شامی درس گاہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شامی درس گاہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

معاذ بن جبلؓ شام میں رہ کر لوگوں کو دینی تعلیم دیتے رہے، یہاں تک کہ طاعون عمواس کے آپ بھی شکار ہو گئے اور آپؓ کے شاگرد آپؓ کی نازک حالت دیکھ کر رونے لگے، آپؓ نے ان سے پوچھا: تم کیوں روتے ہو؟ انہوں نے کہا: اس علم پر روتے ہیں جو آپؓ کی وفات کے بعد ہم سے ختم ہو جائے گا۔ آپؓ نے فرمایا: ’’بے شک علم اور ایمان قیامت تک باقی رہیں گے، جو ان دونوں کو تلاش کرے گا انہیں قرآن و سنت میں ضرور پائے گا۔ ہر بات کو قرآن پر پیش کرو، قرآن کو کسی بات پر پیش نہ کرو۔‘‘

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 501، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 84)

گویا حضرت معاذ بن جبلؓ کی نگاہ میں قرآن ہی وہ میزان ہے جس پر ہر چیز کو تولا جائے گا، لیکن اسے کسی چیز پر نہیں تولا جائے گا۔ پس تعلیم قرآن کے باب میں حضرت معاذؓ کا یہی اصول رہا، آپؓ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اسی اصول کو مضبوطی سے پکڑے رہے، زندگی کے نازک ترین لمحہ، عالمِ نزع میں جب جب سیدنا معاذؓ کو قدرے افاقہ ہوتا تو اپنی دونوں آنکھیں کھولتے اور کہتے: ’’اے میرے رب مجھ پر میری موت کا جلدی فیصلہ کر دے، تیری عزت کی قسم ہے تو جانتا ہے کہ مجھے تجھ سے دلی محبت ہے۔‘‘ 

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 501)

رہے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تو ان کو حضرت عمرؓ نے شام کا قاضی اور معلم بنا کر بھیجا آپ نے کچھ دنوں ’’حمص‘‘ میں اقامت کی، پھر دمشق چلے گئے، اور وہاں منصب قضا سنبھالا، اور وہیں کے باشندے ہو کر رہ گئے، اس طرح آپؓ فلسطین کے سب سے پہلے قاضی تھے۔ اس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ آپ وہاں کے لوگوں کو قرآن کی بھی تعلیم دیتے تھے، پھر اسی طرح زندگی گزارتے ہوئے وہاں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ 

(عبادۃ بن الصامت صحابی کبیر و فاتح مجاہد: دیکھئے وہبۃ الزحیلی: صفحہ 84)

حضرت عبادہ بن صامتؓ نے حضرت عمرؓ کی علمی، تربیتی اور جہادی سیاست میں کافی حصہ لیا، آپ زہد و ورع اور سادہ زندگی گزارنے والے تھے، جب آپ ’’حمص‘‘ پہنچے تو وہاں کے لوگوں سے کہا: جان لو! یہ دنیا چند روزہ سامان ہے، اور آخرت کا وعدہ سچا ہے، سنو! دنیا کی کچھ خاص اولاد ہیں، اور آخرت کی بھی خاص اولاد ہیں۔ تم آخرت کی اولاد بنو، دنیا کی اولاد نہ بنو، بے شک ہر اولاد اپنی ماں کے تابع ہوتی ہے۔ 

(الاکتفاء: الکلاعی: جلد 3 صفحہ 310)

حضرت عمرؓ انہی معانی کو مسلمانوں کے دلوں میں راسخ کرنے کے حریص تھے، اسی لیے آپ ذمہ داریوں کے لیے ایسے ہی صحابہ کا انتخاب کرتے تھے جو لوگوں کو اسلام کی روحانی تعلیمات سے آشنا کرا سکیں اور خود اُن کی زندگی اسلامی تعلیمات کا پیکر ہو۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ بھلائی کا حکم دیتے، اور برائی سے روکتے، اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی ملامت گر کی ملامت کی قطعاً پروا نہ کرتے تھے۔ چنانچہ جب آپؓ فلسطین کے قاضی تھے تو کسی چیز کے بارے میں شام کے حکمران کو آپؓ نے ٹوکا، اور کہا: یہاں کی سرزمین پر تمہارے ساتھ میں نہیں رہ سکتا اور پھر آپؓ مدینہ چلے آئے۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا: آپؓ کیوں چلے آئے؟ انہوں نے پورا واقعہ بتایا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: جاؤ، تم اپنی جگہ واپس جاؤ، اللہ ایسی زمین کا بھلا نہ کرے جہاں آپؓ جیسے لوگ نہ رہیں، وہ آپؓ پر حاکم نہیں رہے گا۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 122، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 124)

بہرحال آپؓ داعی و مبلغ، معلم و مدرس اور اپنے معاشرہ کی مثالی شخصیت کی حیثیت سے شام واپس لوٹ گئے۔ حضرت عمرؓ نے عبدالرحمٰن بن غنم اشعریؒ کو بھی دینی تعلیم دینے کے لیے شام بھیجا تھا۔ خلاصہ یہ کہ معاذ، ابو درداء، اور عبادہ رضی اللہ عنہم شامی درس گاہ کی تاسیس کے وہ بنیادی ستون تھے جن پر حضرت عمرؓ نے اعتماد کیا تھا، اور پھر اس درس گاہ نے اس علاقہ میں دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا قابلِ قدر کارنامہ انجام دیا۔ مذکورہ افراد کے ساتھ اعلیٰ اخلاق و کردار کی حامل صحابہ کی ایک جماعت تھی، انہی صحابہ کرامؓ کی شاگردی اختیار کر کے شام کے تابعین نے علم حاصل کیا اور عزت و شرف کے مقام پر فائز ہو گئے ، ان میں زیادہ مشہور عائذ بن عبداللہؒ، ابو ادریس خولانیؒ، مکحولؒ اور ابو عبداللہ دمشقیؒ وغیرہ ہیں۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 526 تا 528)


صفحہ 3 از 3