کفارِ محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحقِ عذابِ الیم ہے۔ جو کافر، مسلمانوں کے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔ مفسدوں سے اقتصادی و معاشر
کفارِ محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحقِ عذابِ الیم ہے۔ جو کافر، مسلمانوں کے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔ مفسدوں سے اقتصادی و معاشرتی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اسوۂ رسول اکرمﷺ ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین حسب ذیل مسئلہ میں کہ کوئی شخص یا جماعت کسی داعی نبوت ِکاذبہ پر ایمان لانے کی وجہ سے باتفاق اُمت دائرہ اسلام سے خارج ہو، اور اُن کا کفر یقینی اور شک و شبہ سے بالاتر ہو، اس کے علاؤہ اُن میں حسب ذیل وجوہ بھی موجود ہوں۔
(1) وہ اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہوں اور تمام عالم اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں۔
(2) مسلمانوں کو جانی و مالی ہر طرح کی ایذاء پہنچانے میں تامقدور کوتاہی نہ کرتے ہوں۔
(3) اُن کی مادی قوت اور مالی وسائل میں روز افزوں ترقی کا تمام تر انحصار مسلمانوں کے استحصال پر ہوں، اُن کے کارخانے اور انڈسٹریاں مسلمانوں کے ذریعہ چلتی ہوں اور وہ اسلامی ملک کے تمام کلیدی مناصب پر فائز اور معاشی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں کر رہے ہوں۔
(4) دشمن اسلام بیرونی طاقتوں، یہودی اور مسیحی حکومتوں اور ہندوستان کی اسلام دشمن حکومت سے اُن کے روابط ہوں، الغرض مسلمانوں کیلئے دینی، معاشی، اقتصادی اور معاشرتی اعتبار سے اُن کا طرز عمل سنگین خطرات کا باعث ہو، بلکہ ان کی وجہ سے ایک اسلامی مملکت کو بغاوت و انقلاب کے خطرات تک لاحق ہوں۔
(5) حکومت یا حکومت کی سطح پر یہ توقع نہ ہو کہ اس فتنہ سے ملک و ملت کو بچانے کی کوئی تدبیر کی جائے گی، اور یہ اُمید نہ ہو کہ جس شرعی سزا کے وہ مستحق ہیں وہ اُن پر جاری ہو سکے گی۔ اندریں حالات بے بس مسلمانوں کو اس فتنہ کی روک تھام کیلئے کیا کرنا چاہئے؟ اور اس سلسلہ میں شرعی طور پر ان پر کیا فریضہ عائد ہوتا ہے؟ کیا ان حالات میں اس جماعت یا فرد کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر قدغن لگانے کیلئے حسبِ ذیل اُمور کے جواز یا وجوب کی شرعاً کوئی صورت ہے کہ ۔۔۔۔
(الف) امت اسلامیہ اس فرد یا جماعت کے ساتھ برادرانہ تعلقات منتقع کرے۔
(ب) اُن سے سلام و کلام، میل جول، نشت و برخاست، شادی و غمی میں شرکت نہ کی جائے بلکہ معاشرتی سطح پر ان سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا جائے۔
(ج) اُن سے تجارت، لین دین اور خرید و فروخت کی جائے یا نہیں؟
(د) اُن کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے مال خریدا جائے یا اُن کا مکمل اقتصادی مقاطعہ کیا جائے؟
(ھ) اُن کی تعلیم گاہوں، ہوٹلوں، ریسٹورانوں میں جانا جائز ہے یا نہیں؟
(و) اُن سے رواداری برتی جائے یا نہیں؟
(ز) اُن کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات استعمال کی جائیں یا نہیں؟ غرض اُن سے مکمل سوشل بائیکاٹ یا مقاطعہ کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ کیا تمام مسلمانوں کو بھی شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ انہیں راہِ راست پر لانے کے لئے اُن کا بائیکاٹ کریں۔جبکہ اُس کے سوا اور کوئی چارہ اصلاح موجود نہ ہو۔
جواب: بلا شعبہ قرآن کریم کی وحی قطعی، جناب رسول اللہﷺ کی احادیثِ متواترہ قطعیہ اور اُمت محمدیہ کے قطعی اجماع سے ثابت ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری پیغمبر ہیں، آپﷺ کے بعد کوئ نبی نہیں آ سکتا۔ آنحضرتﷺ کے بعد ہر نبوت کا مدعی کافر اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔ اور جو شخص اس مدعی نبوت کی تصدیق کرے، اور اُسے مقتدا و پیشوا مانے وہ بھی کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اس کفر اور ارتداد کے ساتھ اگر اس میں وجوہ مذکورہ سوال میں سے ایک وجہ بھی موجود ہو تو قرآن کریم اور احادیثِ نبویہﷺ اور فقہ اسلامی کے مطابق وہ اسلامی اخوت اور اسلامی ہمدردی کا ہرگز مستحق نہیں۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے ساتھ سلام و کلام، نشت برخاست اور لین دین وغیرہ تمام تعلقات ختم کر دیں۔ کوئی ایسا تعلق یا رابطہ اُس سے قائم کرنا جس سے اُس کی عزت و احترام کا پہلو نکلتا ہو یا اُس کو قوت و آسائش حاصل ہوتی ہو جائز نہیں۔ کفار محاربین اور اَدائے اسلام سے ترکِ موالات کے بارے میں قرآن کریم کی بے شمار آیات موجود ہیں اسی طرح احادیثِ نبویہﷺ اور فقہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
