کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص…

کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔ جو کافر، مسلمانوں کے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔ مفسدوں سے اقتصادی و معاشر


صفحہ 3 از 6

تم نہ پاؤ گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے، خواہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا خاندان والے ہوں۔

آگے چل کر اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو جو باوجود قرابت داری کے، محارب کافروں سے دوستانہ تعلقات ختم کر دیتے ہیں، سچا مؤمن کہا گیا ہے، انہیں جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارت سنا دی گئی ہے اور ان کو حزب الله کہ لقب سے سرفراز فرمایا گیا ہے۔جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اور رسولﷺ کہ دشمن، موذی کافروں سے تعلقات رکھنا، ان سے گھل مل کر رہنا اور انہیں کسی قسم کی تقویت پہنچانا مؤمن کا کام نہیں ہو سکتا۔

میرے محترم قارئین کرام!

بطورِ مثال ان چند آیات کا تذکرہ کیا گیا ہے، ورنہ بےشمار آیاتِ کریمہ اس مضمون کی موجود ہیں۔

اب چند احادیثِ نبویهﷺ ملاحظہ فرمائیں:

(1) (جامع ترمذی جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 194) پر ایک حدیث میں سیدنا سمرۃ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکوں اور کافروں کے ساتھ ایک جگہ سکونت بھی اختیار نہ کریں، ورنہ مسلمان بھی کافروں جیسے ہوں گے۔

(2) (جامع ترمذی جلد 1، صفحہ 193) پر ایک حدیث میں جو سیدنا جریر بن عبد اللہ البجلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا یعنی آپﷺ نے اظہارِ برأت فرمایا ہر اس مسلمان سے جو محارب کافروں میں سکونت پذیر ہوں۔

(3) صحیح بخاری کی ایک حدیث میں قبیلہ عسکل اور عرنیہ کے آٹھ نو اَشخاص کا ذکر ہے جو مرتد ہو گئے تھے، ان کے گرفتار ہونے کے بعد آنحضرتﷺ نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور ان کی آنکھوں میں گرم کر کے لوہے کی کیلیں پھیر دی جاںٔیں، اور ان کو مدینہ طیبہ کے کالے کالے پتھروں پر ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، یہ لوگ پانی مانگتے تھے، لیکن پانی نہیں دیا جاتا تھا، اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ پیاس کے مارے زمین چاٹتے تھے، مگر انہیں پانی دینے کی اجازت نہ تھی۔

امام نوویؒ (فتح الباری جلد 1، صفحہ 241) پر اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ محارب مرتد کا پانی وغیرہ پلانے میں کوئی احترام نہیں۔ چنانچہ جس شخص کے پاس صرف وضو کیلئے پانی ہو تو اس کو اجازت نہیں ہے کہ پانی مرتد کو پلا کر تیمم کرے، بلکہ اس کیلئے حکم ہے کہ پانی مرتد کو نہ پلائے، اگرچہ وہ پیاس سے مر جائے، بلکہ وضو کر کے نماز پڑھے۔

(4) غزؤہ تبوک میں تین بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سیدنا کعب بن مالکؓ، سیدنا ہلال بن امیہؓ، سیدنا واقفی بدریؓ اور سیدنا مرارہ بن ربیعؓ، سیدنا بدری عمریؓ کو غزوہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے سخت سزا دی گئی۔ آسمانی فیصلہ ہوا کہ ان تینوں سے تعلقات ختم کر لئے جائیں، ان سے مکمل مقاطعہ کیا جائے، کوئی شخص ان سے سلام و کلام نہ کرے، حتٰی کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی ان سے علیحدہ ہو جائیں اور ان کیلئے کھانا بھی نہ پکاںٔیں۔ یہ حضراتؓ رُوتے رُوتے نڈھال ہو گئے حق تعالیٰ جل شانہ کی وسیع زمین ان پر تنگ ہو گئی۔پورے پچاس دن تک یہ سلسلہ جاری رہا، آخر کار اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان کی یہ توبہ قبول فرمائی اور معافی ہو گئی۔

قاضی ابوبکر ابثن العربیؒ (احکام القرآن لابن العربی جلد 2، صفحہ 1026) پر لکھتے ہیں کہ اس قصہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ امام کو حق حاصل ہے کہ کسی گنہگار کی تادیب کیلئے لوگوں کو اس سے بول چال کی ممانعت کر دے، اور اس کی بیوی کو بھی اس کے لئے ممنوع ٹھہرا دے۔

حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ گنہگار کو سلام نہ کیا جائے اور یہ کہ اس سے قطع تعلق تین روز سے زیادہ بھی جائز ہے۔

بہرحال سیدنا کعب بن مالکؓ اور ان کے رفقاء کا یہ واقعہ قرآن کریم کے سورۃ توبہ میں واقع ہے اور اس کی تفصیل صحیح بخاری، صحیح مسلم اور صحاحِ ستہ میں موجود ہے۔ اور امام ابو داؤدؒ نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب السنه کہ عنوان کے تحت متعدد ابواب قائم کئے ہیں۔

(الف) اہلِ اہواء باطل پرستوں سے کنارہ کشی کرنے اور بُغض رکھنے کا بیان (جلد 2، صفحہ 276)

(ب) اہلِ اہواء سے ترکِ سلام و کلام کا بیان (جلد 2 ل، صفحہ 276)

سنن ابی داؤد میں حدیث ہے کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ نے خلوق (زعفران) لگایا تھا، آپﷺ نے ان کو سلام کا جواب نہیں دیا۔

غور فرمائیے! کہ معمولی خلافِ سنت بات پر جب یہ سزا دی گئی تو ایک مرتد موذی اور کافر محارب سے بات چیت، سلام و کلام اور لین دین کی اجازت کب ہو سکتی ہے؟

امام خطابیؒ (معالم السنن جلد 4، صفحہ 296) میں حدیث کعبؓ کے سلسلے میں تصریح فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی ترکِ تعلق اگر دین کی وجہ سے ہو تو بلا قید اَیام کیا جا سکتا ہے، جب تک توبہ نہ کریں۔

(5) مسند احمد و سنن ابی داؤد میں سیدنا ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تقدیر کا انکار کرنے والے اس اُمت کے مجوسی ہیں، اگر بیمار ہوں تو عیادت نہ کر اور اگر مر جائیں تو جنازہ نہ پڑھاؤ۔

(سنن ابی داؤد جلد 2، صفحہ 288)

(6) ایک اور حدیث میں ہے کہ منکرینِ تقدیر کے ساتھ نشست و برخاست رکھو اور نہ ان سے گفتگو کرو۔

(7) سنن کبریٰ بیہقی میں ہے کہ سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ جنگ بدر میں رسول اللہﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ بدر کے کنوؤں کا پانی خشک کر دوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سوائے ایک کنویں کے جو بوقتِ جنگ ہمارے کام آئے گا باقی سب کنویں خشک کر دیںٔے جائیں۔

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا علیؓ کے پاس چند بدْ دِین زندیق لائے گئے تو آپؓ نے انہیں آگ میں جلا دیا۔ سیدنا ابنِ عباسؓ کو اس کی اطلاع پہنچی تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں جلاتا نہیں، کیونکہ رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے عذاب کی سزا مت دو بلکہ میں انہیں قتل کرتا۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا من بدل دینه فاقتلوہ جو شخص مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔

صحیح بخاری میں سیدنا صعب بن جثامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا کہ رات کی تاریکی میں مشرکین پر حملہ ہوتا ہے تو عورتیں اور بچے بھی زد میں آ جاتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا وہ بھی انہی میں شامل ہیں۔

صفحہ 3 از 6