کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص…

کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔ جو کافر، مسلمانوں کے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔ مفسدوں سے اقتصادی و معاشر


صفحہ 5 از 6

فقہ حنفی کی معتبر کتاب (الاحکام جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 75) پر بسلسلہ تعزیر ایک مستقل فصل میں لکھا ہے اور تعزیر کسی معین فعل یا معین قول کے ساتھ مختص نہیں، چنانچہ رسول اللہﷺ نے اُن تین حضرات (غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور) جن کا اللہ تعالیٰ جل شانہ نے قرآن عظیم میں ذکر فرمایا ہے، مقاطعہ کی سزا دی تھی۔ چنانچہ پچاس دن تک ان سے مقاطعہ ربا، کوئی شخص ان سے بات تک نہیں کر سکتا تھا، ان کا مشہور قصہ صحاح ستہ میں موجود ہے۔ نیز رسول اللہﷺ نے جلا وطنی کی سزا بھی دی، چنانچہ مخنثوں کو مدینے سے نکالنے کا حکم دیا اور انہیں شہرِ بدر کردیا۔ اسی طرح آپﷺ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی مختلف تعزیرات جاری کیں، ہم ان میں سے بعض کو جو احادیث کی کتاب کتابوں میں وارد ہیں، یہاں ذکر کرتے ہیں ان میں سے بعض کے ہمارے اصحاب قاںٔل ہیں، اور بعض پر دیگر آںٔمہ نے عمل کیا۔

سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے صبیغ نامی ایک شخص کو مقاطعہ کی سزا دی۔ یہ شخص الذاریات وغیرہ میں کی تفسیر پوچھا کرتا تھا اور لوگوں کو فہمائش کیا کرتا تھا کہ وہ مشکلاتِ قرآن میں تفقہ پیدا کریں۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس کی سخت پٹائی کی اور اسے بصرہ یا کوفہ جلا وطن کر دیا اور اس سے مقاطعہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ کوئی شخص اس سے بات تک نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ وہ تاںٔب ہوا اور وہاں کے گورنر نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو اس کے تاںٔب ہونے کی خبر لکھ بھیجی، تب سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے لوگوں کو اجازت دی کہ اس سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے جب ایک ساںٔل ایسا دیکھا جس کے پاس قدرِ کفایت سے زائد غلہ موجود تھا، اور وہ بھی سوال کرتا تھا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس سے زائد غلہ چھین کر صدقے کے اونٹوں کو کھلا دیا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس مکان کو جلا دینے کا حکم فرمایا جس میں شراب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ نے جب رعیت سے الگ تھلگ اپنے گھر ہی میں فیصلہ کرنا شروع کیا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ان کا مکان جلا ڈالا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اپنے عُمّال کے مال کا ایک حصہ ضبط کر کے مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے نصیر بن حجاج کا سر منڈوا کر اسے مدینہ سے نکال دیا تھا، جبکہ عورتوں نے اشعار میں اس کی شبیب شروع کر دی تھی، اور فتنے کا اندیشہ لاحق ہو گیا تھا۔

ایک شخص نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی مہر جعلی بنوا لی تھی اور بیت المال سے کوئی چیز لے لی تھی، سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اس کو سو دُرّے لگائے، دوسرے دن پھر سو دُرّے لگائے، تیسرے دے پھر سو دُرّے لگائے۔ امام مالکؒ نے اسی کو لیا ہے، چنانچہ اس کا مسلک ہے کہ تعزیر مقدار حد سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔

آنحضرتﷺ نے قبیلہ عرنیہ کے افراد کو جو سزا دی (اس کا قصہ صحاح میں موجود ہے)۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو بدفعلی کراتا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مشورہ دیا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو یہ حکم لکھ بھیجا، بعد ازاں سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ اور سیدنا ہشام بن عبد الملکؓ نے بھی اپنے اپنے دورِ خلافت میں اس قماش کے لوگوں کو آگ میں ڈالا۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے مرتدین کی ایک جماعت کو آگ میں جلایا۔ آنحضرتﷺ نے شراب کے مٹکے توڑنے کا اور اس کے مشکیزے پھاڑ دینے کا حکم فرمایا۔ آنحضرتﷺ نے خیبر کے دن اُن ہانڈیوں کو توڑنے کا حکم فرمایا جن میں گدھوں کا گوشت پکایا گیا تھا پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپﷺ سے اجازت چاہی کہ انہیں دھو کر استعمال کر لیا جائے؟ تو آپﷺ نے اجازت دے دی۔ یہ واقعہ دونوں باتوں کے جواز پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ ہانڈیوں کو توڑ ڈالنے کی سزا واجب نہیں ہوتی تھی۔ اس کے علاؤہ اس نوعیت کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں اور صحیح اور معروف فیصلے ہیں۔

اور (شرح سیر کبیر جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 75) پر ہیں اور کوئی مضاںٔقہ نہیں کہ مسلمان، کافروں کے ہاتھ غلہ اور کپڑہ وغیرہ فروخت کریں، مگر جنگی سامان اور گھوڑے اور قیدی فروخت کرنے کی اجازت نہیں، خواہ وہ امن لے کر ان کے پاس آئے ہوں یا بغیر اَمان کے، کیونکہ ان چیزوں کے ذریعے مسلمانوں کے مقابلے میں ان کو جنگی قوت حاصل ہو گی اور مسلمانوں کیلئے ایسی کوئ چیز حلال نہیں جو مسلمانوں کے مقابلے کافروں کو تقویت پہنچانے کا سبب بنے اور یہ علت دیگر سامان میں نہیں پائی جاتی۔ پھر یہ حکم جب ہے جبکہ مسلمانوں نے ان کے کسی قلعہ کا محاصرہ نہ کیا ہوا ہو، لیکن جب انہوں نے ان کے کسی قلعے کا محاصرہ کیا ہوا ہو تو ان کیلئے مناسب نہیں کہ اہلِ قلعہ کے ہاتھ غلہ یا پانی یا کوئ ایسی چیز فروخت کریں جو ان کے قلعہ بند رہنے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ کیونکہ مسلمان نے ان کا محاصرہ اسی لیے تو کیا ہے کہ ان کا رسدو پانی ختم ہوجاۓ، اور وہ اپنے کو مسلمانوں کے سُپرد کردیں اور اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کے حکم پر باہر نکل آئیں۔ پس ان کے ہاتھ غلہ وغیرہ بیچنا، ان کے قلعہ بند رہنے میں تقویت کا موجب ہوگا۔بخلاف گزشتہ بالا صورت کے، کیونکہ اہلِ حرب اپنے ملک میں ایسی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں جن کے ذریعے وہاں قیام پذیر رہ سکیں، انہیں مسلمانوں سے خریدنے کی ضرورت نہیں،لیکن جو کافر کہ قلعہ بند ہوں، اور مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا ہو وہ مسلمانوں کے کسی فرد سے ضروریاتِ زندگی نہیں خرید سکتے۔ لہٰذا کسی بھی مسلمان کو حلال نہیں کہ ان کے ہاتھ کسی قسم کی کوئ چیز فروخت کرے، جو شخص ایسی حرکت کرے اور امام کو اس کا علم ہوجاۓ تو امام اسے تادیب اور سرزنش کرے، کیونکہ اس نے غیر حلال فعل کا ارتکاب کیا ہے۔

مزکورہ بالا نصوص اور فقہائے اسلام کی تصریحات سے حسبِ ذیل اُصول و نتائج واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں:

صفحہ 5 از 6