Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

نبی پاکﷺ کو بالواسطہ یا بلاواسطہ گالیاں دینے والا تنقیص و توہین کرنے والا بغض و عداوت رکھنے والا نافرمانی کرنے والا مومن ہے یا منافق و مرتد؟

سوال پوچھنے والے کا نام:   کنزہ

جواب:

1ـ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اہلِ بیت اطہار علیہم الرضوان کو دی جانے والی وہ گالی جو نبی کریمﷺ تک پہنچے گی اس سے مراد نسبی گالی ہے۔

(مرقاۃ جلد 11 صفحہ 348)

2- نبی کریمﷺ کو گالیاں دینے والا تنقیص و توہین کرنے والا صریح نافرمانی کرنے والا کافر ہے اگر پہلے مسلمان تھا تو اب مرتد ہوجائے گا۔

3- نبی کو گالی دینے اور صحابی کو گالی دینے میں یہ فرق ہے کہ نبی کو گالی دینا کفر و ارتداد ہے اور اس کی سزا قتل ہے جب کہ صحابی کو گالی دینا فسق و فجور ہے اور اس کی سزا کوڑے مارنا ہے۔

(الشفاء جلد 2 صفحہ 196)

 یہ ایک عام آدمی کی بات ہو رہی ہے کہ اگر ایک عام آدمی صحابی کو گالی دے تو اسے کوڑے مارے جائیں لیکن اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آپس میں کوئی غلط فہمی ہوجائے اور ایک صحابی دوسرے صحابی کو گالی دے تو یہ صورتِ حال بالکل مختلف ہے دونوں طرف صحابی ہیں اور چوٹ برابر کی ہے اگرچہ درجات کا فرق سہی یہاں ہمارے لیے منہ بند رکھنا لازم ہے۔

4- مگر یہاں یہ بات واضح رہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کو کبھی گالی نہیں دی عربی زبان میں گالی کو بھی سبّ کہتے ہیں اور ناراضگی یا ڈانٹ ڈپٹ کرنے کو بھی سبّ کہتے ہیں چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ دو آدمیوں نے نبی کریمﷺ کی نافرمانی کی تو آپﷺ نے انہیں سبّ کیا۔ فَسَبَهُمَا النَّبِيُّﷺ۔ 

(مسلم جلد 2 صفحہ 246)

ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اگر میں کسی مسلمان کو سبّ کروں یا اس پر لعنت بھیجوں تو اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دینا اور رحمت میں تبدیل کر دینا۔

(مسلم جلد 2 صفحہ 323)

کیا کوئی مسلمان یہ باور کر سکتا ہے کہ حبیب کریمﷺ نے کسی کو گالی دی ہوگی؟ معلوم ہوگیا کہ عربی زبان میں سبّ و شتم سے مراد کسی سے ناراضگی کا اظہار بھی ہوتی ہے خصوصاً سیدنا علیؓ کو سب کرنے سے کیا مراد تھی؟ اس کے بارے میں بھی حدیث سن لیجیے۔

ایک آدمی نے سیدنا سہلؓ سے کہا کہ مدینہ کا فلاں امیر منبر پر کھڑا ہو کر سیدنا علیؓ کو گالیاں دیتا ہے سیدنا سہلؓ نے پوچھا وہ کیا الفاظ کہتا ہے؟ اس نے کہا وہ سیدنا علیؓ کو ابوتراب کہتا ہے سیدنا سہلؓ ہنس پڑے اور فرمایا اللہ کی قسم اس نام سے انہیں خود حضورﷺ نے پکارا ہے اور خود سیدنا علیؓ کو یہ نام سب سے زیادہ پیارا تھا۔ 

(بخاری جلد 1 صفحہ 525)۔

واضح رہے کہ اس حدیث شریف میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بات ہی نہیں ہو رہی یہاں مروان بن حکم کی بات ہو رہی ہے جو مدینہ کا گورنر تھا۔

اس قسم کی باتیں جب متعصب اور تقیہ باز شیعوں کے ہاتھ لگیں تو انہوں نے ایسی ہی باتوں کو یا تلخ کلامی اور برادرانہ نوک جھوک کو گالیاں بنا ڈالا اور تاریخ کی کتابوں میں لکھ ڈالا سبّ کا ترجمہ گالی پڑھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید خدا نخواستہ ماں بہن کی گالیاں دی گئی ہوں گی حالانکہ کوئی مائی کا لال تاریخ کی کتابوں میں ایسی گندی گالیاں نہیں دکھا سکتا۔