Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

حدیثِ عمارؓ کے آخری الفاظ تدعهم الى الجنة ويدعونك الى النارسے معلوم ہورہا ہے کہ سیدنا عمارؓ کا مؤقف جنتیوں والا تھا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا موقف جہنمیوں والا تھا۔

سوال پوچھنے والے کا نام:   روباب

جواب:

ان الفاظ سے سیدنا عمارؓ کے قاتلوں کیلئے جہنم کا استحقاق ثابت ہو رہا ہے بشرطیکہ قاتلوں کی بخشش کا کوئی دوسرا سبب موجود نہ ہو سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بخشش کے بے شمار اسباب موجود ہیں مثلاً جس مسلمان نے نبی کریمﷺ کو دیکھا وہ ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا۔

(ترمذی مشکوٰۃ صفحہ 554)

حدیثِ قستنطنیہ (بخاری جلد اصفحہ 410) سیدنا حسنؓ سے صلح والی حدیث (بخاری جلد 1 صفحه 530) وغیرہ۔

ثانیاً نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفِهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ یعنی جب دو مسلمان تلواریں لے کر آمنے سامنے آجائیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔

(مسلم جلد 2 صفحہ 389 بخاری جلد 1 صفحہ 9)

 اس حدیث کی شرح میں امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے ایسا قاتل اور مقتول مراد ہیں جن کے پاس جنگ کے لیے کوئی تاویل اور بہانہ موجود نہ ہو اور ان کی جنگ محض تعصب کی بنا پر ہو اور ان کے جہنم میں جانے سے مراد یہ ہے کہ وہ جہنم کے حق دار ہوں گے لیکن اگر اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے تو یہ ایک الگ بات ہے اہلِ حق کا یہی مذہب ہے اور اس طرح کی تمام احادیث میں یہی تاویل ضروری ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جس قدر جنگیں ہوئی ہیں وہ اس وعید میں داخل نہیں ہیں اہلِ سنت اور اہلِ حق کا مذہب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں حسنِ ظن سے کام لیا جائے اور ان کے باہمی جھگڑوں کے بارے میں زبان کو لگام دی جائے اور ان کی جنگوں کے بارے میں تاویل سے کام لیا جائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مجتہد تھے اور ان کے پاس جنگ کی معقول وجہ موجود تھی انہوں نے نافرمانی کا ارادہ ہرگز نہیں کیا اور نہ ہی دنیا کے لیے جنگ لڑی ہے بلکہ ہر فریق نے یہی سوچا کہ وہ حق پر ہے اور اس کا مخالف باغی ہے اور اس کے خلاف جنگ لڑنا واجب ہے تاکہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے ان میں سے بعض کا موقف درست تھا اور بعض کو غلطی لگی ہوئی تھی وہ اپنی اس غلطی میں معذور تھے ان کی یہ خطا اجتہادی تھی اور مجتہد سے جب خطا ہوتی ہے تو وہ گناہ گار نہیں ہوتا۔ 

سیدنا علیؓ ان جنگوں میں حق پر تھے یہ ہے اہلِ سنت کا مذہب ایسی صورت حال میں فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اچھی خاصی تعداد حیرت کا شکار تھی وہ دونوں گروہوں سے الگ ہو کر کھڑے رہے اور کسی کی طرف سے بھی جنگ میں حصہ نہیں لیا اگر انہیں یقین ہوتا کہ حق کس طرف ہے تو وہ ضرور حق کا ساتھ دیتے اور پیچھے ہٹ کر کھڑے نہ ہوتے۔ 

(شرح النووی علی مسلم جلد 2 صفحہ 390)

اگر حدیثِ عمارؓ کو اسکے ظاہر پر رہنے دیا جائے اور ایک گروہ کو جہنمی کہا جائے تو ہماری پیش کردہ بخاری اور مسلم کی متفقہ حدیث دونوں گروہوں کو معاذ اللہ جہنمی بنادے گی اب آپ خود فیصلہ کیجیے کہ آپ کو ان احادیث میں تاویل منظور ہے یا سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو جہنمی کہہ کر خود جہنم میں جانا منظور ہے۔

من نہ گویم کہ ایں کن و آں کن

مصلحت ہیں و کار آساں کن

ترجمہ: میں نہیں کہتا کہ یہ کر یا وہ کر مصلحت دیکھ اور جو کام آسان لگتا ہے وہ کر۔

 سیدنا امیرِ معاویہؓ کے خصوصی فضائل:

