Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بحیثیت ناقد ادب عربی

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پر سختی سے عمل کرنے والے تھے، یہاں تک کہ آپؓ اپنے ادبی نظریہ اور شعر و شاعر پر حکم لگانے میں بھی رسول اللہﷺ کی اقتداء کی کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ آپؓ سے بہت سارے ادبی نصوص کے بارے میں تنقیدی احکام و خیالات پائے جاتے ہیں، اور ادبی نصوص پر آپؓ کے تنقیدی جائزہ کا تعلق اس دور سے ہے جب کہ آپؓ خلیفہ تھے، یعنی آپؓ کی زندگی کا آخری دس سالہ دور ادبی نصوص پر آپ کا تنقیدی جائزہ مجموعی طور پر ہمیں یہ تصور دیتا ہے کہ جو ادبی نصوص و آثار آپ کے ادیبانہ نقطۂ نظر سے درجہ کمال کو پہنچے ہوئے ہوتے آپ ان نصوص کو کتنا اونچا مقام دیتے، اور کتنی اس کی عزت کرتے تھے، درحقیقت عربی ادب کے اس ابھرتے ہوئے دور میں یہی نصوص آپؓ کے نزدیک اس عہد کی ثقافت کا اصل نتیجہ ہوتے تھے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ ہم ان اسباب و اساسیات کا احاطہ کریں جنہوں نے آپؓ کی تنقیدی حس کو صیقل کیا، اور آپؓ کے ملکہ کو پروان چڑھایا اور اس جائزہ میں آپؓ کی جاہلی و اسلامی دونوں زندگیاں ایک ہی نقطۂ نظر یعنی ادب و بلاغت نیز ان کی تنقید و تصویب سے ہمارے سامنے ہوں۔

سیدنا عمرؓ اپنی جاہلی زندگی میں جاہلی اقدار و روایات کے محافظوں میں سے ایک محافظ تھے۔ قریش میں آپؓ کا اونچا مقام تھا اور قریش پر ہی اس وقت عربوں کی نگاہیں لگی رہتی تھیں اور وہی عربوں میں معزز و فیصل مانے جاتے تھے، اسلام آنے کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں بھی انہی کی اہمیت تھی۔

سیدنا عمر فاروقؓ اپنی جاہلی اور اسلامی زندگی میں عربی شاعری میں مہارت رکھتے تھے، مشرکین، مرتدین اور دشمنانِ اسلام نے دینِ حنیف کے خلاف جو بھی اشعار کہے تھے آپؓ انہیں مکمل یاد کیے ہوئے تھے۔

آپؓ جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار میں عربوں کے عقائد، تاریخ، انساب، سلوک اور علم کے احوال سے خوب اچھی طرح واقف تھے ان چیزوں کی معلومات نے عربی کلام میں تنقید اور اس پر رائے دہی کے لیے آپ کا راستہ ہموار کر دیا تھا۔

حضرت عمرؓ اپنے بچپن ہی سے ادبی مجالس میں شریک ہونے کے حریص تھے، یہ مجالس عموماً رات کو منعقد ہوتی تھیں، ان میں شعری کلام پیش کیے جاتے اور ادبی ذوق، ادبی نصوص، نیز تنقید و رائے زنی کا تبادلہ ہوتا تھا اور جب آپؓ اسلام لے آئے تو جس طرح لوگ عمدہ پھل چنتے ہیں اسی طرح عمدہ کلام اور بہترین باتوں کو منتخب کرنے والے افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، نماز اور جہاد فی سبیل اللہ کے بعد دنیا کی اپنی تیسری مشغولیت شمار کرتے تھے آپ ان لوگوں میں سے ایک تھے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی مجالس میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ جب آپؓ خلیفہ تھے تو مسجد کے ایک کنارے مسجد سے متصل ہی ’’بطحاء‘‘ کے نام سے ایک خالی جگہ گھیر دی تھی جہاں شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے اور اسے سیکھنے والے آیا کرتے تھے۔ 

(عمر بن الخطاب: دیکھیے محمد أبو النصر: صفحہ 244)

