حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جنہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خود ہی کنویں میں گرا دیا اور خود ہی کسی دوسرے خون سے ایک قمیض خون آلود کی اور پھر اجتماعی طور پر ماتم کرتے اور روتے نکلے وہ جنتی ہوں گے یا نہ اس مسئلے میں شیعہ کا کیا موقف ہے؟
سوال پوچھنے والے کا نام: عبدالحامد از حسن ابدالجواب:
شیعہ مذہب کی مستند کتاب حیاتُ القلوب میں پختہ سند سے منقول ہے کہ سیدنا باقرؒ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے یہ لڑکے یقیناً سعادت مند تھے۔ فرماتے ہیں:
از دنیا بیرون نہ رفتند مگر سعادت مندان۔
(حیات القلوب جلد1 صفحہ 196 ایران)۔
ترجمہ: حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی سعادت مند ہو کر ہی فوت ہوئے اور وہ اپنی تمام غلطیوں سے تائب تھے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ شیعہ مذہب تاریخی پسِ منظر میں دینِ یہود سے ماخوذ ہے یہود کے ہاں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ کے بارہ بیٹے عمائدِ اسرائیل ہیں اثنا عشری شیعوں کے ہاں بارہ امام ہی مأمور من اللہ ہیں اب یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ شیعہ ان بھائیوں کے بارے میں جنہوں نے خود حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا تھا کسی پہلو سے برا کہ سکیں بارہ کے ماننے والے ان بارہ سے کیسے مستغنی رہ سکتے ہیں۔
رہا یہ عذر کہ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو موت کے کنویں میں اتارنے کا جو جرم کیا اسے اللہ تعالٰی نے ان کے ماتمی جلوس نکالنے کے سبب معاف کردیا یہ لائقِ پذیرائی نہیں قرآنِ کریم میں جہاں اس جلوسِ عذاداری کا ذکر ہے وہاں یہ بھی ذکر ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسے ہرگز پسند نہ کیا تھا وہ اس ہئیت سے ہی سمجھ گئے کہ خود کوئی کاروائی کر کے آئے ہیں اور اب اپنے جرم کو چھپانے کے لیئے انہوں نے یہ ادا اختیار کی ہے اہلِ سنت کے ہاں برادرانِ یوسف علیہ السلام کے اس اجتماعی ماتم میں کوئی پہلو لائقِ ستائش اور محلِّ سعادت نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
خالد محمود عفا اللہ عنہ۔