مصری درس گاہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مصری درس گاہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 2 صفحہ 868) 

آپؓ نے طلب علم کے لیے طلبہ کی ہمت افزائی کی، ان کے لیے حصول علم کے راستوں کو آسان بنایا، ان کی ہمت افزائی کرتے ہوئے مالی وظائف جاری کیے، اور اپنے بعض عمال کو حکم دیا کہ ممتاز طلبہ کو بطور اعزاز خصوصی انعامات سے نوازیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے نام فاروقی حکم نامے میں آپؓ کے علم اور علماء سے قوی لگاؤ کو بالکل واضح طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے، آپ نے ان کو حکم دیا تھا کہ ’’جو مال تقسیم کے بعد بچ جائے اسے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو دے دینا۔‘‘ 

(اشہر مشاہیر الاسلام: جلد 2 صفحہ 540، 541 )

حضرت عمر فاروقؓ کی یہ ہمت افزائی دراصل امت مسلمہ کے تمام نونہالوں کے لیے پیغام مسرت ہے کہ اگر انہوں نے خود کو اللہ کی کتاب یعنی قرآن مجید سیکھنے اور حفظ کرنے کے لیے فارغ کیا تو یقیناً وہی لوگ قومی اعزاز اور تعاون کے مستحق ہوں گے خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، وہاں یہ اعزاز و انعام ان مخفی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتا ہے، جن کے ذریعہ سے وہاں کے لوگ قرآن مجید اور سنت نبویﷺ کو بخوبی سمجھ اور یاد کر سکیں۔

آپؓ ایسے تمام علوم کے سیکھنے سکھانے کا اہتمام کرتے تھے جن کا تعلق قرآن اور سنت نبویﷺ سے ہو، خاص طور پر عربی زبان پر زیادہ ہی توجہ دیتے تھے۔ چنانچہ عربی زبان سیکھنے کے بارے میں آپؓ نے فرمایا: ’’عربی سیکھو، اس لیے کہ وہ عقل میں پختگی اور مروّت میں زیادتی پیدا کرتی ہے۔‘‘

(معجم الادباء: جلد 1 صفحہ 19 )

اور آپؓ کا قول ہے:

’’نحو کو اسی طرح سیکھو جس طرح اسلام کے سنن و فرائض کو سیکھتے ہو۔‘‘ 

(البیان و التبیین جاحظ: جلد 2 صفحہ 219)

اور فرمایا: 

’’تم قرآن کا اعراب اسی طرح سیکھو جس طرح اس کے حفظ کو سیکھتے ہو۔‘‘ 

(الف باء: بلوی: جلد 1 صفحہ 42، اولیات الفاروق: صفحہ 458)

نیز فرمایا: ’’سب سے خراب تحریر وہ ہے جو لمبی ترچھی اور جلدی جلدی لکھی جائے، سب سے خراب قرأت وہ ہے جو اتنی تیزی سے کی جائے کہ کچھ سمجھ میں نہ آئے، اور سب سے خوش خط تحریر وہ ہے جو خوب واضح ہو۔‘‘ 

(تدریب الراوی السیوطی: صفحہ 152 )

ابنِ جوزی نے بھی اسی طرح کا واقعہ لکھا ہے کہ حضرت عمرو بن عاصؓ کے کاتب نے حضرت عمرؓ کے پاس خط لکھا، تو اس نے ’’بسم اللہ‘‘ کا سین چھوڑ دیا، سیدنا عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو لکھا کہ ’’اسے کوڑے لگاؤ۔‘‘ چنانچہ عمروؓ نے اسے کوڑے مارے، کسی نے کاتب سے پوچھا کہ کس وجہ سے تم مارے گئے؟ اس نے کہا: ’’سین‘‘ چھوڑنے کی وجہ سے۔ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 151 )

