Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پچھلے سوال کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ اہلِ بیتؓ جیسے سیدنا زین العابدینؒ سیدنا باقرؒ سیدنا جعفر صادقؒ اور سیدنا موسیٰ کاظمؒ یہ سب اہلِ سنت تھے شیعوں نے ان پر غلط طور پر شیعیت کی چھاپ لگا رکھی ہے اگر بات اسی طرح ہے تو یہ حضرات ہمارے دوسرے ائمہ و محدثین سے دور کیوں رہے؟ آپس میں کیوں ملتے جلتے نہ تھے؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   معاویہ

جواب:

یہ صحیح نہیں کہ یہ ہمارے دوسرے ائمہ سے کنارہ کش تھے ان کی روایات ہماری حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں اور یقیناً موجود ہیں اگر کم ہیں تو کیا سیدنا عثمانؓ سے سیدنا زبیرؓ سے اتنی روایات ہیں جتنی سیدنا ابوہریرہؓ سے ملتی ہیں تو کیا اسے سیدنا عثمانؓ اور سیدنا زبیرؓ سے دوری اور بعد پر محمول کیا جائے گا نہیں بات اس طرح نہیں ہے۔

البتہ شیعوں نے انہیں ہمارے دوسرے اکابر ائمہ سے دور کر رکھا ہے مگر دروغ گورا حافظہ بناشد پھر بھی یہ اپنی کتابوں میں کہیں کہیں ان کا ملنا ذکر کرتے ہیں ایسی چند روایات بھی ان کی کتابوں میں مل جائیں تو اندر کی صورت حال کا تمام پتا مل جاتا ہے اب آئیے قدماء شیعہ سے اپنے اس موقف کی تائید حاصل کریں۔ 

بغداد کی جامع مسجد میں خطیب کون ہوتا ہوگا یہ آپ اندازہ کریں اہلِ سنّت والجماعت کیا ہاں یہ حضرات اہلِ بیتؓ جمعہ پڑھنے نہ جاتے تھے یا نہ جاتے ہوں گے؟ اگر جاتے تھے اور ان ائمہ کے ساتھ ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو کیا یہ سب ایک نہ تھے؟ ملا محمد بن یعقوب کلینی (329ھ) نے سیدنا علی رضا کا جامع مسجد میں جمعہ کے لیے جانا اور آپ کا وہاں جمعہ پڑھنا الکافی صفحہ 198 میں صاف لکھا ہے کہ سیدنا باقرؒ اور امام ابوحنیفہؒ کی ملاقات الکافی جلد 1 صفحہ 58 جلد 2 صفحہ 285 میں دیکھے امام ابو یوسفؒ (182ھ) اور سیدنا موسیٰ کاظم (183ھ) کی ملاقات کا تزکرہ الکافی جلد 4 صفحہ 352 پر موجود ہے سیدنا باقرؒ امام ابوحنیفہؒ کو وقت کے علماء میں شمار کرتے ہیں اسے الکافی جلد 8 صفحہ 292 پر ملاحظہ کیجئے امام قتادہؒ (118ھ) اور سیدنا جعفر صادقؒ (148ھ) کے اکھٹے طواف کرنے کا ذکر الکافی جلد 4 صفحہ404) پر موجود ہے پھر ان کا ذکر صفحہ 521 پر بھی دیکھیں امام نافعؒ (117) اور سیدنا باقرؒ کے ملنے کا ذکر الکافی جلد 8 صفحہ 121۔351 پر موجود ہے امام ابوحنیفہؒ کا ذکر اس کتاب کی جلد 2 صفحہ 223 جلد 3 صفحہ 92۔297) جلد 4 صفحہ 259۔546 جلد 5 صفحہ 449 جلد 7 صفحہ 63۔137۔404 جلد 8 صفحہ 292 پر مسلسل دیکھتے جائیے امام ابویوسفؒ کا ذکر آپکو اس کتاب کی جلد 5 صفحہ387 جلد 7 صفحہ 61۔ 404 اور جلد 1 صفحہ 95 پر ملے گا امام ابوحنیفہؒ نے سیدنا جعفر صادقؓ سے روایت لی ہے اسے الکافی جلد 4 صفحہ 546 جلد 7 صفحہ 104 میں دیکھا جا سکتا ہے یہ چند اشارے احقر نے ذکر کر دئیے ہیں ورنہ اسکی تائیدات کے لیے ایک پورا دفتر درکار ہے حق یہ ہے کہ یہ سب حضرات اہلِ سنت والجماعت تھے اور ان کے باہمی اسطرح کے تعلقات تھے جو ایک پیغمبر کے مختلف امتیوں میں ہونے چاہییں۔ 

ہاں اس بات میں شک نہیں کہ ان ائمہ اہلِ بیتؓ کے گرد اس قدر منافقین اور اسلامی لباس پہننے والے یہود و مجوس جمع رہے کہ ان حضرات کی صحیح روایات اور تعلیمات بہت کم آگے پہنچی سو اس لحاظ سے یہ حضرات مظلوم ہیں اور انتہائی مظلوم کہ ان کے نام پر ایک پورا مذہب وضع کر لیا گیا ان کے گرد جمع ہونے والے اصل رواتِ حدیث ان کو امام مامور من اللہ نہ سمجھتے تھے اور جس طرح وہ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کے گرد طلبِ حدیث میں پہنچتے اسی طرح وہ ان حضرات سے بھی روایت لیتے اور علمی استفادہ کرتے البتہ ان حضرات سے روایت لینے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ ان کے نام پر تیار کیا ہوا وضعی مذہب اسلام کی جگہ نہ پا سکے نہ اس مقدس نام سے چلایا جا سکے۔