Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسلمانوں کے اوپر فیصلے کے لئے ججوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے


مسلمانوں کے اوپر فیصلے کے لئے ججوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے

چنانی علامہ ابنِ ہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ قاضی کی ولایت اور عہدہ کسی کیلئے میچ نہیں جب تک کہ اس میں شہادت اور گواہی دینے کی تمام شرائط جمع نہ ہو جائیں۔ اور اس کی شرائط میں سے بعض یہ ہیں کہ دین اسلام پر ایمان رکھنے والا ہو مبالغ ہو، عاقل (عقلمند ہو، آزاد ہوں، اور اس میں درجہ کمال یہ ہے کہ قاضی (جج) کے عہد پر قائم ہونے والا عادل اور منصف ہو، غیر عادل اور مظالم نہ ہو، عفیف ہو، یعنی بڑے گناہوں سے محفوظ ہو، قرآن و سنت کا عالم ہو اور جاننے والا ہوں اور اس کے فیصلے سابق اسلامی قاضیوں اور ججوں کے مطابق ہوں۔

علامہ مفتی ابنِ نجیمؒ مسلمانوں کے فیصلے کیلئے قاضی اور جج کی اہلیت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ قاضی (یعنی موجودہ زمانے کے جج) بننے کا اہل ہو سکتا ہے۔ جو مسلمانوں کے معاملات میں شہادت اور گواہی دینے کا اہل ہو سکتا ہو۔ یعنی آزاد آدمی ہو غلام نہ ہو، مسلمان ہو کافر نہ ہو، عاقل ہو مجنون اور فاتر العقل نہ ہو، مبالغ ہو نابالغ بچہ نہ ہو، عادل اور ثقہ جو فاسق و فاجر اور دینی اعتبار سے لاپرواہ نہ ہو۔ اس بنیاد پر صاحب نہایہ شارح ہدایہ نے لکھا ہے کہ کافر اور نابالغ بچے کا قضا اور حج کے عہدہ پر فائز ہونا صحیح نہیں۔

شرح نقایہ میں ملا علی قاریؒ نے مسلمانوں کے فیصلے مقدمات کیلئے قاضیوں اور ججوں کیلئے جو شرائط عائد کی ہیں ان کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قضاء اور فیصلے کی اہلیت کیلئے شرط یہ ہے کہ قاضی یعنی جو جج اور فیصلہ کرنے والا ہو وہ اہلِ شہادت میں سے ہے تو جج اور قاضی بن سکے گا، اور اگر ایسا نہیں تو وہ مسلمانوں کے دینی معاملات میں فیصلہ کرنے کا اہل نہیں۔ اور مسلمانوں کے معاملات میں شہادت اور گواہی کیلئے شرط یہ ہے کہ شہادت دینے والا دین اسلام پر ایمان اور یقین رکھتا ہو، اور اس کا پیروکار ہو۔ اور چونکہ یہودو نصاریٰ، دین اسلام اور ان کے قانونی دساتیر قرآن و حدیث بیٹے کو نہیں مانتے اس لئے بوجہ کافر ہونے کے وہ اہلِ شہادت میں سے نہیں، اور جب اہلِ شہادت میں سے نہیں تو اہلِ قضاء، اور اہلِ فیصلہ میں سے بھی نہ ہوں گے۔

اس سلسلہ میں صاحب الدر المختار نے قاضی خصاف سے ایک بہترین فتویٰ نقل کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کی جس شخص کی گواہی مسلمانوں کے معاملات میں درست نہیں، اس کا فیصلہ بھی مسلمانوں کے معاملات میں قابل اعتبار نہیں اور جس کا فیصلہ قابل اعتبار نہیں اس کے فیصلوں کے مجموع کا بھی کچھ اثر نہیں۔

واضح رہے کہ غیر مسلم ججوں کے فیصلے مسلمانوں کیلئے لازم نہ ہونے کا مسئلہ جمہور کا اجماعی اور اتفاقی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں میں سے کسی کا اختلاف نہیں۔