 1 صفحہ 24)
آپ چند گنے چنے ماہرین قرأت میں شمار کیے جاتے تھے۔
(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 256)
شام والوں کو یہ کہہ کر حصولِ علم پر ابھارتے تھے کہ کیا بات ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے علماء فوت ہو رہے ہیں اور تمہارے جہال علم نہیں حاصل کرتے؟ علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ وہ اٹھا لیا جائے، کیونکہ علماء کا اٹھایا جانا ہی علم کا اٹھا لیا جانا ہے۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 256)
حصولِ علم کی طرف رغبت دلانے والے آپ کے اقوال میں سے ایک قول یہ بھی ہے: ’’عالم بن کر زندگی گزارو یا متعلّم بن کر، یا علم سے محبت کرنے والے یا ان کے پیروکار بن کر رہو، اور پانچواں نہ بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔‘‘
حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ پانچواں بننا مبتدع (بدعتی) بننا ہے۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 256)
اور آپؓ کا قول ہے: ’’علم حاصل کرو، اگر تم اس سے عاجز ہو تو علم والوں سے محبت کرو، اگر ان سے محبت نہیں کر سکتے تو ان سے بغض و نفرت نہ کرو۔
(الطبقات: جلد 1 صفحہ 430 )
سنو! علم سیکھو اور سکھاؤ اس لیے عالم اور متعلم ثواب میں برابر ہیں، اس کے علاوہ لوگوں کی زندگی میں کوئی بھلائی نہیں۔‘‘
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 628)
’’تم عالم نہیں بن سکتے یہاں تک کہ متعلم بنو، اور متعلم نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرو۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 347 )
نیز آپؓ فرماتے تھے: ’’تم فقہ اسلامی پر عبور نہیں پا سکتے یہاں تک کہ قرآن پر مختلف اعتبار سے غور کر لو۔‘‘
(الطبقات: ابن سعد: جلد 1 صفحہ 430 )
حضرت ابو درداءؓ سے کہا گیا کہ کیا بات ہے آپ شعر نہیں کہتے؟ حالانکہ انصار میں سے شاید ہی کسی کا گھر بچا ہو جس نے شعر نہ کہا ہو؟ آپؓ نے جواب دیا: ہاں میں نے بھی شعر کہا ہے، سنیں:
یرید المرء أن یعطی مناہ
و یابی اللہ الا ما أرادا
’’انسان چاہتا ہے کہ اس کی تمام آرزوئیں پوری ہو جائیں، حالانکہ اتنا ہی ہونا ہے جتنا اللہ چاہے۔‘‘
یقول المرء فائدتی و مالی
و تقوی اللہ افضل ما استفادا
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 256)
’’آدمی کہتا ہے یہ میرا فائدہ اور یہ میرا مال ہے، حالانکہ اللہ کا تقویٰ سب سے بہتر فائدہ ہے۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا عمرؓ نے ابو درداءؓ کو شام کا گورنر بنا کر بھیجنا چاہا تو انہوں نے انکار کر دیا، لیکن حضرت عمرؓ نے ان سے اصرار کیا، تو ابو درداءؓ نے کہا: اگر آپؓ یہ پسند کریں کہ میں ان کے پاس اس لیے جاؤں تاکہ انہیں ان کے رب کی کتاب اور ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سکھاؤں اور ان کو نماز پڑھاؤں تو میں جانے کو تیار ہوں۔ حضرت عمرؓ ان سے اس کام کے لیے راضی ہو گئے۔
(اصحاب الرسول: جلد 2 صفحہ 209)
حضرت ابو درداءؓ کی علم سے خصوصی توجہ اور شغف کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں آپؓ کا بہت اونچا مقام تھا، اور اسی لیے آپ کے ارد گرد بہت سے طلبہ کا ہجوم رہتا تھا، کوئی آپ سے فرائض و واجبات کے بارے میں پوچھتا، کوئی حساب کے بارے میں، کوئی حدیث کے بارے میں، کوئی کسی مشکل و پیچیدہ مسئلہ کے بارے میں، اور کوئی شعر کے بارے میں پوچھتا۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 256)
چنانچہ شام میں آپ کا علمی حلقہ بہت وسیع تھا، خاص طور پر تعلیم قرآن کا حلقہ تو بہت ہی بڑا تھا۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 256)
اسی طرح وعظ و تقریر کے میدان میں بھی آپ کافی بااثر تھے۔ ایک دن شام میں آپؓ تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو سامعین کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
