Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایک شیعہ کہ رہا تھا کہ اگر انبیاء کی میراث علم ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے پاس علم بہت زیادہ تھا کیوں کہ وہ تو نبی والا علم تھا ان کا علم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ ہوا، لہذا جب انھوں نے مطالبہ کیا باغ فدک کا، تو انھیں کیوں معلوم نہیں تھا کہ انبیاء کی میراث علم ہے دولت نہیں ؟ اس طرح تو آپ یہ کہ رہے ہیں کہ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا علم کم تھا؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   حافظ اسامہ بھٹہ

جواب

اسی طرح کا ایک قیاس وہ بھی ہے جو اللہ جل شانہ نے قرآن پاک میں نقل فرمایا ہے کہ

 انا خیر منہ

یعنی میں آدم سے بہتر ہوں

آگے دلیل دی ہے کہ:

خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ

(سورۃ اعراف: آیت 12)

کہ میں آگ سے بنایا گیا ہوں اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے۔

اس کا قیاس یہ تھا کہ میں آگ سے بنایا گیا ہوں آگ اوپر کی طرف لپکتی ہے اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے اور مٹی وہیں پر پڑی رہتی ہے لہٰذا معلوم ہو گیا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔

حدیث پاک میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا لا نورث ہم مال دنیا کا کسی کو وارث بنا کر نہیں جاتے ہیں بلکہ مال دنیا جو کچھ بھی ہم سے رہ جاتا ہے تو وہ صدقہ ہوتا ہے۔گویا یہ قانون مال دنیا کے باب میں بیان فرمایا گیا ہے باقی علم کو وراثت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح علم روحانی دولت ہے اسی طرح پوری امت نبی کی روحانی اولاد ہے قرآن پاک میں تو اس بات کو اور زیادہ واضح کیا گیا ہے کہ نبی کی بیویاں پوری امت کی مائیں ہیں تو ظاہر بات ہے کہ اس ماں کا جو شوہر ہوتا ہے وہ اس ماں کی اولاد کے لیے باپ ہوتا ہے۔

 تو یہ روحانی وراثت ہے اور روحانی غذا ہے اس کو مادی وراثت پر قیاس کرنا اسی طرح کا قیاس ہے جس طرح کا قیاس اللہ پاک نے نقل فرمایا ہے اور اوپر اس کا ذکر ہو چکا ہے۔