سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور شعر و شعراء
علی محمد الصلابیادبی تاریخ کی جو روایتیں اور خبریں ہم تک پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ میں شعراء کا قافلہ کافی متحرک تھا، کیونکہ عربی شعر کی تاریخ پر لکھی گئی کتاب حضرت عمر بن خطابؓ کے تذکرہ سے خالی نہیں ہے، خاص طور پر ادبی تنقید کے موضوع میں ان کا ذکر ضرور ہے، اور آپؓ کے زمانے میں عربی ادب پر تنقیدی نظریات کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت اشعار سننے اور روایت کرنے کا بھی وجود تھا۔ نیز عربی ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ عموماً ادبی کتابوں کی استنادی حیثیت ثقہ راویوں پر قائم نہیں ہے، تاہم وہ ادبی و تنقیدی اخبار و روایات جن کا تعلق خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ سے ہے، سب کا مصدر و مرجع وہی کتابیں ہیں۔ البتہ بعض رجزیہ اشعار جنہیں عہدِ نبوی میں پڑھا جاتا تھا، اور کتب حدیث میں وہ مذکور ہیں،
(مجمع الزوائد: جلد 8 صفحہ 126 )
اسی طرح نابغہ جعدی،
(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام: جلد 2 صفحہ 98 )
امیہ بن ابی صلت اور حضرت حسان بن ثابتؓ (البیان: جاحظ: جلد 1 صفحہ 241، الادب فی الاسلام: نایف معروف: صفحہ 169) کے ابیات ان سے مستثنیٰ ہیں
بہرحال دور فاروقی کے شعراء و اشعار کے متعلق ادب اور ادباء کی کتابیں ہی مرجع ہیں۔