یہ واضح رہے کہ کفار محاربین جو مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوں انہیں ایذاء پہنچانے ہوں، اسلامی اصطلاحات کو مسخ کر کے اسلام کا مذاق اُڑاتے ہوں، اور مارِ آستین بن کر مسلمانوں کی اجتماعی قوّت کو منتشر کرنے کے در پے ہوں، اسلام ان کے ساتھ سخت سے سخت معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رواداری کی اُن کافروں سے اجازت دی گئی ہے جو محارب اور موذی نہ ہوں، ورنہ کفار محاربین سے سخت معاملہ کرنے کا حکم ہے۔
علاؤہ ازیں بسا اوقات اگر مسلمانوں سے کوئی قابل نفرت گناہ سرزد ہو جائے تو بطورِ تعزیر و تادیب ان کے ساتھ ترکِ تعلق اور سلام و کلام و نشت و برخاست ترک کرنے کا حکم شریعتِ مطہرہ اور سنتِ نبویﷺ میں موجود ہے چہ جائیکہ کفار محاربین کے ساتھ۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے تو اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان فتنہ پرداز مرتدین پر من بذل دینه فاقتلوہ کی شرعی تعزیر نافذ کر کے اس فتنے کا قلع قمع کرے اور اسلام اور ملت اسلامیہ کو اس فتنے کی یورش سے بچائے۔
چنانچہ رسول اکرمﷺ اور خلفائے راشدینؓ میں فتنہ پرداز موزیوں اور مرتدوں سے جو سلوک کیا، وہ کسی سے مخفی نہیں، اور بعد کے خلفاء اور سلاطینِ اسلام نے بھی کبھی اس فریضے سے غفلت اور تساہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لیکن اگر مسلمان حکومت اس قسم کے لوگوں کو سزا دینے میں کوتاہی کرے یا اس سے توقع نہ ہو تو خود مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے، تا کہ وہ بحیثیت جماعت اس قسم کی سزا کا فیصلہ کریں جو اُس کے دائرہ اختیار میں ہوں،
الغرض ارتداد، محاربت، بغاوت، شرارت، نفاق، ایذاء، مسلمانوں کے ساتھ سازش، یہود و نصارٰی و ہنود کے ساتھ ساز باز ان سے وجوہ کے جمع ہو جانے سے بلاشبہ مزکور فی السوال فرد یا جماعت کے ساتھ مقاطعہ یا باںٔیکاٹ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ اگر مسلمانوں کی جماعت بہ ہیںٔتِ اجتماعی اس فتنے کی سرکوبی کے لئے مقاطعہ یا بائیکاٹ جیسے ہلکے سے اقدام سے بھی کوتاہی کرے گی تو وہ عند اللہ مسںٔول ہو گی۔
یہ مقاطعہ یا بائیکاٹ ظلم نہیں، بلکہ اسلامی عدل و انصاف کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی محاربت اور ایذاء رسانی سے محفوظ کیا جائے، ان کی اجتماعیت کو ارتداد نفاق کی دست بُرد سے بچایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ خود ان محاربین کیلئے اس میں یہ حکومت مضمر ہے کہ وہ اس سزا یا تادیب سے متأثر ہو کر اصلاح پذیر ہوں، اور کفر و نفاق کو چھوڑ کر ایمان و اسلام قبول کریں، اس طرح آخرت کے عذاب اور اَبدی جہنم سے ان کو نجات مل جائے۔ ورنہ اگر مسلمانوں کی ہیںٔت اجتماعیہ ان کے خلاف کوئی تادیبی اقدام نہ کرے تو وہ اپنی موجودہ حالت کو مستحسن سمجھ کر اس پر مُصِر رہیں گے، اور اس طرح اَبدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔
رسول اکرمﷺ نے مدینہ پہنچ کر ابتداء یہی طریقہ اختیار فرمایا تھا کہ کفار مکہ کے قافلوں پر حملہ کر کے ان کے اموال پر قبضہ کیا جائے، تا کہ مال اور ثروّت سے ان کو جو طاقت اور شوکت حاصل ہے، وہ ختم ہو جائے، جس کے بل بوتے پر وہ مسلمانوں کو ایذاء پہنچاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں اور مختلف سازشیں کرتے ہیں۔ قتلِ نفس اور جہاد بالسیف سے پہلے مقاطعہ اور دشمنوں کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے کی یہ تدابیر اس لئے اختیار کی گئی تھی تا کہ اس سے ان کی جنگی صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ اسلام کے مقابلے میں آ کر کفر کی موت نہ مرے۔ گویا اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ ان کے اموال پر قبضہ کر کے ان کی جانوں کو بچایا جائے، کیونکہ اموال پر قبضہ ان کی جان لینے سے زیادہ بہتر تھا۔
علاؤہ ازیں اس تدبیر میں یہ حکمت و مصلحت بھی تھی کہ کفارِ مکہ کیلئے غور و فکر کا ایک اور موقع فراہم کیا جائے تا کہ وہ ایمان کی نعمت سے سرفراز ہو کر اَبدی نعمتوں کے مستحق بن سکیں اور عذاب اُخروی سے نجات پا سکیں۔ لیکن جب اس تدبیر سے کفار و مشرکین کے عناد کی اصلاح نہ ہوئی تو ان کے شر و فساد سے زمین کو پاک کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ جل شانہ کی جانب سے جہاد بالسیف کا حکم بھیج دیا گیا اور اللہ تعالیٰ جل شانہ نے قریش کے تجارتی قافلے کے بجائے ان کی عسکری تنظیم سے مسلمانوں کا مقابلہ کرا دیا۔