صحابیِ رسولﷺ سیدنا عمرؓ تنقیدی دسترس، گہری نظر، نکتہ داں ذہانت، وہبی ذکاوت اور روشن دماغ صلاحیت کے مالک ہونے کی وجہ سے صائب الرائے اور سخن شناس واقع ہوئے تھے، تنقیدی لغزشوں سے آپؓ کا کلام پاک ہوتا تھا، ساتھ ہی آپؓ جو کچھ بھی پڑھتے یا سنتے تھے، اس کا آپؓ کو پورا احساس ہوتا تھا، حضرت عمرؓ کے احساس سخن شناسی، اور عربی ادب کی تہ تک پہنچنے ہی کا نتیجہ تھا کہ آپؓ ادبی نصوص اور ان کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے جمالیاتی اقدار یا شعور و آگہی کو جگانے والے معانی کو مزے لے لے کر پڑھتے تھے۔ 

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 246)

یہ اقدار و معانی آپ کے دل و دماغ کو گھیر لیتے، آپؓ ان سے مطمئن رہتے اور بسا اوقات ان کے بارے میں اپنی خوشی و احترام کا اظہار بھی کرتے تھے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ متمم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کی موت پر مرثیہ کہا، اس کی موت مرتدین کی جنگ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی فوج کے ہاتھوں ہوئی تھی، متمم جب مرثیہ کہتے کہتے یہاں تک پہنچا:

لا یمسک الفحشاء تحت ثیابہ

حلو شمائلہ عفیف المئزر

’’اپنے کپڑوں کے نیچے فحش کاری کو نہیں چھپایا، اس کے اخلاق پسندیدہ تھے اور وہ پاک دامن تھا۔‘‘

تو حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور کہا: میں چاہتا تھا کہ اپنے بھائی زید بن خطابؓ کے لیے اسی طرح کا مرثیہ کہتا جیسا کہ تم نے اپنے بھائی مالک کے لیے کہا ہے۔ متمم نے کہا: اے ابوحفص! اگر آپ جان لیں کہ میرے بھائی کا بھی وہی ٹھکانا ہے جو آپ کے بھائی کا ٹھکانا ہے تو آپؓ مرثیہ نہیں کہیں گے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: تمہاری طرح کسی نے میری تعزیت نہیں کی۔ 

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبوالنصر: صفحہ 247، الکامل: المبرد: جلد 2 صفحہ 300)

ادبی نصوص کی فنی و معنوی گرفت اور اس کی نزاکت و لطافت کے احترام ہی کی وجہ سے بلیغ ادبی نصوص کی قدر و قیمت کی معرفت میں بلندی کی منزلیں طے کرتے رہے اور پھر تنقید و معرفت کے اس مقام تک پہنچ گئے کہ اس فانی دنیا کے خزانوں کی قیمت کبھی اس کے برابر نہیں ہو سکتی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپؓ نے ہرم بن سنان کے کسی بیٹے سے کہا کہ اپنے باپ کی مدح میں زہیر کا کچھ کلام پڑھو، اس نے حکم کی تعمیل کی، آپؓ نے کہا: تمہارے خاندان کے بارے میں زہیر خوب کہتا تھا۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین! اسے ہم صلہ بھی خوب دیتے تھے۔ آپؓ نے فرمایا: لیکن تم نے جو دیا تھا وہ فنا ہو گیا اور اس نے تم کو جو دیا تھا وہ آج بھی باقی ہے۔ 

(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 106 )

خلاصہ یہ کہ انہی اساسیات نے سیدنا عمرؓ کے تنقیدی ذوق کو غذا فراہم کی اور آپ کے ناقدانہ ملکہ کو پالش کیا اور اسلام اور ادبی سوتوں کے ابتدائی دور میں آپؓ کو اس عظیم ادبی مقام پر فائز کیا۔ 

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 248)

سیدنا عمرؓ نے کسی شعری کلام کو دوسرے شعری کلام پر ترجیح دینے یا کسی شاعر کو کسی شاعر پر مقدم کرنے کے لیے جو معیار مقرر کیا تھا اس کی مختلف شکلیں تھیں، مختصراً وہ معیار یہ تھے: