Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

برطانیہ میں کئی غیر مسلم لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ محمد عربیﷺ عرب میں جو انقلاب لائے آپ کی یہ تحریک آپ کی وفات پر بری طرح ناکام ہوگئی تھی تین چار آدمیوں کے سواء سب محمدﷺ کے دین سے پھر گئے اور وہ تین چار بھی ایسے رہے کہ کہیں اٹھ نہ سکے۔ ہمارے طلبہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حضورﷺ کی اس تحریک کے فیل ہونے کے کیا اسباب تھے اور اس وقت دنیا میں جو اسلام پایا جاتا ہے یہ اسلام اگر حضورﷺ کا نہیں تو یہ کس کا ترتیب دیا ہوا مذہب ہے یہ کیسی غلط امت تھی جس نے اپنے نبی کے دین کو اس کی وفات کے بعد یکسر چھوڑ دیا؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   علی

الجواب: یہ غلط ہے کہ حضورﷺ اپنے مشن میں فیل ہوگئے تھے اور آپ کی امت آپ کے فوت ہوتے ہی آپ سے منحرف ہوگئی تھی اور انہوں نے حضورﷺ کے جانشین سیدنا علیؓ کو اقتدار میں آنے سے روک دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی وفات سے قبل حضورﷺ کی امت کو مخاطب کر کے فرمایا تھا میں نے تمہارے لیے اسلام پسند کیا ہے اس پر اس دین کی تکمیل ہوئی تھی:

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ۔

 ( سورۃ المائده:آیت 3)

اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو اسلام اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے پسند کیا اور اس کی خوشخبری خود اس امت کو مخاطب کر کے دی گئی وہ امت اس کے چند دن بعد پورے جماعتی طور پر اس نبی خاتم سے منحرف ہو جائے۔

پھر خدا نے اس امت کو خیر امت بھی فرمایا اور (ختم نبوت کی وجہ سے) آئندہ کارِ نبوت (امر بالمعروف اور نہی عن المنکر) ان کے ذمہ لگایا اور ان کے مؤمن ہونے کی خبر دی، منحرف ہونے والے لوگ تو شرِ اُمت کہلانے کے مستحق ہوسکتے ہیں نہ کہ انہیں خیر امۃ کہا جائے۔ یہ کیسے خیر امت تھے جو اپنے نبی کے جنازہ کو بھی چھوڑ گئے۔(معاذ الله)

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔

 ( سورۃ آل عمران: آیت 110)

ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے سامنے لائی گئی تمہارا ہر امر معروف ہے اور ہر نہی منکرات میں سے ہے۔

یہ عقیدہ کہ حضورﷺ کی امت آپ کی وفات پر ماسوائے تین چار کے سب حضورﷺ سے منحرف ہوگئے تھے، انہوں نے حضورﷺ کی لائن بدل دی تھی، حضورﷺ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے نماز میں ہاتھ باندھنے کا طریقہ بنالیا، حضورﷺ وضو میں پاؤں پر مسح کرتے تھے۔ اس منحرف امت نے پاؤں دھونے کی راہ اختیار کی حضورﷺ کی اذان میں حی علی خیر العمل کہا جاتا تھا امت نے حی علی الصلوٰۃ سے ایسے بدل دیا یہ تحریف امت کا عقیدہ اثناء عشری شعیوں کا ہے۔ جمہور مسلمان حضورﷺ کو اپنے مشن میں کامل اور کامیاب سمجھتے ہیں شیعوں نے سیدنا باقرؒ کے نام پر بات گھڑی نہ کہ یہ حقیقت واقعہ ہے۔

1) كان الناس اهل ردة بعد النبي صلى اللّٰه عليه وسلم الا ثلثة،المقداد بن الاسود و ابوذر الغفاری و سلمان الفارسی۔

 (الکافی روضہ:جلد 8، صفحہ 245، رجال کشی: صفحہ 26)

ترجمہ: لوگ حضورﷺ کی وفات کے بعد سوائے تین کے سب مرتد ہوگئے۔ 1- سیدنا مقدادؓ 2- سیدنا ابوذرؓ اور 3- سیدنا سلیمان فارسیؓ کے سواء کوئی نہ بچ پایا۔

2)يا عبد الرحيم ان الناس عادوا بعد ما قبض رسول الله صلى الله علیه و سلم اهل جاهلية۔

 (روضہ کافی: جلد 8، صفحہ 296)

ترجمہ: اے عبد الرحیم! لوگ حضورﷺ کی وفات کے بعد پھر سے جاہلیت میں آگئے۔

چوتھی صدی سے چودہویں صدی تک شیعہ اسی عقیدہ پر رہے کہ حضور اکرمﷺ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوئے۔ پندرہویں صدی میں علامہ روح اللہ خمینی نے کہا کہ اس کے زمانے کے لوگ حضورﷺ کے زمانہ کے لوگوں سے بہتر ہیں۔(استغفر اللہ)

میں پوری جرأت کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ عصرِ حاضر میں ملتِ ایران اور اس کی لاکھوں عوام رسول اللّٰہﷺ کے عہد کی ملت حجاز، اور امیر المؤمنین اور سیدنا حسینؓ بن علیؓ کے زمانے میں کوفہ و عراق کی قوم سے بہتر ہیں۔

(صحیفۃ انقلاب: صفحہ 33)

کیا یہ حضورﷺ کے پورے مشن کے فیل ہونے کا عقیدہ نہیں۔ علامہ خمینی نے جہاں اپنے عہد کے ایمان کو حضورﷺ کے عہد مبارک اور سیدنا حسینؓ کے عہد کی حالت ایمان پر ترجیح دی ہے۔ اس کا نتیجہ تھا کہ پھر کفن بھی علامہ خمینی کو پردہ نہ دے سکا۔