’’اے شام کے لوگو!تم کو کیا ہو گیا ہے جو تم جمع کرتے ہو اسے کھاتے نہیں ہو، اور مکانات بناتے ہو اور اس میں رہتے نہیں، اور آرزوئیں ایسی رکھتے ہو جو پوری نہیں ہوتیں۔ سنو! عاد اور ثمود نے تا حد نگاہ انبار لگا دیا تھا، مال، اولاد اور لاتعداد نعمتیں تیار کی تھیں، کون ہے جو ان کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں کو مجھ سے صرف دو درہم میں خریدے گا۔‘‘
(الاکتفاء: الکلاعی: جلد 3 صفحہ 311 )
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی تعلیمات، فاروقی سیاست پر بالکل صادق آتی ہیں، ایسی سیاست جس کا ہدف امت کو ہمہ وقت تیار رکھنا اور اس کی مجاہدانہ تحریک کو دوام بخشنا تھا۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 120 )
شامی درس گاہ کی ترقی میں معاذ بن جبل خزرجیؓ کا کارنامہ یہ تھا کہ آپ سے پہلے یمن والوں نے، پھر شام والوں نے استفادہ کیا۔ عبداللہ بن مسعودؓ حضرت معاذ بن جبلؓ کے مداح تھے، اپنے شاگردوں سے باتیں کرتے ہوئے کہتے تھے کہ معاذ
اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيۡفًا وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ۞(سورۃ النحل: آیت 120)
ترجمہ: ’’ایک امت تھے، اللہ کے اطاعت گزار تھے، سیدھے راستہ پر تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘
آپ کے شاگردوں نے پوچھا کہ ’’امت‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
آپؓ نے کہا: جو شخص لوگوں کو خیر کی تعلیم دے۔ وہ تنہا امت ہے پھر آپ نے خود پوچھا: کیا ’’ قانت‘‘ کا مطلب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت کرنے والا ’’ قانت‘‘ ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 450)
حقیقت میں حضرت معاذؓ ایسے ہی تھے، ابن مسعودؓ حضرت معاذؓ کی علمی بلندی، فقیہانہ مقام و مرتبہ اور اخلاق حسنہ کو دیکھ کر انہیں ابراہیم خلیل اللہ نبی علیہ السلام سے تشبیہ دیتے تھے، نیز اسلامی فقہ کی گہری معلومات کی امتیازی صفت نے آپ کو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا جواب دینے پر قادر بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی نگاہ میں آپؓ کی بہت عزت و مقبولیت تھی۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285)
سیدنا معاذؓ کے بارے میں حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ عورتیں معاذ کی طرح انسان جننے سے بانجھ ہو گئیں۔
(تہذیب الکمال: المزی: جلد 28 صفحہ 113، بحوالہ: الانصار فی العصر الراشدی)
حضرت عمرؓ کو جب کوئی مشکل معاملہ پیش آتا تو اپنے مشیروں سے مشورہ لیتے، ان مشیروں میں انصاری لوگوں میں سے معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ہوتے۔
(الطبقات: ابن سعد: جلد 1 صفحہ 426)
اس لیے کہ ان لوگوں کو فقہی بصیرت اور نووارد مسائل کی عملی و واقعی تفسیر پر قدرت حاصل تھی، اس سلسلے میں انہیں مہارت تھی کیونکہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی یہ لوگ فتویٰ دیتے تھے حتیٰ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما معاذ اور ابو درداء رضی اللہ عنہما کی احادیث سننا بہت پسند کرتے تھے، کہتے: مجھے دونوں عقل مندوں کی احادیث سناؤ، آپ سے پوچھا جاتا کہ کون ہیں دونوں عقل مند؟ تو آپ کہتے: معاذ اور ابو درداء رضی اللہ عنہما جو دونوں انصار میں سے ہیں۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285)
جب خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے باب جابیہ پر خطبہ دیا تو کہا: جو شخص اسلامی فقہ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہے وہ حضرت معاذ بن جبلؓ کے پاس جائے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 452)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ خلافت اسلامیہ اپنے دارالخلافہ میں حضرت معاذ بن جبلؓ جیسے افراد سے مستغنیٰ نہیں ہو سکتی، اسی لیے آپ معاذؓ کے مدینہ سے چلے جانے کے سخت مخالف تھے۔ جب حضرت معاذؓ شام چلے گئے تو حضرت عمرؓ کہتے تھے: ان کے مدینہ سے چلے جانے کی وجہ سے اہلِ مدینہ کا فقہ و فتویٰ میں کافی نقصان ہوا۔ میں نے حضرت ابوبکرؓ سے بات کی تھی کہ لوگوں کی ضرورت کے پیشِ نظر انہیں مدینہ میں روک لیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایسے آدمی ہیں جنہیں شہادت مطلوب ہے، میں انہیں نہیں روک سکتا۔ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! شہادت کا طالب اپنے بستر پر اور اپنے گھر میں شہادت سے سرفراز ہو سکتا ہے۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285، سیر أعلام النبلاء: جلد 1 285)
لیکن ایسا لگتا ہے کہ حضرت عمرؓ فاروق نے شاید بعد میں اپنی رائے بدل دی تھی، کیونکہ انہوں نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو شام والوں کی تعلیم کے لیے وہاں روانہ کیا، اور وہیں انہیں سکونت عطا کی۔ حضرت معاذؓ کے شام جانے سے وہاں کے حالات پر بہت اثر پڑا، کیونکہ وہاں پہنچ کر آپ نے علم و فقہ کی خوب نشر و اشاعت کی، اور وہاں کے موافق فقہی مزاج تیار کیا۔ ابو مسلم خولانیؒ کا کہنا ہے کہ میں ’’حمص‘‘ کی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں تیس 30 بوڑھے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں۔ ان میں ایک ایسا نوجوان بھی تھا جس کی دونوں آنکھیں سرمگیں، اور دانت نہایت چمک دار تھے، اس پر پُر وقار خاموشی تھی، اگر اصحابِ رسولﷺ میں کسی مسئلہ میں حجت اور بحث و مباحثہ ہو جاتا تو اس کی طرف متوجہ ہو کر اس سے پوچھتے، یہ دیکھ کر میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا: یہ کون ہیں؟ اس نے بتایا کہ یہ معاذ بن جبلؓ ہیں۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285)
حضرت معاذ بن جبلؓ حصول علم پر رغبت دلاتے ہوئے فرماتے تھے:
’’علم حاصل کرو، اس لیے کہ اخلاص سے علم حاصل کرنا خشیت الہٰی کی علامت ہے اس کی طلب و جستجو عبادت ہے، اس کا حفظ و مذاکرہ تسبیح ہے، اس کے بارے میں تحقیق کرنا جہاد ہے، جو علم نہ جانتا ہو اسے علم سکھانا صدقہ ہے اور اسے اس کے حق داروں پر خرچ کرنا اطاعت الہٰی ہے، اس لیے کہ وہ حلال و حرام کی معرفت کی نشانی ہے، جنت والوں کا منارہ ہے، تنہائی کی وحشت میں مونس و غم خوار ہے، سفر میں بہترین دوست ہے، خلوت میں ہم کلام ساتھی ہے، رنج و غم ہو کہ راحت و مسرت، دونوں حالتوں میں بہترین رہنما ہے، دشمن کے خلاف ہتھیار ہے، مقتدر ہستیوں کے نزدیک دین ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے اقوام کو سر بلندی عطا کرتا ہے اور بھلائی میں انہیں ایسا قائد اور امام بناتا ہے کہ جن کے نقوش کی تقلید کی جاتی ہے، انہی کے کارناموں کی پیروی کی جاتی ہے اور انہی کی رائے و فیصلہ کی انتہا ہوتی ہے۔‘‘
معاذ بن جبلؓ شام میں رہ کر لوگوں کو دینی تعلیم دیتے رہے، یہاں تک کہ طاعون عمواس کے آپ بھی شکار ہو گئے اور آپؓ کے شاگرد آپؓ کی نازک حالت دیکھ کر رونے لگے، آپؓ نے ان سے پوچھا: تم کیوں روتے ہو؟ انہوں نے کہا: اس علم پر روتے ہیں جو آپؓ کی وفات کے بعد ہم سے ختم ہو جائے گا۔ آپؓ نے فرمایا: ’’بے شک علم اور ایمان قیامت تک باقی رہیں گے، جو ان دونوں کو تلاش کرے گا انہیں قرآن و سنت میں ضرور پائے گا۔ ہر بات کو قرآن پر پیش کرو، قرآن کو کسی بات پر پیش نہ کرو۔‘‘
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 501، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 84)
