شامی درس گاہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شامی درس گاہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی تعلیمات، فاروقی سیاست پر بالکل صادق آتی ہیں، ایسی سیاست جس کا ہدف امت کو ہمہ وقت تیار رکھنا اور اس کی مجاہدانہ تحریک کو دوام بخشنا تھا۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 120 )

شامی درس گاہ کی ترقی میں معاذ بن جبل خزرجیؓ کا کارنامہ یہ تھا کہ آپ سے پہلے یمن والوں نے، پھر شام والوں نے استفادہ کیا۔ عبداللہ بن مسعودؓ حضرت معاذ بن جبلؓ کے مداح تھے، اپنے شاگردوں سے باتیں کرتے ہوئے کہتے تھے کہ معاذ

اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيۡفًا وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ۞(سورۃ النحل: آیت 120)

ترجمہ: ’’ایک امت تھے، اللہ کے اطاعت گزار تھے، سیدھے راستہ پر تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘

آپ کے شاگردوں نے پوچھا کہ ’’امت‘‘ کا کیا مطلب ہے؟

آپؓ نے کہا: جو شخص لوگوں کو خیر کی تعلیم دے۔ وہ تنہا امت ہے پھر آپ نے خود پوچھا: کیا ’’ قانت‘‘ کا مطلب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت کرنے والا ’’ قانت‘‘ ہے۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 450)

حقیقت میں حضرت معاذؓ ایسے ہی تھے، ابن مسعودؓ حضرت معاذؓ کی علمی بلندی، فقیہانہ مقام و مرتبہ اور اخلاق حسنہ کو دیکھ کر انہیں ابراہیم خلیل اللہ نبی علیہ السلام سے تشبیہ دیتے تھے، نیز اسلامی فقہ کی گہری معلومات کی امتیازی صفت نے آپ کو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا جواب دینے پر قادر بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی نگاہ میں آپؓ کی بہت عزت و مقبولیت تھی۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285)

سیدنا معاذؓ کے بارے میں حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ عورتیں معاذ کی طرح انسان جننے سے بانجھ ہو گئیں۔ 

(تہذیب الکمال: المزی: جلد 28 صفحہ 113، بحوالہ: الانصار فی العصر الراشدی)

حضرت عمرؓ کو جب کوئی مشکل معاملہ پیش آتا تو اپنے مشیروں سے مشورہ لیتے، ان مشیروں میں انصاری لوگوں میں سے معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ہوتے۔ 

(الطبقات: ابن سعد: جلد 1 صفحہ 426)

 اس لیے کہ ان لوگوں کو فقہی بصیرت اور نووارد مسائل کی عملی و واقعی تفسیر پر قدرت حاصل تھی، اس سلسلے میں انہیں مہارت تھی کیونکہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی یہ لوگ فتویٰ دیتے تھے حتیٰ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما معاذ اور ابو درداء رضی اللہ عنہما کی احادیث سننا بہت پسند کرتے تھے، کہتے: مجھے دونوں عقل مندوں کی احادیث سناؤ، آپ سے پوچھا جاتا کہ کون ہیں دونوں عقل مند؟ تو آپ کہتے: معاذ اور ابو درداء رضی اللہ عنہما جو دونوں انصار میں سے ہیں۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285)

جب خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے باب جابیہ پر خطبہ دیا تو کہا: جو شخص اسلامی فقہ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہے وہ حضرت معاذ بن جبلؓ کے پاس جائے۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 452)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ خلافت اسلامیہ اپنے دارالخلافہ میں حضرت معاذ بن جبلؓ جیسے افراد سے مستغنیٰ نہیں ہو سکتی، اسی لیے آپ معاذؓ کے مدینہ سے چلے جانے کے سخت مخالف تھے۔ جب حضرت معاذؓ شام چلے گئے تو حضرت عمرؓ کہتے تھے: ان کے مدینہ سے چلے جانے کی وجہ سے اہلِ مدینہ کا فقہ و فتویٰ میں کافی نقصان ہوا۔ میں نے حضرت ابوبکرؓ سے بات کی تھی کہ لوگوں کی ضرورت کے پیشِ نظر انہیں مدینہ میں روک لیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایسے آدمی ہیں جنہیں شہادت مطلوب ہے، میں انہیں نہیں روک سکتا۔ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! شہادت کا طالب اپنے بستر پر اور اپنے گھر میں شہادت سے سرفراز ہو سکتا ہے۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285، سیر أعلام النبلاء: جلد 1 285)

لیکن ایسا لگتا ہے کہ حضرت عمرؓ فاروق نے شاید بعد میں اپنی رائے بدل دی تھی، کیونکہ انہوں نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو شام والوں کی تعلیم کے لیے وہاں روانہ کیا، اور وہیں انہیں سکونت عطا کی۔ حضرت معاذؓ کے شام جانے سے وہاں کے حالات پر بہت اثر پڑا، کیونکہ وہاں پہنچ کر آپ نے علم و فقہ کی خوب نشر و اشاعت کی، اور وہاں کے موافق فقہی مزاج تیار کیا۔ ابو مسلم خولانیؒ کا کہنا ہے کہ میں ’’حمص‘‘ کی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں تیس 30 بوڑھے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں۔ ان میں ایک ایسا نوجوان بھی تھا جس کی دونوں آنکھیں سرمگیں، اور دانت نہایت چمک دار تھے، اس پر پُر وقار خاموشی تھی، اگر اصحابِ رسولﷺ میں کسی مسئلہ میں حجت اور بحث و مباحثہ ہو جاتا تو اس کی طرف متوجہ ہو کر اس سے پوچھتے، یہ دیکھ کر میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا: یہ کون ہیں؟ اس نے بتایا کہ یہ معاذ بن جبلؓ ہیں۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 285)

حضرت معاذ بن جبلؓ حصول علم پر رغبت دلاتے ہوئے فرماتے تھے:

’’علم حاصل کرو، اس لیے کہ اخلاص سے علم حاصل کرنا خشیت الہٰی کی علامت ہے اس کی طلب و جستجو عبادت ہے، اس کا حفظ و مذاکرہ تسبیح ہے، اس کے بارے میں تحقیق کرنا جہاد ہے، جو علم نہ جانتا ہو اسے علم سکھانا صدقہ ہے اور اسے اس کے حق داروں پر خرچ کرنا اطاعت الہٰی ہے، اس لیے کہ وہ حلال و حرام کی معرفت کی نشانی ہے، جنت والوں کا منارہ ہے، تنہائی کی وحشت میں مونس و غم خوار ہے، سفر میں بہترین دوست ہے، خلوت میں ہم کلام ساتھی ہے، رنج و غم ہو کہ راحت و مسرت، دونوں حالتوں میں بہترین رہنما ہے، دشمن کے خلاف ہتھیار ہے، مقتدر ہستیوں کے نزدیک دین ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے اقوام کو سر بلندی عطا کرتا ہے اور بھلائی میں انہیں ایسا قائد اور امام بناتا ہے کہ جن کے نقوش کی تقلید کی جاتی ہے، انہی کے کارناموں کی پیروی کی جاتی ہے اور انہی کی رائے و فیصلہ کی انتہا ہوتی ہے۔‘‘ 

صفحہ 2 از 3