رسول اللہﷺ کی ابتدائی تدبیر سے اُمت مسلمہ کوئی یہ ہدایت ضرور ملتی ہے کہ خاص قسم کے حالات میں جہاد بالسیف پر عمل نہ ہو سکے تو اس سے اَقل (کم) درجے کا اقدام یہ ہے کہ کفار محاربین سے نہ صرف اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے بلکہ ان کے اموال پر قبضہ تک کیا جا سکتا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ عام مسلمان نہ تو جہاد بالسیف پر قادر ہیں، نہ انہیں اموال پر قبضہ کی اجازت ہے، اندریں صورت ان کے اختیار میں جو چیز ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا موزوی کافروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے ان کو معاشرے سے جدا کر دیا جائے۔
بدنِ انسانی کا جو حصہ اس درجہ سڑ گل جائے کہ اس کی وجہ سے تمام بدن کو نقصان کا خطرہ لاحق ہو اور جان خطرے میں ہو تو اس ناسور کو جسم سے رکھنا دانشمندی نہیں، بلکہ اسے کاٹ دینا ہی عینِ مصلحت و حکمت ہے۔ تمام حکماء اور عقلاء و اطباء کا اسی پر عمل ہو اتفاق ہے اور پھر جب یہ موذی کفار، مسلمانوں کا خون چوس چوس کر پَل رہے ہوں اور طاقتور بن کر مسلمانوں ہی کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان سے خرید و فروخت اور لین دین میں مکمل مقاطعہ یا اقتصادی نا کہ بندی کو ایک اہم دفاعی مورچہ سمجھا جاتا ہے اور اس کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، مگر مسلمانوں کیلئے یہ کوئی سیاسی حربہ نہیں ہے بلکہ اُسوہ نبی، سنتِ رسول اللہﷺ اور ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے۔اسلام کی غیرت ایک لمحے کیلئے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ رکھا جائے۔ اب ہم آیاتِ قرآنیہ، احادیث نبویہﷺ اور فقہائے اُمت اسلامیہ کہ وہ نقول پیش کرتے ہیں، جن سے اس مقاطعہ کا حکم واضح ہوتا ہے۔
(1) اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُبِهَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَهُمۡ۔ (النساء 140)
جب سنو تم کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دو۔
(2) وَاِذَا رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ يَخُوۡضُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ. (الانعام 68)
اور جب تم دیکھو اُن لوگوں کو جو مذاق اُڑاتے ہیں ہماری آیتوں کا تو اُن سے کنارہ کشی اختیار کر لو۔
اس آیت کہ ذیل میں حافظ الحدیث امام ابوبکر حصاص الرازیؒ لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس اَمر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم (مسلمانوں) پر ضروری ہے کہ ملاحدہ اور سارے کافروں سے ان کے کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ جل شانہ پر ناجائز باتیں کہنے کی رُوک نہ کر سکیں تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دیں۔
(3) يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ (المائدہ 51)
اے ایمان والو! تم یہود و نصارٰی کو اپنا دوست مت بناؤ۔
اس آیت کے ذیل میں حافظ الحدیث امام ابوبکر حصاص الرازیؒ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی (دوست) نہیں ہو سکتا نہ تو معاملات میں اور نہ امداد و تعاؤن میں۔اور اس سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کافروں سے برأت اختیار کرنا اور ان سے عداوت رکھنا واجب ہے۔ کیونکہ ولایت، عداوت کی ضد ہے اور جب ہم کو یہود و نصارٰی سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے، دوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں، سارے کافر ایک ہی ملت ہے۔
(4) سورۃ ممتحنہ کا موضوع ہی کفار سے قطع تعلق کی تاکید ہے۔ اس سورۃ میں بہت سختی کے ساتھ کفار کی دوستی اور تعلق سے ممانعت کی گئی ہے، اگرچہ رشتہ دار قرابت دار ہوں۔ اور فرمایا کہ قیامت کے دن تمہارے یہ رشتے کام نہیں آئیں گے، اور یہ کہ جو لوگ آئندہ کفار سے دوستی اور تعلق رکھیں گے، وہ راہِ حق سے بھٹکے ہوئے اور ظالم شمار ہوں گے۔
(5) لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡؕ (المجادلہ 22)
تم نہ پاؤ گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے، خواہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا خاندان والے ہوں۔
آگے چل کر اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو جو باوجود قرابت داری کے، محارب کافروں سے دوستانہ تعلقات ختم کر دیتے ہیں، سچا مؤمن کہا گیا ہے، انہیں جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارت سنا دی گئی ہے اور ان کو حزب الله کہ لقب سے سرفراز فرمایا گیا ہے۔جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اور رسولﷺ کہ دشمن، موذی کافروں سے تعلقات رکھنا، ان سے گھل مل کر رہنا اور انہیں کسی قسم کی تقویت پہنچانا مؤمن کا کام نہیں ہو سکتا۔
میرے محترم قارئین کرام!
