ملازم کی حیثیت زیادہ ہوتی ہے یا اولاد کی؟ ملازم پر ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے اور اولاد محبت و شفقت کا مورد بنی رہتی ہے۔ کیا یہی فرق رسولوں اور ائمہ معصومین میں نہیں چلے گا؟ رسولوں پر خدا کی طرف سے ذمہ داری ڈالی جاتی ہے اور ائمہ طاہرین صرف خدا کی محبت اور عنایت پاتے ہیں وضاحت فرمائیں کہ کیا اماموں کا درجہ رسولوں سے زیادہ نہیں ہوگا جو عزت اماموں کی الله کے ہاں ہے کیا ہم وہ رسولوں کو دے سکتے ہیں؟
سوال پوچھنے والے کا نام: ام ابرہیمملازم کی ذمہ داریاں اولاد پر نہیں ڈالتے
نبوت اور امامت کا تقابلی جائزہ
الجواب: ملازم کا کام اپنا نہیں ہوتا وہ دوسرے کا کام تنخواہ اور اجرت کے عوض کرتا ہے رسولوں کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ رسالت(پیغام رسانی) کریں وہ اس پر جن لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں ان سے برملا کہتے ہیں کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔
اللہ کے ہاں عزت رسولوں کو بھی دی جاتی ہے اور یہ بہت بڑی عزت ہے اور اللہ رب العزب کے بعد یہ انہی کا حق ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ
(سورۃ المنافقون:آیت نمبر 8)
عزت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔
رہی محبت تو رسول بے شک اللہ سے اس کی محبت بھی پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کہا تھا:
وَاَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِنِّیْ
(سورہ طہٰ: آیت نمبر39)
میں نے تجھ پر اپنی محبت ڈال دی۔
سو یہ کہنا کہ رسولوں کا درجہ محض پیغامِ رسانی کا ہے صحیح نہیں وہ اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے بڑی عنایات اور قرب کے بڑے انعامات پاتے ہیں، البتہ اثناء عشریوں کے ہاں امام واقعی رسولوں سے زیادہ مورد الطافِ الٰہیہ رہتا ہے۔ ان کے ملا محمد بن یعقوب الکلینی لکھتا ہے:
ان فضلهم لا يبلغه ملك مقرب ولا نبی مرسل۔
(الکافی روضہ کافی جلد 8 صفحہ 10)
ترجمہ: ان اماموں کو جو فضیلت حاصل ہے اسے کوئی مقرب فرشتہ بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ کوئی نبی اور نہ کوئی مرسل
قاضی عیاض (544ھ) اسے قطعی درجہ میں وجہ کفر کہتے ہیں، آپ لکھتے ہیں:
وكذلك نقطع بتكفير غلاة الرافضة في قولهم ان الائمة افضل من الانبياء۔
ترجمہ: اور ہم قطعی طور پر ان غالی رافضیوں کی تکفیر کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ مرتبہ امامت مرتبہ نبوت سے اونچا ہے۔
ان کا ملا باقر مجلسی بھی لکھتا ہے:
امامت بالا تراز رتبہ پیغمبری است۔
(حیات القلوب: جلد 3، صفحہ1)
ترجمہ: امامت کا رتبہ نبوت اور رسالت سے بھی اونچا ہے۔
یہ ان کے کسی ایک عالم کی رائے نہیں جس نے جوشِ محبت میں یہ مبالغے کی بات کہہ دی ہو یہ ان کے اکثر علماء کا عقیدہ رہا ہے اور وہ اسے اپنے مذہب کی ضروریاتِ دین میں جگہ دیتے ہیں۔ ہاں وہ اس سے صرف حضورﷺ کو مستثنیٰ کرتے ہیں باقی پیغمبروں سے وہ اپنے اماموں کو افضل سمجھتے ہیں۔
ملا باقر مجلسی لکھتا ہے:
اکثر علمائے شیعہ را اعتقاد آنست کہ حضرت امیر علیه السلام و سائر ائمہ افضل از پیغمبراں سوائے پیغمبر آخر الزمان۔
(حق الیقین صفحہ 70)
ترجمہ: اکثر علمائے شیعہ کا اعتقاد یہ ہے کہ سیدنا علیؓ اور دوسرے سب امام سب پیغمبروں سے سوائے حضورﷺ کے افضل ہیں۔
