Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضور پیغمبرِ اسلامﷺ نے اپنے آخری وقت میں سیدنا عمرؓ کو قلم دوات لانے کا حکم دیا. حضورﷺ کا منشاء یہ تھا کہ سیدنا علیؓ کے لیے خلافت کا فیصلہ فرما دیں اس بات کو حل کریں کہ سیدنا عمرؓ نے کیوں قلم دوات پیش نہیں کیا ؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   محمد اکرم ٹیچر 2 گورنمنٹ ہائی سکول کوہاٹ

جواب:

 یہ غلط ہے کہ آنحضرتﷺ نے سیدنا عمرؓ کو قلم دوات لانے کے لیے کہا تھا. کسی حدیث میں اس کا ثبوت نہیں یہ سیدنا فاروق اعظمؓ پر ایک بہتان اور افتراء ہے. حقیقت یہ ہے کہ حضور ختمی مرتبﷺ نے قلم لانے کا یہ حکم سیدنا علی المرتضیؓ کو دیا تھا. سیدنا علیؓ خود فرماتے ہیں:

امرنی النبیﷺ ان اٰتیه بطبق یکتب فیه ما لاتضل امته من بعده قال فخشيت ان تفوتنى نفسه.

(مسند امام احمد مبوب جلد 2 صفحہ 84 مصر) 

ترجمہ: حضورﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے پاس ایک بڑا کاغذ لاؤں جس میں آپ وہ کچھ دیں کہ آپ کی امت آپ کے بعد گمراہ نہ ہو مگر میں وہ نہ لا سکا کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے پیچھے ہی آپ کی وفات نہ ہو جائے۔

آنحضرتﷺ اس واقعہ کے پانچ دن بعد تک اس دنیا میں تشریف فرما رہے. پس قلم دوات پیش نہ کرنے کی ذمہ داری سیدنا عمرؓ پر کسی طرح عائد نہیں ہوتی. حضورﷺ کا یہ حکم سیدنا علیؓ کو تھا نہ کہ سیدنا فاروق اعظمؓ کو. علاوہ ازیں اس کا مقصد خلافت کا فیصلہ لکھانا ہرگز نہ تھا بلکہ جب آپ سے پوچھا گیا تو آپﷺ نے یہی تین نصیحتیں فرمائی کہ:

1. یہود کو ہرگز جزیرۂ عرب میں بالکل نہ رہنے دیا جائے۔

2. بیرونی وفود کو اسی طرح آتے رہنے دینا جس طرح کہ میں انہیں آنے دیتا رہا۔

3. میری قبر کو عبادت گاہ نہ بنانا۔

پہلے دو حکم بخاری و مسلم میں منقول ہیں اور تیسرا مؤطا امام مالک میں موجود ہے اور اگر اس طلبِ قِرطاس کا مقصد خلافت کا فیصلہ ہی تھا تو سیدنا ابوبکرؓ کی خلافت کا حکم لکھانے کا ارادہ فرمایا تھا لیکن جب اللّٰہ تعالی نے آپ کو مطلع کر دیا کہ خدا کا فیصلہ اور مومنین کا اجماع ابوبکرؓ کے سواء اور کسی پر نہ ہوگا تو آپﷺ نے اس ارادہ سے درگزر فرمایا کیونکہ مقصود از خود حاصل تھا سیدنا ابوبکرؓ کے لیے فیصلہ لکھوانے کا یہ ارادہ خود صحیح مسلم میں موجود ہے۔

(صحیح مسلم جلد 273)

واللہ اعلم بالصواب