خلیفہ راشد کی اطاعت فرض ہے فرض کا منکر و مخالف مومن ہے یا کافر؟
سوال پوچھنے والے کا نام: عمرجواب:
خلیفہ راشد کی خلافت متحقق ہو جانے اور طے پا جانے کے بعد اسکی اطاعت فرض ہے لیکن سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس چونکہ عدمِ اطاعت کے لیے خونِ سیدنا عثمانؓ کے سبب تاویل موجود تھی اور اس وقت تک سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت مستحکم بھی نہیں ہوئی تھی کہ نافرمانی فرض کا ترک ٹھہرتی لہٰذا سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں جھٹ سے بد تمیزی کرنے کی بجائے ادب اور احتیاط کا دامن تھامنا ضروری ہے حدیث شریف میں ہے کہ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنْ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِی عَلَی هدیً یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اختلاف کے باوجود اگر کوئی شخص کسی ایک کی بھی پیروی کرلے گا تو وہ اللہ کے نزدیک ہدایت پر سمجھا جائے گا۔
(مشکوٰۃ صفحہ 554)
شیعوں کی کتاب احتجاج طبرسی میں ہے کہ اختلافُ أَصْحَابِی لَكُمْ رَحْمَة میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف تمہارے لیے رحمت ہے۔
(احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 106-105)
حضور کریمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اختلاف کو رحمت قرار دیا ہے اور آپ اس اختلاف پر انہیں جہنم واصل کررہے ہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ ایک دستر خوان پر موجود ہوں اور آپ کی بد تمیزیاں آپ کے گلے کا پھندا بن چکی ہوں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ
یعنی ہم ان کے دلوں سے ناراضگیاں ختم کردیں گے وہ بھائی بھائی ہوجائیں گے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ (حجر : 46)۔
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں سیدنا طلحہؓ سیدنا زبیرؓ اور سیدنا عثمانؓ انہی لوگوں میں شامل ہوں گے جن کا ذکر اس آیت میں موجود ہے۔
(بیہقی جلد 8 صفحہ 173 البدایہ و النہایہ جلد 7 صفحہ 239 بے شمار تفاسیر)