سیدنا عمرؓ ہر چیز کو اتقان و مضبوطی سے انجام دینے کے حریص تھے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی چیز جس کا تعلق سیاست، اقتصاد، فوج، تعلیم، ادب یا ان کے علاوہ کوئی اور چیز جو امت کی بقا اس کی عزت، شرافت، بزرگی، قوت اور تہذیب و تمدن سے مربوط رہی، آپ نے اس میں جدت پیدا کی، اور اس کا خاص اہتمام کیا۔ آپ کی سیاست کی شمولیت و کمال، اور امت مسلمہ کی بہترین توجہ و نگرانی کی دلیل یہ ہے کہ جہاں سختی کی ضرورت تھی وہاں آپ نے سختی کی اور جہاں نرمی کی ضرورت تھی وہاں نرمی کی، اور اس بات کی کوشش کی کہ جس امت کا دستور اساس قرآنِ کریم ہے جو واضح عربی زبان میں نازل ہوا، اس امت کے حکام و افسران فصیح عربی زبان میں خط و کتابت کیا کریں۔ 

(اولیات الفاروق: صفحہ 458)

جن فوجی اداروں کی تحریک پر عراق، ایران، شام، مصر اور مغرب کے ممالک فتح ہوئے درحقیقت ان کے پیچھے ایسی منفرد علمی، فقہی، اور دعوتی جماعتوں کا ہاتھ تھا، جنہوں نے مدینہ میں رسول اللہﷺ سے تربیت پائی تھی، حضرت عمر فاروقؓ نے ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا، ان کی بہترین رہنمائی کی، اور وہ جس جگہ کے لیے مناسب تھے، وہاں انہیں ذمہ داری عطا کی اسی بہترین استعمال و استفادہ کے نتیجہ میں ان جماعتوں نے علمی و فقہی تحریک کی ایسی بنیاد ڈالی جو ہمیشہ اسلامی فتوحات کے لیے طاقت و قوت کا سبب بنی، اور علماء صحابہؓ جو دعوت الی اللہ اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے فارغ تھے، اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گئے کہ مفتوحہ علاقوں میں انہی کے باشندوں میں سے ایسی نسل تیار کر دی جس نے دینِ اسلام کو بخوبی پہچان لیا۔ نیز زبان و لغت کے تباین کا جو پردہ حائل تھا اور اس کی وجہ سے اسلامی علوم کی افہام و تفہیم میں جو رکاوٹیں آتی تھیں ان تمام چیزوں پر وہ لوگ قابو پا گئے، بے شمار عجمیوں نے لغت اسلام عربی زبان سیکھی، اور عہد صحابہؓ کے بعد بہت سے عجمی غیر عربی افراد علمی تحریک کے قائد بن کر ابھرے۔

مختصر یہ کہ مفتوحہ علاقوں میں علمی اور فقہی درس گاہیں کافی اثر انداز ہوئیں، اور ان سے فارغ ہونے والے علماء کی ایک ایسی جماعت تشکیل ہوئی جس نے امت محمدیہ تک صحابہ کرام کا علم پہنچایا، پھر ان کا شمار اس عظیم جماعت میں ہونے لگا، جس نے قرآنِ مجید اور سنت نبویﷺ کی تعلیمات کو امت تک پہنچایا، اللہ کے فضل و توفیق کے بعد صحابہؓ کے توسط سے علم نبویﷺ کے امت مسلمہ تک پہنچنے کا سہرا بنیادی طور پر ان علمی مدارس کے مؤسسین کے سر جاتا ہے جنہوں نے مکہ، مدینہ، بصرہ، کوفہ اور مصر وغیرہ دوسرے علاقوں میں ان درس گاہوں کی بنیاد رکھی۔ 

(الدور السیاسی: الصفوۃ: صفحہ 462 تا463)

حضرت عمرؓ نے ان علماء و فقہاء کو اونچا مقام دیا، اور ان کے احوال و مجہودات کی کھوج خبر لیتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کوششوں میں برکت دی اور وہ کوششیں بار آور ہوئیں۔


صفحہ 2 از 2