Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یہ تین آدمی جو ارتداد سے محفوظ رہے مقداد، ابوذر اور سلمان وہ سیدنا علیؓ کے ساتھ رہے کیا یہ آپس میں ایک دوسرے سے مخلص تھے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرتے تھے؟ یا آپس میں بھی ایک دوسرے پہ بدگمان رہتے تھے؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   ام معاویہ

الجواب: امام جعفر اپنے باپ امام باقر سے روایت کرتے ہیں ایک دن حضرت علیؓ کے سامنے تقیہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا، یہ تو سلمان اور مقداد میں بھی پایا جاتا تھا وہ ایک دوسرے سے تقیہ میں رہتے ہیں۔ سیدنا علیؓ نے فرمایا:

لو علم ابوذر ما في قلب سلمان لقتله وقد أخى رسول اللّٰه بينهما۔

(رجال کشی:جلد1، صفحہ 7، حیات القلوب: جلد6، صفحہ 574) 

ترجمہ: اگر ابوذر کو پتہ چل جائے کہ سلمان کے دل میں کیا ہے تو وہ اسے قتل کر دیں اور حضورﷺ نے ان دو میں مؤاخات فرمائی تھی۔

ان کا اختلاف کفر تک پہنچتا تھا۔

امام جعفر صادق فرماتے ہیں:

قال رسول الله صلى الله علیہ وسلم یا سلمان لو عرض علمك على مقداد لكفر یا مقداد لو عرض علمك على سلمان الكفر۔

(رجال کشی:جلد 1، صفحہ 47، حیات القلوب: جلد 3، صفحہ 566)

ترجمہ: حضورﷺ نے کہا اے سلمان اگر تیرا علم مقداد کے سامنے لایا جائے تو وہ اس کا انکار کر دے گا۔ اے مقداد اگر تیرا علم سلمان پر پیش کردیا جائے تو وہ اس کا انکار کر دے گا۔ 

غور کیجئے پھر ارتداد سے بچا کون؟ صرف سیدنا مقدادؓ؟

ما بقى احد الا وقد جال جولة الا المقداد بن الاسود فان قلبه كان مثل زبر الحديد۔ 

(رجال کشی: جلد 1، صفحہ 46، حیات القلوب: جلد 2 صفحہ 598)

ترجمہ: کوئی باقی نہ رہا مگر سب پھر گئے سوائے مقداد بن اسود کے، اس کا دل لوہے کی تختیوں جیسا مضبوط تھا۔

شیعہ کی اس روایت کہ حضورﷺ کے بعد ماسوائے چند افراد کے آپ کی ساری امت مرتد ہوگئی اہلِ سنت کے جن اکابر نے شیعوں کا متفق علیہ عقیدہ مانا ہے ان میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ (561ھ) بھی سرِ فہرست ہیں، آپ بغداد میں رہتے تھے اور شیعوں کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ 

سو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ چند شیعوں کا عقیدہ ہوگا۔ آپ لکھتے ہیں کہ اس پر ان کے سب فرقے متفق ہیں:

والذي اتفقت عليه طوائف الرافضة وفرقها اثبات الامامة عقلاً وان الامامة نص وان الائمة معصومون و من ذلك ادعاءهم ان الامة ارتدت يتركهم امامه على الاستة نفر وان الأموات يرجعون الى الدنيا قبل يوم الحساب۔

 (غنیۃ الطالبین صفحہ 57)

ترجمہ: وہ بات جس پر رافضیوں کے تمام فرقے متفق ہیں ان کا عقیدہ امامت ہے۔اور نصاً وہ اسے ثابت کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ائمہ سب معصوم ہیں اور اس کے ساتھ ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ حضورﷺ کی امت سیدنا علیؓ کے انکارِ امامت سے سب کی سب مرتد ہوگئی سوائے چھ افراد کے اور ان کا یہ عقیده کہ بعض اموات یوم الحساب سے پہلے ایک دفعہ پھر دنیا میں رجعت کریں گے۔

جمیع امت کے بگڑ جانے اور تمام صحابہؓ کی تکفیر کا عقیدہ ایسا ہے کہ اس پر اکابر علماء اسلام نے قطعی درجے میں کفر کا فیصلہ کیا ہے۔ قاضی عیاض مالکیؒ (544ھ) لکھتے ہیں:

نقطع بتكفير كل قائل قال قولاً يتوصل به الىٰ تضليل الامة وبتكفير جميع الصحابةؓ ۔

 (الشفاء)

ترجمہ: ہم یقینی طور پر اس بات کے قائل کو کافر سمجھتے ہیں جو حضورﷺ کی پوری امت کے بگڑ جانے کا قائل ہو اور تمام صحابہؓ کو وہ کافر کہتا ہو۔