Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

احادیثِ متواترہ کا ماننا مثل قرآن ضروری ہے ایسی متواتر حدیث کے خلاف اعتقاد و عمل ہدایت ہے یا گمراہی؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   مامور

جواب:

حدیثِ عمار بن یاسرؓ متواتر نہیں اور اگر اسے کسی نے متواتر کہہ بھی دیا تو باتحقیق اس حدیث کا تواتر ثابت کرنا ناممکن ہے اس حدیث کے تواتر پر آپ کا وثوق آپ کی خود غرضی اور عدمِ تحقیق کا بہترین مظہر ہے اور اگر یہ حدیث متواتر ہو بھی تو پھر کیا ہوا؟ کس بدبخت نے اس حدیث کا انکار کیا ہے؟ انکار تو ہم صرف اس مفہوم کا کر رہے ہیں جو آپ نے پوری امت کے خلاف محض اپنی ذاتی رائے سے کشید کرلیا ہے بتائیے اس حدیث سے سیدنا امیر معاویہؓ کا جہنمی ہونا کہاں سے ثابت ہوا۔

بعض اوقات بغاوت کرنے والا ظالم ہوتا ہے جیسا کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے قاتل باغی ظالم تھے کبھی حکمران اور بغاوت کرنے والے دونوں مجتہد ہوتے ہیں اور محض غلط فہمی کی بنا پر جنگ ہو جاتی ہے جیسا کہ سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ میں جنگ ہوئی اور سیدنا علیؓ و سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے درمیان جنگ ہوئی یہ دونوں بزرگ ہستیاں اپنی اپنی تحقیق کے مطابق حق پر تھیں اس وجہ سے نبی کریمﷺ نے جس فوج کو باغی گروہ قرار دیا ہے۔ 

(مسلم جلد 2 صفحہ 395)۔ اسی فوج کو مسلمان گروه بھی قرار دیا ہے۔

(بخاری جلد 1 صفحہ 530)

 اور سیدنا علیؓ فرما رہے ہیں کہ یہ محض غلط فہمی تھی۔

(نہج البلاغہ صفحہ 424)