بطورِ مثال ان چند آیات کا تذکرہ کیا گیا ہے، ورنہ بےشمار آیاتِ کریمہ اس مضمون کی موجود ہیں۔
اب چند احادیثِ نبویهﷺ ملاحظہ فرمائیں:
(1) (جامع ترمذی جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 194) پر ایک حدیث میں سیدنا سمرۃ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکوں اور کافروں کے ساتھ ایک جگہ سکونت بھی اختیار نہ کریں، ورنہ مسلمان بھی کافروں جیسے ہوں گے۔
(2) (جامع ترمذی جلد 1، صفحہ 193) پر ایک حدیث میں جو سیدنا جریر بن عبد اللہ البجلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا یعنی آپﷺ نے اظہارِ برأت فرمایا ہر اس مسلمان سے جو محارب کافروں میں سکونت پذیر ہوں۔
(3) صحیح بخاری کی ایک حدیث میں قبیلہ عسکل اور عرنیہ کے آٹھ نو اَشخاص کا ذکر ہے جو مرتد ہو گئے تھے، ان کے گرفتار ہونے کے بعد آنحضرتﷺ نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور ان کی آنکھوں میں گرم کر کے لوہے کی کیلیں پھیر دی جاںٔیں، اور ان کو مدینہ طیبہ کے کالے کالے پتھروں پر ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، یہ لوگ پانی مانگتے تھے، لیکن پانی نہیں دیا جاتا تھا، اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ پیاس کے مارے زمین چاٹتے تھے، مگر انہیں پانی دینے کی اجازت نہ تھی۔
امام نوویؒ (فتح الباری جلد 1، صفحہ 241) پر اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ محارب مرتد کا پانی وغیرہ پلانے میں کوئی احترام نہیں۔ چنانچہ جس شخص کے پاس صرف وضو کیلئے پانی ہو تو اس کو اجازت نہیں ہے کہ پانی مرتد کو پلا کر تیمم کرے، بلکہ اس کیلئے حکم ہے کہ پانی مرتد کو نہ پلائے، اگرچہ وہ پیاس سے مر جائے، بلکہ وضو کر کے نماز پڑھے۔
(4) غزؤہ تبوک میں تین بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سیدنا کعب بن مالکؓ، سیدنا ہلال بن امیہؓ، سیدنا واقفی بدریؓ اور سیدنا مرارہ بن ربیعؓ، سیدنا بدری عمریؓ کو غزوہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے سخت سزا دی گئی۔ آسمانی فیصلہ ہوا کہ ان تینوں سے تعلقات ختم کر لئے جائیں، ان سے مکمل مقاطعہ کیا جائے، کوئی شخص ان سے سلام و کلام نہ کرے، حتٰی کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی ان سے علیحدہ ہو جائیں اور ان کیلئے کھانا بھی نہ پکاںٔیں۔ یہ حضراتؓ رُوتے رُوتے نڈھال ہو گئے حق تعالیٰ جل شانہ کی وسیع زمین ان پر تنگ ہو گئی۔پورے پچاس دن تک یہ سلسلہ جاری رہا، آخر کار اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان کی یہ توبہ قبول فرمائی اور معافی ہو گئی۔
قاضی ابوبکر ابثن العربیؒ (احکام القرآن لابن العربی جلد 2، صفحہ 1026) پر لکھتے ہیں کہ اس قصہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ امام کو حق حاصل ہے کہ کسی گنہگار کی تادیب کیلئے لوگوں کو اس سے بول چال کی ممانعت کر دے، اور اس کی بیوی کو بھی اس کے لئے ممنوع ٹھہرا دے۔
حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ گنہگار کو سلام نہ کیا جائے اور یہ کہ اس سے قطع تعلق تین روز سے زیادہ بھی جائز ہے۔
بہرحال سیدنا کعب بن مالکؓ اور ان کے رفقاء کا یہ واقعہ قرآن کریم کے سورۃ توبہ میں واقع ہے اور اس کی تفصیل صحیح بخاری، صحیح مسلم اور صحاحِ ستہ میں موجود ہے۔ اور امام ابو داؤدؒ نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب السنه کہ عنوان کے تحت متعدد ابواب قائم کئے ہیں۔
(الف) اہلِ اہواء باطل پرستوں سے کنارہ کشی کرنے اور بُغض رکھنے کا بیان (جلد 2، صفحہ 276)
(ب) اہلِ اہواء سے ترکِ سلام و کلام کا بیان (جلد 2 ل، صفحہ 276)
سنن ابی داؤد میں حدیث ہے کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ نے خلوق (زعفران) لگایا تھا، آپﷺ نے ان کو سلام کا جواب نہیں دیا۔
غور فرمائیے! کہ معمولی خلافِ سنت بات پر جب یہ سزا دی گئی تو ایک مرتد موذی اور کافر محارب سے بات چیت، سلام و کلام اور لین دین کی اجازت کب ہو سکتی ہے؟
امام خطابیؒ (معالم السنن جلد 4، صفحہ 296) میں حدیث کعبؓ کے سلسلے میں تصریح فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی ترکِ تعلق اگر دین کی وجہ سے ہو تو بلا قید اَیام کیا جا سکتا ہے، جب تک توبہ نہ کریں۔
(5) مسند احمد و سنن ابی داؤد میں سیدنا ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تقدیر کا انکار کرنے والے اس اُمت کے مجوسی ہیں، اگر بیمار ہوں تو عیادت نہ کر اور اگر مر جائیں تو جنازہ نہ پڑھاؤ۔
