Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین از عقیدہ صحابہ اہل سنت

  جعفر صادق

 مختصر خلاصہ سُنی و شیعہ مناظرہ

لارج سائیز ڈاؤن لوڈ

موضوع: *کرکرہ اور مدعم عقیدہ صحابہ اہل سنت کے مطابق جیّد صحابی رسول تھے یا نہیں۔*

تاریخ: 13 اگست سے 15 اگست 2022

واٹس آپ گروپ: سبز دنیا (شیعہ گروپ)

دعوی از اہل تشیع

*کرکرہ اور مدعم سُنی مذہب میں جیّد اصحاب رسول ہیں۔*

جواب دعوی از اہل سنت

*کرکرہ اور مدعم سُنی مذہب میں عقیدہ صحابیت کے تحت صحابی رسول کا شرف نہیں رکھتے۔*

پہلے دن شرائط پر کافی گفتگو کی گئی کیونکہ شیعہ عالم عقیدہ صحابہ اہل سنت اور عقیدہ صحابہ اہل تشیع بتانے سے کتراتے رہے، ان کا مؤقف تھا کہ بغیر سُنی و شیعہ نظریہ بتائے وہ اپنا دعوی ثابت کریں گے۔ اگرچہ یہ ایک ایسا مؤقف تھا جو قابل فہم نہ تھا کیونکہ وہ خود متفقہ شرائط میں یہ تسلیم کرچکے تھے کہ وہ *عقیدہ صحابہ اہل سنت* کی روشنی میں ہی اپنا دعوی ثابت کریں گے، اور انہوں نے جواب دعوی اہل سنت پر بھی کوئی اشکال پیش نہیں کیا جس میں عقیدہ صحابہ اہل سنت کا واضح ذکر موجود تھا۔

غور طلب بات یہ تھی کہ جس عقیدے و نظریے کو شیعہ مناظر بنیاد بناکر دعوی کر رہے تھے وہ عوام کے سامنے کھل کر لکھنے سے پرہیز کرتے رہے۔

کافی گفت و شنید کے بعد اہل تشیع مناظر نے اپنے دعوی کے حق میں *صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3074* پیش کی اور استدلال پیش کیا کہ *کرکرہ نامی ایک غلام رسول نے مال غنیمت چوری کیا تو نبی نے اسے جہنمی قرار دیا۔ اس طرح یہ کرکرہ سُنی مذہب میں جیّد صحابی رسول ثابت ہوگیا۔*

اس استدلال کی تائید میں انہوں نے

الاصابہ فی تمییز صحابہ(علامہ ابن حجر عسقلانی) ، اسد الغابہ (علامہ ابن اثیر) ، تجرید اسماء الصحابہ (امام ذہبی) اور الا کمال فی اسماء الرجال (علامہ ابی عبداللہ الخطیب) میں کرکرہ کا تذکرہ دکھایا۔

اس دلیل کا رد اہل سنت کی طرف سے یہ کیا گیا کہ *عقیدہ صحابہ اہل سنت* کے مطابق *شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان میں دیدار مصطفیﷺ اور خاتمہ بالخیر* لازمی ہونا چاہئے۔اسی حدیث میں لسان نبویﷺ سے کرکرہ کا جہنمی ہونا مذکور ہے اور شارح بخاری نے بھی کرکرہ کو جہنمی کہہ کر نبی کی تائید بیان کی ہے تو ثابت ہوا کہ کرکرہ جہنمی تھا ، جب خاتمہ بالخیر نہ ہوا تو جیّد صحابی کیسے ہوگیا۔

رہی بات الاصابہ ، اسد الغابہ اور دوسری کتب کی، تو کسی عالم نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ انہوں نے شرف صحابیت کے حامل صحابہ کا ہی اپنی کتب میں تذکرہ شامل کیا ہے اور نہ کسی عالم نے کرکرہ اور مدعم کی توثیق بیان کی ہے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ شروع سے آخر تک شیعہ عالم نے یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ *عقیدہ صحابہ اہل سنت* میں شرف صحابیت کے لئے خاتمہ بالخیر لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ *کرکرہ اور مدعم کا حکم* رسالت مآب ﷺ نے خود فرما کر دعوی اہل تشیع کی کمر توڑ دی ہے۔ اگر شیعہ عالم خاتمہ بالخیر کو شرف صحابیت کے لئے لازم تسلیم کرتا تو پھر اس کے دعوی کی قلعی کھل جاتی۔ شروع گفتگو میں سُنی و شیعہ نظریہ بھی اسی لئے عوام تک پہنچانے سے گریز کرتا رہا کہ پھر دعوی کیسے ثابت کرسکے گا۔

پوری گفتگو میں شیعہ عالم اپنا *خودساختہ عقیدہ صحابہ* اہل سنت کی طرف منسوب کرتا رہا۔ ان سے بار بار تقاضا بھی کیا جاتا رہا کہ اہل سنت یا کم از کم شیعہ نظریے کو ہی پیش کیا جائے کہ *شرف صحابیت* کے لئے ان کے ہاں کیا شرائط بیان کی گئی ہیں لیکن جان بوجھ کر عوام تک اصل حقیقت پہنچانے سے کتراتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خود شیعہ معتبر کتب و تفاسیر میں بھی شرف صحابیت کا وہی معیار ہے جو اہل سنت کے ہاں بیان کیا گیا ہے۔

دوران گفتگو کئی بچگانہ دلائل سے بھی شیعہ عالم نے اپنے دعوی کو ثابت کرنے کی کوششیں کیں، مثال کے طور کسی سائیٹ سے اسلامی ناموں کی فہرست میں کرکرہ اور مدعم نام دکھانا، ایک مضمون کی لنک بھیج دی ، جس میں غلامان رسول کی فہرست تھی، اور اس میں کرکرہ اور مدعم کے نام مذکور تھے، حتی کہ موصوف کسی اہل سنت عالم کی وائسز بھیجنے پر بھی مجبور ہوگئے۔ کمال تو اس وقت ہوا جب انہی وائسز سے اہل سنت عقیدہ صحابہ کا دفاع کردیا گیا۔

شیعہ عالم کی بے بسی اس وقت بھی دیکھی گئی جب موضوع اور دعوی کو بھول کر وہ حدیث حوض کوثر پیش کر کے مرتدین صحابہ سے اپنا استدلال ثابت کرنے لگے، انہیں اسی حدیث سے بھی شرف صحابیت کے لئے خاتمہ بالخیر سمجھایا گیا کہ دیکھیں جو لوگ دنیا میں بظاہر صحابی رسول تھے لیکن بعد از نبی ثابت قدم نہ رہے تو جہنمی ہوگئے۔

شیعہ عالم بار بار علمائے اہل سنت کی کتب سے فہرست صحابہ میں کرکرہ اور مدعم کے نام دکھا کر اچھلتے رہے کہ یہ دونوں سُنی مذہب میں جیّد صحابی رسول ہیں جبکہ انہی دونوں کا جہنمی ہونا بھی خود ان کی ہی پیش کی گئی صحیح احادیث اور اقوال علماء سے دکھایا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ ایک موقعہ پر موصوف نے کرکرہ جہنمی کو ہزاروں صحابہ سے افضل تک قرار دے دیا۔ شان رسالت مآب ﷺ میں ایسی گستاخی ایک شیعہ ہی کرسکتا ہے۔