سیدنا امیرِ معاویہؓ حدیبیہ سے اگلے سال یعنی سات ہجری میں مسلمان ہوئے نبی کریمﷺ کے سر مبارک کے بال کاٹنے کا شرف حاصل کیا آپ کی ہمشیرہ سیدہ ام حبیبہؓ تمام مومنین کی ماں اور محبوب کریمﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں ان کی ہمشیرہ سیدہ میمونہؓ سیدنا حسینؓ کی ساس ہیں آپ نے اسلام لانے سے پہلے مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا سب سے پہلا بحری بیڑا تیار کرایا چالیس سال تک مسندِ اقتدار پر فائز رہے۔

 بخاری شریف میں فضائل:

1۔ آپ نے نبی کریمﷺ سے ایک سو تریسٹھ احادیث روایت فرمائی ہیں جن میں سے بعض صحیح بخاری جیسی کتابوں میں موجود ہیں چنانچہ ایک زبردست حدیث جو عشاق کے مذہب و مسلک کی جان ہے إِنَّمَا أَنَا قَاسِمَ وَ اللَّهُ يُغطی یعنی اللہ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں اس کے راوی سیدنا امیرِ معاویہؓ ہیں۔ 

(بخاری جلد 1 صفحہ 16)

نبی کریمﷺ نے فرمایا جس نے میری چالیس احادیث میری امت تک پہنچائیں اللہ تعالیٰ اسے فقیہ بنا کر اٹھائے گا اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ 

(مشکوٰۃ صفحہ 36)

سیدنا امیرِ معاویہؓ بذاتِ خود صحابی اور فقیہ ہیں اور اس حدیث کی روشنی میں فقیہ کے درجے کو پہنچانے والی چالیس احادیث سے چار گنا زیادہ احادیث کے راوی ہیں یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔

2۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ حبیب کریمﷺ نے فرمایا میرا بیٹا سیدنا حسنؓ میری امت کا سردار ہے اور ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔ 

(بخاری جلد 1 صفحہ 530)

اس حدیث میں جن دو گروہوں کا ذکر ہے ان میں سے ایک گروہ سیدنا حسنؓ کا اور دوسرا گروہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ہے ان دونوں میں صلح اس وقت ہوئی تھی جب سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان جنگ ہوچکی تھی اور سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوچکے تھے اس شہادت کے واقع ہوجانے کے باوجود محبوب کریمﷺ نے شہید کرنے والوں کو فںٔۃ مسلمہ کہا ہے یعنی مسلمان گروہ۔

3۔ اسی صحیح بخاری میں ایک اور حدیث اس طرح ہے کہ أَوَّلُ جَيْشِ مِنْ أُمَّتِي يَغْرُوْنَ الْبَحْرَ فَقَد أَوْ جَبُوا یعنی میری اُمت کا پہلا لشکر جو سمندر پار جہاد کرے گا اُن پر جنت واجب ہوچکی ہے۔ 

(بخاری جلد 1 صفحہ 410)

سب سے پہلے سمندر پار جہاد کرنے والے سیدنا امیرِ معاویہؓ ہیں اور اس حدیث میں اُن کی واضح اور زبردست منقبت موجود ہے فِی هَذَا الْحَدِيْثِ مَنْقَبَةً لِمُعَاوِيَةَؓ۔

(حاشیہ بخاری جلد 1 صفحہ 410)

لطف کی بات یہ ہے کہ خارجی حضرات اس حدیث کے اگلے الفاظ أَوَّلُ جَيْشِ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُوْنَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ سے یزید کا مغفور ہونا ثابت کرتے ہیں اور رافضی حضرات سیدنا امیرِ معاویہؓ کے جنتی ہونے کے بھی منکر ہیں یہ دونوں انتہا پسند ٹولے ہیں جبکہ اہلِ سنت کا مسلک ان کے بین بین ہے اور راہ اعتدال کا آئینہ دار ہے۔