باقر مجلسی کا شاگرد ابوالحسن الشریف نے مرآۃ الانوار میں اس آخری جزو کی تردید کردی اور کہا کہ ائمہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔
وکون ائمتنا علیھم السلام افضل عن سائر الانبياء هو الذي لا يرتاب فيه من تتبع اخبارهم علىٰ وجه الاذهان واليقين والاخبار فی ذلك اكثر من ان تحصىٰ وعليه عمدة الامامية۔
(مرآۃ الانوار و مشکوٰۃ الاسرار)
ترجمہ: اور ہمارے اماموں کا تمام انبیاء سے افضل ہونا ایسی بات ہے کہ وہ جس نے ان کی خبروں کو پوری محنت سے پڑھا کسی طرح شک نہیں کرسکتا۔ اس میں بے شمار احادیث مروی ہیں اور انہی پر امامیہ کا اعتماد ہے۔
علامہ روح اللہ الخمینی لکھتا ہے:
از ضروریات مذهب ما است کہ کسی بہ مقامات معنوی ائمہ علیهم السلام نے رسد حتیٰ ملک مقرب و نبی مرسل۔
(الحکومت الاسلامیہ:صفحہ 58)
ترجمہ: ہمارے مذہب میں ضروریاتِ دین میں سے ہے کہ کوئی شخص اماموں کے اونچے مقامات کو نہیں جا پاتا یہاں تک کہ کوئی ملک مقرب اور نبی مرسل بھی ان کے درجے کو نہیں پہنچتا۔
اصل امامت وہی ہے جو پیغمبروں کو حاصل ہو انبیاء کرام علیہم السلام میں امامت کا مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ملا اور آپ کی اولاد میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضور خاتم النبیینﷺ کو بھی، بنو اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور بنو اسماعیل میں سے حضورﷺ کو اور پھر حضورﷺ نے لیلتہ الاسراء میں سب انبیاءعلیہم السلام کی امامت فرمائی تو حضور اکرمﷺ سب بنی نوع انسان اور صفِ انبیاء کے امام ٹھہرے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ-قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْؕ-قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ۔
(سورۃ البقرہ: آیت نمبر 124)
ترجمہ: اور جب آزمایا ابراہیم کو ان کے رب نے کئی باتوں میں، آپ نے ان سب کو پورا کر دکھایا کہا الله تعالیٰ نے میں تجھے تمام لوگوں کا امام کردوں گا۔ آپ نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی، الله نے کہا میرا یہ عہد ظالموں کو نہ پہنچے گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امامت
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنو اسرائیل میں جتنے پیغمبر آئے سب شریعتِ تورات پر رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتری یہ کتاب مرتبہ امامت پر رہی۔ بعد میں آنے والے نبی اس کے مطابق فیصلے دیتے رہے۔
وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ۔
(سورۃ ہود:آیت نمبر 17)
ترجمہ: اور آپ سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام رہی اور رحمت۔
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌۚ-یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ۔
(سورۃ المائدہ:آیت نمبر 44)
ترجمہ: بے شک ہم نے تورات اتاری اس میں ہدایت تھی اور نور تھا،اگلے اسرائیلی نبی اس پر فیصلے کرتے رہے۔
نبوت سے خالی ہو کر امامت کی تجویز نبوت کے متوازی ایک دوسرے آسمانی عہدے کا دعویٰ ہے پھر اس درجے میں اس امامت کو لینا کہ نبیوں پر بھی ان اماموں کی افضلیت لازم کی جائے صرف ایک نئے آسمانی مذہب کی تجویز ہے۔ دیکھا جائے تو اس میں عقیدہ ختمِ نبوت پر بھی ایک بڑی زد پڑتی ہے اور اس کے ساتھ حضورﷺ کی ساری امت کو گمراہ قرار دینا پڑتا ہے جو اس فرضی امامت کے قائل نہیں ہوسکے۔
واللّٰہ اعلم وعلمہ اتم و احکم۔