(سنن ابی داؤد جلد 2، صفحہ 288)
(6) ایک اور حدیث میں ہے کہ منکرینِ تقدیر کے ساتھ نشست و برخاست رکھو اور نہ ان سے گفتگو کرو۔
(7) سنن کبریٰ بیہقی میں ہے کہ سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ جنگ بدر میں رسول اللہﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ بدر کے کنوؤں کا پانی خشک کر دوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سوائے ایک کنویں کے جو بوقتِ جنگ ہمارے کام آئے گا باقی سب کنویں خشک کر دیںٔے جائیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا علیؓ کے پاس چند بدْ دِین زندیق لائے گئے تو آپؓ نے انہیں آگ میں جلا دیا۔ سیدنا ابنِ عباسؓ کو اس کی اطلاع پہنچی تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں جلاتا نہیں، کیونکہ رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے عذاب کی سزا مت دو بلکہ میں انہیں قتل کرتا۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا من بدل دینه فاقتلوہ جو شخص مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔
صحیح بخاری میں سیدنا صعب بن جثامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا کہ رات کی تاریکی میں مشرکین پر حملہ ہوتا ہے تو عورتیں اور بچے بھی زد میں آ جاتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا وہ بھی انہی میں شامل ہیں۔
بہرحال یہ تو نبی کریمﷺ کے ارشادات مبارکہ ہیں عہدِ نبوتﷺ کے بعد عہدِ خلافت راشدہؓ میں بھی اسی طرز عمل کا ثبوت ملتا ہے۔ مانعینِ زکوٰۃ کے ساتھ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا اعلانِ جہاد کرنا بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ اسدی اور ان کے پیروؤں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، اس سے حدیث و سیر کا معمولی طالب علم بھی واقف ہے۔
عہدِ فاروقیؓ میں ایک شخص صیغ عراقی قرآن کریم کی آیات کے ایسے معانی بیان کرنے لگا جن میں ہوائے نفس کو دخل تھا، اور ان سے مسلمانوں کے عقائد میں تشکیک کا راستہ کھلتا تھا۔ یہ شخص فوج میں تھا۔جب عراق سے مصر گیا اور سیدنا عمرو بن عاصؓ گورنر مصر کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے پاس مدینہ بھیجا اور صورتِ حال لکھی۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے نہ اس کا موقف سنا نہ دلائل، اس سے بحث و مباحثہ میں وقت ضائع کئے بغیر اس کا علاجِ بالجرید ضروری سمجھا فوراً کھجور کی تازہ ترین شاخیں منگوائیں اور اپنے ہاتھ سے اس کے سر پر بےتحاشہ مارنے لگے، اتنا مارا کہ خون بہنے لگا۔ وہ چیخ اٹھا کہ امیر المؤمنین! آپ مجھے قتل ہی کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کیجئے، تلوار لے کر میرا قصہ پاک کر دیجئے، اور اگر صرف میرے دماغ کا خناس نکالنا مقصود ہے تو آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اب وہ بھوت نکل چکا ہے۔ اس پر سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اسے چھوڑ دیا، اور چند دن مدینہ رکھ کر واپس عراق بھیج دیا اور سیدنا ابو موسی اشعریؓ کو لکھا کہ کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے۔
اس مقاطعہ سے اس شخص پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو لکھا کہ اس کی حالت ٹھیک ہو گئ ہے، تب سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دی۔
اب فقه کی چند تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
(1) علامہ دردیر مالکیؒ (شرح کبیر جلد 4، صفحہ 299) پر باغیوں کے احکام میں لکھتے ہیں کہ ان کا کھانا پانی بند کر دیا جائے، الاّ یہ کہ ان میں عورتیں اور بچے ہوں۔
*
(2) کوئی قاتل اگر حرمِ مکہ میں پناہ گزین ہوجائے، اس سلسلے میں ابوبکر الجصاصؒ (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 21) پر لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ، امام زفرؒ اور حسن بن زیادؒ کا قول ہے کہ جب کوئی حرم سے باہر قتل کر کے حرم میں داخل ہو تو جب تک حرم میں ہے، اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، مگر نہ اس کے ہاتھ کوئ چیز فروخت کی جائے، نہ اس کو کھانا دیا جائے، یہاں تک کہ وہ حرم سے نکلنے پر مجبور ہو جاۓ۔
(3) (درمختار جلد 4، صفحہ 64) پر ہے کہ ناصحی نے فتویٰ دیا ہے کہ ہر موذی کا قتل واجب ہے، اور شرح و ہبانیہ میں ہے کہ تعزیر، یوں بھی ہو سکتی ہے کہ شہرِ بدر کر دیا جائے اور ان کے مکان کا گھیراؤ کیا جائے، انہیں مکان سے نکال باہر کیا جائے اور مکان ڈھا دیا جائے۔
