کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص…

کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔ جو کافر، مسلمانوں کے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔ مفسدوں سے اقتصادی و معاشر


صفحہ 2 از 6

یہ مقاطعہ یا بائیکاٹ ظلم نہیں، بلکہ اسلامی عدل و انصاف کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی محاربت اور ایذاء رسانی سے محفوظ کیا جائے، ان کی اجتماعیت کو ارتداد نفاق کی دست بُرد سے بچایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ خود ان محاربین کیلئے اس میں یہ حکومت مضمر ہے کہ وہ اس سزا یا تادیب سے متأثر ہو کر اصلاح پذیر ہوں، اور کفر و نفاق کو چھوڑ کر ایمان و اسلام قبول کریں، اس طرح آخرت کے عذاب اور اَبدی جہنم سے ان کو نجات مل جائے۔ ورنہ اگر مسلمانوں کی ہیںٔت اجتماعیہ ان کے خلاف کوئی تادیبی اقدام نہ کرے تو وہ اپنی موجودہ حالت کو مستحسن سمجھ کر اس پر مُصِر رہیں گے، اور اس طرح اَبدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔

رسول اکرمﷺ نے مدینہ پہنچ کر ابتداء یہی طریقہ اختیار فرمایا تھا کہ کفار مکہ کے قافلوں پر حملہ کر کے ان کے اموال پر قبضہ کیا جائے، تا کہ مال اور ثروّت سے ان کو جو طاقت اور شوکت حاصل ہے، وہ ختم ہو جائے، جس کے بل بوتے پر وہ مسلمانوں کو ایذاء پہنچاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں اور مختلف سازشیں کرتے ہیں۔ قتلِ نفس اور جہاد بالسیف سے پہلے مقاطعہ اور دشمنوں کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے کی یہ تدابیر اس لئے اختیار کی گئی تھی تا کہ اس سے ان کی جنگی صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ اسلام کے مقابلے میں آ کر کفر کی موت نہ مرے۔ گویا اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ ان کے اموال پر قبضہ کر کے ان کی جانوں کو بچایا جائے، کیونکہ اموال پر قبضہ ان کی جان لینے سے زیادہ بہتر تھا۔

علاؤہ ازیں اس تدبیر میں یہ حکمت و مصلحت بھی تھی کہ کفارِ مکہ کیلئے غور و فکر کا ایک اور موقع فراہم کیا جائے تا کہ وہ ایمان کی نعمت سے سرفراز ہو کر اَبدی نعمتوں کے مستحق بن سکیں اور عذاب اُخروی سے نجات پا سکیں۔ لیکن جب اس تدبیر سے کفار و مشرکین کے عناد کی اصلاح نہ ہوئی تو ان کے شر و فساد سے زمین کو پاک کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ جل شانہ کی جانب سے جہاد بالسیف کا حکم بھیج دیا گیا اور اللہ تعالیٰ جل شانہ نے قریش کے تجارتی قافلے کے بجائے ان کی عسکری تنظیم سے مسلمانوں کا مقابلہ کرا دیا۔

رسول اللہﷺ کی ابتدائی تدبیر سے اُمت مسلمہ کوئی یہ ہدایت ضرور ملتی ہے کہ خاص قسم کے حالات میں جہاد بالسیف پر عمل نہ ہو سکے تو اس سے اَقل (کم) درجے کا اقدام یہ ہے کہ کفار محاربین سے نہ صرف اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے بلکہ ان کے اموال پر قبضہ تک کیا جا سکتا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ عام مسلمان نہ تو جہاد بالسیف پر قادر ہیں، نہ انہیں اموال پر قبضہ کی اجازت ہے، اندریں صورت ان کے اختیار میں جو چیز ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا موزوی کافروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے ان کو معاشرے سے جدا کر دیا جائے۔

بدنِ انسانی کا جو حصہ اس درجہ سڑ گل جائے کہ اس کی وجہ سے تمام بدن کو نقصان کا خطرہ لاحق ہو اور جان خطرے میں ہو تو اس ناسور کو جسم سے رکھنا دانشمندی نہیں، بلکہ اسے کاٹ دینا ہی عینِ مصلحت و حکمت ہے۔ تمام حکماء اور عقلاء و اطباء کا اسی پر عمل ہو اتفاق ہے اور پھر جب یہ موذی کفار، مسلمانوں کا خون چوس چوس کر پَل رہے ہوں اور طاقتور بن کر مسلمانوں ہی کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان سے خرید و فروخت اور لین دین میں مکمل مقاطعہ یا اقتصادی نا کہ بندی کو ایک اہم دفاعی مورچہ سمجھا جاتا ہے اور اس کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، مگر مسلمانوں کیلئے یہ کوئی سیاسی حربہ نہیں ہے بلکہ اُسوہ نبی، سنتِ رسول اللہﷺ اور ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے۔اسلام کی غیرت ایک لمحے کیلئے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے دشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ رکھا جائے۔ اب ہم آیاتِ قرآنیہ، احادیث نبویہﷺ اور فقہائے اُمت اسلامیہ کہ وہ نقول پیش کرتے ہیں، جن سے اس مقاطعہ کا حکم واضح ہوتا ہے۔

(1) اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُبِهَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَهُمۡ۔ (النساء 140)

جب سنو تم کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دو۔

(2) وَاِذَا رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ يَخُوۡضُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ. (الانعام 68)

اور جب تم دیکھو اُن لوگوں کو جو مذاق اُڑاتے ہیں ہماری آیتوں کا تو اُن سے کنارہ کشی اختیار کر لو۔

اس آیت کہ ذیل میں حافظ الحدیث امام ابوبکر حصاص الرازیؒ لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس اَمر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم (مسلمانوں) پر ضروری ہے کہ ملاحدہ اور سارے کافروں سے ان کے کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ جل شانہ پر ناجائز باتیں کہنے کی رُوک نہ کر سکیں تو ان کے ساتھ نشست و برخاست ترک کر دیں۔

(3) يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ (المائدہ 51)

اے ایمان والو! تم یہود و نصارٰی کو اپنا دوست مت بناؤ۔

اس آیت کے ذیل میں حافظ الحدیث امام ابوبکر حصاص الرازیؒ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی (دوست) نہیں ہو سکتا نہ تو معاملات میں اور نہ امداد و تعاؤن میں۔اور اس سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کافروں سے برأت اختیار کرنا اور ان سے عداوت رکھنا واجب ہے۔ کیونکہ ولایت، عداوت کی ضد ہے اور جب ہم کو یہود و نصارٰی سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے، دوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں، سارے کافر ایک ہی ملت ہے۔

(4) سورۃ ممتحنہ کا موضوع ہی کفار سے قطع تعلق کی تاکید ہے۔ اس سورۃ میں بہت سختی کے ساتھ کفار کی دوستی اور تعلق سے ممانعت کی گئی ہے، اگرچہ رشتہ دار قرابت دار ہوں۔ اور فرمایا کہ قیامت کے دن تمہارے یہ رشتے کام نہیں آئیں گے، اور یہ کہ جو لوگ آئندہ کفار سے دوستی اور تعلق رکھیں گے، وہ راہِ حق سے بھٹکے ہوئے اور ظالم شمار ہوں گے۔

(5) لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ (المجادلہ 22)

صفحہ 2 از 6