گویا حضرت معاذ بن جبلؓ کی نگاہ میں قرآن ہی وہ میزان ہے جس پر ہر چیز کو تولا جائے گا، لیکن اسے کسی چیز پر نہیں تولا جائے گا۔ پس تعلیم قرآن کے باب میں حضرت معاذؓ کا یہی اصول رہا، آپؓ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اسی اصول کو مضبوطی سے پکڑے رہے، زندگی کے نازک ترین لمحہ، عالمِ نزع میں جب جب سیدنا معاذؓ کو قدرے افاقہ ہوتا تو اپنی دونوں آنکھیں کھولتے اور کہتے: ’’اے میرے رب مجھ پر میری موت کا جلدی فیصلہ کر دے، تیری عزت کی قسم ہے تو جانتا ہے کہ مجھے تجھ سے دلی محبت ہے۔‘‘
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 501)
رہے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تو ان کو حضرت عمرؓ نے شام کا قاضی اور معلم بنا کر بھیجا آپ نے کچھ دنوں ’’حمص‘‘ میں اقامت کی، پھر دمشق چلے گئے، اور وہاں منصب قضا سنبھالا، اور وہیں کے باشندے ہو کر رہ گئے، اس طرح آپؓ فلسطین کے سب سے پہلے قاضی تھے۔ اس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ آپ وہاں کے لوگوں کو قرآن کی بھی تعلیم دیتے تھے، پھر اسی طرح زندگی گزارتے ہوئے وہاں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
(عبادۃ بن الصامت صحابی کبیر و فاتح مجاہد: دیکھئے وہبۃ الزحیلی: صفحہ 84)
حضرت عبادہ بن صامتؓ نے حضرت عمرؓ کی علمی، تربیتی اور جہادی سیاست میں کافی حصہ لیا، آپ زہد و ورع اور سادہ زندگی گزارنے والے تھے، جب آپ ’’حمص‘‘ پہنچے تو وہاں کے لوگوں سے کہا: جان لو! یہ دنیا چند روزہ سامان ہے، اور آخرت کا وعدہ سچا ہے، سنو! دنیا کی کچھ خاص اولاد ہیں، اور آخرت کی بھی خاص اولاد ہیں۔ تم آخرت کی اولاد بنو، دنیا کی اولاد نہ بنو، بے شک ہر اولاد اپنی ماں کے تابع ہوتی ہے۔
(الاکتفاء: الکلاعی: جلد 3 صفحہ 310)
حضرت عمرؓ انہی معانی کو مسلمانوں کے دلوں میں راسخ کرنے کے حریص تھے، اسی لیے آپ ذمہ داریوں کے لیے ایسے ہی صحابہ کا انتخاب کرتے تھے جو لوگوں کو اسلام کی روحانی تعلیمات سے آشنا کرا سکیں اور خود اُن کی زندگی اسلامی تعلیمات کا پیکر ہو۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ بھلائی کا حکم دیتے، اور برائی سے روکتے، اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی ملامت گر کی ملامت کی قطعاً پروا نہ کرتے تھے۔ چنانچہ جب آپؓ فلسطین کے قاضی تھے تو کسی چیز کے بارے میں شام کے حکمران کو آپؓ نے ٹوکا، اور کہا: یہاں کی سرزمین پر تمہارے ساتھ میں نہیں رہ سکتا اور پھر آپؓ مدینہ چلے آئے۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا: آپؓ کیوں چلے آئے؟ انہوں نے پورا واقعہ بتایا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: جاؤ، تم اپنی جگہ واپس جاؤ، اللہ ایسی زمین کا بھلا نہ کرے جہاں آپؓ جیسے لوگ نہ رہیں، وہ آپؓ پر حاکم نہیں رہے گا۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 122، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 124)
بہرحال آپؓ داعی و مبلغ، معلم و مدرس اور اپنے معاشرہ کی مثالی شخصیت کی حیثیت سے شام واپس لوٹ گئے۔ حضرت عمرؓ نے عبدالرحمٰن بن غنم اشعریؒ کو بھی دینی تعلیم دینے کے لیے شام بھیجا تھا۔ خلاصہ یہ کہ معاذ، ابو درداء، اور عبادہ رضی اللہ عنہم شامی درس گاہ کی تاسیس کے وہ بنیادی ستون تھے جن پر حضرت عمرؓ نے اعتماد کیا تھا، اور پھر اس درس گاہ نے اس علاقہ میں دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا قابلِ قدر کارنامہ انجام دیا۔ مذکورہ افراد کے ساتھ اعلیٰ اخلاق و کردار کی حامل صحابہ کی ایک جماعت تھی، انہی صحابہ کرامؓ کی شاگردی اختیار کر کے شام کے تابعین نے علم حاصل کیا اور عزت و شرف کے مقام پر فائز ہو گئے ، ان میں زیادہ مشہور عائذ بن عبداللہؒ، ابو ادریس خولانیؒ، مکحولؒ اور ابو عبداللہ دمشقیؒ وغیرہ ہیں۔
(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 526 تا 528)