(4) ابنِ عابدین الشامی (ردالمختار جلد 4، صفحہ 65) پر لکھتے ہے کہ احکام السیاسیہ میں المنتقی سے نقل کیا ہے کہ جب کسی کے گھر سے گانے بجانے کی آواز سنائی دے تو اس میں داخل ہو جاؤ، کیونکہ جب اس نے یہ آواز سنائی تو اپنے گھر کی حرمت کو خود ساقط کر دیا۔ اور بزازیہ کی کتاب الحدود، و نہایہ کے باب الغضب اور درایہ کے کتاب الجنایات میں لکھا ہے کہ صدر الشہید نے ہمارے اصحاب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص فسق و بدکاری اور مختلف قسم کے فساد کا عادی ہو، ایسے شخص پر اس کا مکان گرا دیا جائے، حتٰی کہ مفسدوں کے گھر میں گھس جانے میں بھی مضاںٔقہ نہیں۔
سیدنا فاروقِ اعظمؓ ایک نوحہ گر عورت کے گھر میں گھس آئے اور اس کو ایسا دُرّہ مارا کہ اس کے سر سے چادر اتر گئ، اور اپنے طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حرام میں مشغول ہونے کے بعد اس کی کوئی حرمت نہیں رہی، اور یہ لونڈیوں کے صف میں شامل ہو گئ۔ سیدنا عمرؓ سے مروی ہے کہ آپؓ نے ایک شرابی کے مکان کو آگ لگا دی تھی۔ صفار زاہدی کہتے ہیں کہ فاسق کا مکان گرا دینے کا حکم ہے۔
(5) ملا علی قاریؒ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد 5، صفحہ 107) پر باب التعزیر میں لکھتے ہیں اور یہ کہ اس امر کی تصریح ہے کہ مارنا ایسی تعزیر ہے جس کا انسان اختیار رکھتا ہے، خواہ محتسب نہ ہو، السنتقیٰ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس قسم کے مقاطعہ کا تعلق در حقیقت بُغض فی الله سے ہے جس کو حضرت محمدﷺ نے احب الاعمال الحب فی الله فرمایا ہے۔
(سنن ابی داؤد جلد 2، صفحہ 278)
بُغض فی الله کے ذیل میں امام غزالیؒ (احیاء العلوم جلد 2، صفحہ 168/169) پر بطور کلیہ لکھتے ہیں
(اول) کافر پس کافر اگر حربی ہو تو اس بات کا مستحق ہے کہ قتل کیا جائے یا غلام بنا لیا جائے اور یہ ذلت و اہانت کی آخری حد ہے۔
(دوم) صاحبِ بدعت، جو اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہے، پس اگر بدعت حدِ کفر تک پہنچی ہوئی ہو تو اس کی حالت کافر ذمی سے بھی سخت تر ہے، کیونکہ نہ اس سے جزیہ لیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو ذمی حیثیت دی جا سکتی ہے۔ اور اگر بدعت ایسی نہیں جس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دیا جائے تو عند اللہ اس کا معاملہ کافر سے لا محالہ اَخف (ہلکا) ہے، مگر کافر کی بنسبت اس پر نکیر زیادہ کی جائے گی۔ کیونکہ کافر کا شر متعدی نہیں، اس لئے کہ مسلمان کافر کو ٹھیٹ کافر سمجھتے ہیں، لہٰذا اس کے قول کو لاںٔقِ التفات ہی نہیں سمجھیں گے، الخ۔
(ردالمختار جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 244) پر قرامطہ کے بارے میں لکھا ہے کہ مذاہبِ اربعہ سے منقول ہے کہ انہیں اسلامی ممالک میں ٹہرانا جاںٔز نہیں، نہ جزیہ لے کر، نہ بغیر جزیہ کے، نہ اس سے شادی بیاہ جائز ہے، نہ ہی ان کا ذبیحہ حلال ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان پر زندیق منافق اور ملحد کا مفہوم پوری طرح صادق آتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس خبیث عقیدے کے باوجود ان کا کلمہ پڑھنا انہیں مرتد کا حکم نہیں دیتا، کیونکہ وہ تصدیق نہیں رکھتے، اور ان کا ظاہری اسلام غیر معتبر ہے، جب تک کہ ان کا تمام اُمور سے جو دین اسلام کے خلاف ہیں، برات کا اظہار نہ کریں، کیونکہ وہ اسلام کا دعویٰ اور شہادتین کا اقرار تو پہلے سے ہی کرتے ہیں (مگر اس کے باوجود پکے بے ایمان اور کافر ہیں) اور جو ایسے لوگ گرفت میں آ جاںٔیں تو ان کی توبہ اصلاً قابلِ قبول نہیں۔
فقہ حنفی کی معتبر کتاب (الاحکام جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 75) پر بسلسلہ تعزیر ایک مستقل فصل میں لکھا ہے اور تعزیر کسی معین فعل یا معین قول کے ساتھ مختص نہیں، چنانچہ رسول اللہﷺ نے اُن تین حضرات (غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور) جن کا اللہ تعالیٰ جل شانہ نے قرآن عظیم میں ذکر فرمایا ہے، مقاطعہ کی سزا دی تھی۔ چنانچہ پچاس دن تک ان سے مقاطعہ ربا، کوئی شخص ان سے بات تک نہیں کر سکتا تھا، ان کا مشہور قصہ صحاح ستہ میں موجود ہے۔ نیز رسول اللہﷺ نے جلا وطنی کی سزا بھی دی، چنانچہ مخنثوں کو مدینے سے نکالنے کا حکم دیا اور انہیں شہرِ بدر کردیا۔ اسی طرح آپﷺ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی مختلف تعزیرات جاری کیں، ہم ان میں سے بعض کو جو احادیث کی کتاب کتابوں میں وارد ہیں، یہاں ذکر کرتے ہیں ان میں سے بعض کے ہمارے اصحاب قاںٔل ہیں، اور بعض پر دیگر آںٔمہ نے عمل کیا۔
سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے صبیغ نامی ایک شخص کو مقاطعہ کی سزا دی۔ یہ شخص الذاریات وغیرہ میں کی تفسیر پوچھا کرتا تھا اور لوگوں کو فہمائش کیا کرتا تھا کہ وہ مشکلاتِ قرآن میں تفقہ پیدا کریں۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس کی سخت پٹائی کی اور اسے بصرہ یا کوفہ جلا وطن کر دیا اور اس سے مقاطعہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ کوئی شخص اس سے بات تک نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ وہ تاںٔب ہوا اور وہاں کے گورنر نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو اس کے تاںٔب ہونے کی خبر لکھ بھیجی، تب سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے لوگوں کو اجازت دی کہ اس سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے جب ایک ساںٔل ایسا دیکھا جس کے پاس قدرِ کفایت سے زائد غلہ موجود تھا، اور وہ بھی سوال کرتا تھا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس سے زائد غلہ چھین کر صدقے کے اونٹوں کو کھلا دیا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس مکان کو جلا دینے کا حکم فرمایا جس میں شراب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ نے جب رعیت سے الگ تھلگ اپنے گھر ہی میں فیصلہ کرنا شروع کیا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ان کا مکان جلا ڈالا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اپنے عُمّال کے مال کا ایک حصہ ضبط کر کے مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے نصیر بن حجاج کا سر منڈوا کر اسے مدینہ سے نکال دیا تھا، جبکہ عورتوں نے اشعار میں اس کی شبیب شروع کر دی تھی، اور فتنے کا اندیشہ لاحق ہو گیا تھا۔
ایک شخص نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی مہر جعلی بنوا لی تھی اور بیت المال سے کوئی چیز لے لی تھی، سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس کو سو دُرّے لگائے، دوسرے دن پھر سو دُرّے لگائے، تیسرے دے پھر سو دُرّے لگائے۔ امام مالکؒ نے اسی کو لیا ہے، چنانچہ اس کا مسلک ہے کہ تعزیر مقدار حد سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔
آنحضرتﷺ نے قبیلہ عرنیہ کے افراد کو جو سزا دی (اس کا قصہ صحاح میں موجود ہے)۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو بدفعلی کراتا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مشورہ دیا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو یہ حکم لکھ بھیجا، بعد ازاں سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ اور سیدنا ہشام بن عبد الملکؓ نے بھی اپنے اپنے دورِ خلافت میں اس قماش کے لوگوں کو آگ میں ڈالا۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے مرتدین کی ایک جماعت کو آگ میں جلایا۔ آنحضرتﷺ نے شراب کے مٹکے توڑنے کا اور اس کے مشکیزے پھاڑ دینے کا حکم فرمایا۔ آنحضرتﷺ نے خیبر کے دن اُن ہانڈیوں کو توڑنے کا حکم فرمایا جن میں گدھوں کا گوشت پکایا گیا تھا پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپﷺ سے اجازت چاہی کہ انہیں دھو کر استعمال کر لیا جائے؟ تو آپﷺ نے اجازت دے دی۔ یہ واقعہ دونوں باتوں کے جواز پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ ہانڈیوں کو توڑ ڈالنے کی سزا واجب نہیں ہوتی تھی۔ اس کے علاؤہ اس نوعیت کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں اور صحیح اور معروف فیصلے ہیں۔
