Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا یہ درست ہے کہ حضورﷺ جب عبداللہ بن اُبَی منافِق کی نماز جنازہ پڑھانے لگے تو سَیِّدُنَا عمرؓ نے نہایت سخت انداز میں کہا تھا اتصلی علیہ وھو منافق. کیا اس سے حضورﷺ کو اذیت نہ ہوئی اور جو حضورﷺ کو اذیت دے اس کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟ یہ کہنا کہ کیا آپ ایک منافق کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں؟ کیا یہ مناسب تھا؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   علی

جواب:

سَیِّدُنَا عمرؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں جو عرض کی اس کا سبب جوشِ ایمانی تھا مخالفتِ رسول ہرگز نہ تھا ورنہ حضورﷺ نے جب اُن کی بات نہ سنی اور نمازِ جنازہ پڑھائی تو سَیِّدُنَا عمرؓ آپﷺ کی اقتداء نہ کرتے، اپنی بات پر اڑے رہتے. معلوم ہوا کہ جو کچھ کہا وہ ایک عرض تھی آپ سے مُناقَشہ نہ تھا. صحیح بخاری میں ہے جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آپ منافق کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں تو حضور ﷺ مسکرا رہے تھے اور آپﷺ کے چہرہ پر تبسُّم تھا. اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ حضرت عمرؓ کے جوشِ ایمانی پر مسکرا رہے تھے ناراض نہ ہو رہے تھے پھر حضرت عمرؓ کے لیے یہ فضیلت کوئی کم ہے کہ اس واقعہ کے بعد خود اللّٰہ رب العزت نے سَیِّدُنَا عمرؓ کی تائید فرما دی اور حکم دے دیا کہ آئندہ کے بعد کسی منافق کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور حضورﷺ نے ہی اس کا اعلان فرمایا. قرآن کریم میں حکم آیا۔

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ ؕ

(سورۃ التوبہ آیت 84)

اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جس طرح سَیِّدُنَا عمرؓ کافروں کے خلاف تھے منافقوں کے بھی خلاف تھے اور آیت جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ پر پوری قوتِ ایمانی سے عمل پیرا تھے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حضرات بظاہر مسلمان تھے دل سے مومن نہ تھے ان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے. سَیِّدُنَا عمرؓ کا منافقوں کے خلاف یہ بغض و عناد واحد یہ تمنا اور خواہش کہ یہ لوگ اس لائق نہیں کہ ان پر حضور ﷺ نمازِ جنازہ پڑھیں سَیِّدُنَا عمرؓ کہ دل کے اندر کی خبر دیتا ہے جو آپ کے قلبِ منوَّر کے ایمان کی شعاعیں کس تیزی سے باہر آ رہی تھیں کہ آپ بول پڑے آپ منافق کی نماز ادا کیوں پڑھا رہے ہیں ؟؟؟ اور اللہ رب العزت کو بھی بالآخر ان کی تائید کرنا منظور تھا۔

یہ صرف پیغمبر کی شان ہے کہ وہ حکمِ ربانی سے بولتا ہے. جذبات پیدا بھی ہوں تو وہ اُن کا اِظہار نہیں کرتا. اُسے ان پر بے مثال قابو ہوتا ہے وحی الہٰی آتی ہے تو اس کے عمل کا کانٹا بدلتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب وعلمه اتم واحکم فی کل باب.