اور (شرح سیر کبیر جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 75) پر ہیں اور کوئی مضاںٔقہ نہیں کہ مسلمان، کافروں کے ہاتھ غلہ اور کپڑہ وغیرہ فروخت کریں، مگر جنگی سامان اور گھوڑے اور قیدی فروخت کرنے کی اجازت نہیں، خواہ وہ امن لے کر ان کے پاس آئے ہوں یا بغیر اَمان کے، کیونکہ ان چیزوں کے ذریعے مسلمانوں کے مقابلے میں ان کو جنگی قوت حاصل ہو گی اور مسلمانوں کیلئے ایسی کوئ چیز حلال نہیں جو مسلمانوں کے مقابلے کافروں کو تقویت پہنچانے کا سبب بنے اور یہ علت دیگر سامان میں نہیں پائی جاتی۔ پھر یہ حکم جب ہے جبکہ مسلمانوں نے ان کے کسی قلعہ کا محاصرہ نہ کیا ہوا ہو، لیکن جب انہوں نے ان کے کسی قلعے کا محاصرہ کیا ہوا ہو تو ان کیلئے مناسب نہیں کہ اہلِ قلعہ کے ہاتھ غلہ یا پانی یا کوئ ایسی چیز فروخت کریں جو ان کے قلعہ بند رہنے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ کیونکہ مسلمان نے ان کا محاصرہ اسی لیے تو کیا ہے کہ ان کا رسدو پانی ختم ہوجاۓ، اور وہ اپنے کو مسلمانوں کے سُپرد کردیں اور اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کے حکم پر باہر نکل آئیں۔ پس ان کے ہاتھ غلہ وغیرہ بیچنا، ان کے قلعہ بند رہنے میں تقویت کا موجب ہوگا۔بخلاف گزشتہ بالا صورت کے، کیونکہ اہلِ حرب اپنے ملک میں ایسی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں جن کے ذریعے وہاں قیام پذیر رہ سکیں، انہیں مسلمانوں سے خریدنے کی ضرورت نہیں،لیکن جو کافر کہ قلعہ بند ہوں، اور مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا ہو وہ مسلمانوں کے کسی فرد سے ضروریاتِ زندگی نہیں خرید سکتے۔ لہٰذا کسی بھی مسلمان کو حلال نہیں کہ ان کے ہاتھ کسی قسم کی کوئ چیز فروخت کرے، جو شخص ایسی حرکت کرے اور امام کو اس کا علم ہوجاۓ تو امام اسے تادیب اور سرزنش کرے، کیونکہ اس نے غیر حلال فعل کا ارتکاب کیا ہے۔
مزکورہ بالا نصوص اور فقہائے اسلام کی تصریحات سے حسبِ ذیل اُصول و نتائج واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں:
- کفارِ محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں۔ جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے، وہ گمراہ اور ظالم اور مستحقِ عذابِ الیم ہے۔
- جو کافر، مسلمانوں کے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں، ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔
- جو کافر، مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوں، ان کے محلے میں ان کا ساتھ رہنا بھی نا جاںٔز ہے۔
- مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے، اس کی کوئ انسانی حُرمت نہیں یہاں تک کہ اگر پیاس سے جان بلب ہو کر تڑپ رہا ہو، تب بھی اسے پانی نہ پلایا جائے۔
- جو کافر، مرتد اور باغی، مسلمانوں کے خلاف ریشہ دانیوں میں مصروف ہوں، ان سے خرید و فروخت اور لین دین ناجائز ہے، جبکہ اس سے ان کو تقویت حاصل ہوتی ہو، بلکہ ان کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے ان کی جارحانہ قوت کو مفلوج کر دینا واجب ہے۔
- مفسدوں سے اقتصادی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں، بلکہ شریعتِ اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اسوۂ رسول اکرمﷺ ہے۔
- اقتصادی اور معاشرتی مقاطعہ کے علاؤہ مرتدوں، موزوں اور مفسدوں کو یہ سزاںٔیں بھی دی جا سکتی ہے۔ قتل کرنا، شہر بدر کرنا، ان کے گھروں کو ویران کرنا، ان پر ہجوم کرنا وغیرہ۔
- اگر محارب کافروں اور مفسدوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کی عورتیں اور بچے بھی تبعاً اس کی زد میں آجاںٔیں تو اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔
ان لوگوں کے خلاف مذکورہ بالا اقدامات کرنا دراصل اسلامی حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر حکومت اس میں کوتاہی کریں تو خود مسلمان بھی ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ان کے داںٔرہ اختیار کے اندر ہوں، مگر انہیں کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں جس سے ملکی امن میں خلل و فساد کا اندیشہ ہو۔- مکمل مقاطعہ صرف کافروں اور مفسدوں سے ہی جاںٔز نہیں بلکہ کسی سنگین نوعیت کے معاملے میں ایک مسلمان کو بھی یہ سزا دی جا سکتی ہے۔
- زندیق اور ملحد جو بظاہر اسلام کا کلمہ پڑھتا ہو، مگر اندرونی طور پر خبیث عقائد رکھتا ہو، اور غلط تاویلات کے ذریعہ اسلامی نصوص کو اپنے عقائدِ خبیثہ پر چسپاں کرتا ہو، اس کی حالت کافر اور مرتد سے بھی بدتر ہے کہ کافر اور مرتد جی توبہ بالاتفاق قابلِ قبول ہے، مگر بقول شامی، زندیق کا نہ اسلام معتبر ہے نہ کلمہ، نہ اس کی توبہ قابلِ التفات ہے، الاّ یہ کہ وہ اپنے عقائدِ خبیثہ سے برأت کا اعلان کرے۔
میرے محترم قارئین کرام!
ان اُصول کی روشنی میں زیرِ بحث فرد یا جماعت کی حیثیت اور اُن اقتصادی و معاشی، اور معاشرتی و سیاسی مقاطعہ یا مکمل سوشل باںٔیکاٹ کا شرعی حکم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔
(فتاویٰ بینات جلد 2، صفحہ 217/240)
(فتاویٰ ختمِ نبوت جلد 2، صفحہ 459)