4۔ حبیب کریمﷺ نے ایک مرتبہ دعا فرمائی اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا یعنی اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے اور ہمارے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ نجد کے لیے بھی دعا فرمائیں آپﷺ نے پھر وہی دعا فرمائی مگر نجد کے لیے دعا نہ فرمائی تین بار ایسا ہی ہوا ہر بار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نجد کے لیے دعا کرنے کی درخواست کی آخر کار آپﷺ نے فرمایا هَنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلَعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ یعنی مسجد میں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہاں سے شیطانی گروہ نکلے گا۔

(بخاری جلد 2 صفحہ 1051)

اس حدیث میں مسجد کے خارجیوں کی وجہ سے نبی کریمﷺ نے مسجد کے لیے دعا فرمانے سے انکار کردیا اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی خارجی یا غلط آدمی ہوتے تو آپﷺ شام کے لیے بھی دعا نہ فرماتے آپﷺ کا یمن اور شام دونوں کے لیے دعا فرمانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یمنی اور شامی نبی کریمﷺ کے نزدیک نجدیوں کی طرح ناپسندیدہ نہیں تھے۔

5۔ سیدنا عبداللہ ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کچھ نہ کہو وہ رسول اللہﷺ کا صحابی ہے۔

(بخاری جلد 1 صفحہ 531)

6۔ سیدنا ابنِ عباسؓ سے کسی نے پوچھا کہ امیر المومنین سیدنا معاویہؓ کا کیا کریں وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا وہ اپنے طور پر ٹھیک کرتا ہے سیدنا امیرِ معاویہؓ فقیہ ہے۔ 

(بخاری جلد 1 صفحہ 531)

سیدنا ابنِ عباسؓ نے یہ بات اُس وقت فرمائی جب جنگ صفین ہوچکی تھی سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوچکے تھے بلکہ سیدنا علیؓ کا دورِ خلافت بھی گزر چکا تھا یہ ساری باتیں امیر المومنین کے لفظ سے ظاہر ہورہی ہیں سیدنا ابنِ عباسؓ کے سامنے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو امیر المومنین کہا گیا اور آپ نے اسکی تردید کرنے کی بجائے اُنہیں فقیہ کہہ دیا بتایئے سیدنا ابنِ عباسؓ کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جو حبیب کریمﷺ کے خاندانِ اقدس کے فرد عظیم ہیں۔

7۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے نبی کریمﷺ کے بال مبارک کاٹنے کا شرف حاصل کیا۔ 

(بخاری جلد 1 صفحہ 233)۔

 مسلم شریف میں فضائل:

سیدنا ابوسفیانؓ بن حرب نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں آپ سے تین چیزیں مانگتا ہوں آپ مجھے عطا فرما دیں فرمایا کیا مانگتے ہو؟ عرض کیا میرے پاس عرب کی سب سے حسین و جمیل بیٹی سیدہ ام حبیبہؓ موجود ہے میں اسے آپ کے نکاح میں دیتا ہوں فرمایا ٹھیک ہے عرض کیا آپ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اپنا کاتب بنالیں فرمایا ٹھیک ہے عرض کیا آپ مجھے امارت سونپ دیں تاکہ میں جس طرح مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتا رہا ہوں اب مشرکین کے خلاف جنگ کر کے بدلہ موڑ سکوں فرمایا ٹھیک ہے۔

(مسلم جلد 2 صفحہ 304 صحیح ابنِ حبان صفحہ 1932)۔ 

اس واقعہ سے پہلے سیدہ ام حبیبہؓ کا نکاح نبی کریمﷺ سے ہوچکا تھا سیدنا ابو سفیانؓ اپنے مسلمان ہونے کے بعد اسی نکاح کی تجدید اور اس پر اپنے قلبی اطمینان کی بات کر رہے تھے۔

(شرح نو وی جلد 2 صفحہ 304)۔

 ترمذی شریف میں فضائل:

نبی کریمﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں فرمایا

کہ اے اللہ اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنادے۔

(ترمذی جلد 2 صفحہ 224)۔

2۔ اے اللہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ 

(ترمذی جلد 2 صفحہ 224)

3۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ فرماتے ہیں کہ سدنا امیرِ معاویہؓ کو ہمیشہ اچھے لفظوں سے یاد کیا کرو میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ اسے ہدایت دے۔

(ترمذی جلد 2 صفحہ 224 البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 129 واللفظ لہ)۔ 

 مسند احمد میں فضائل:

1۔ اے اللہ معاویہ کو کتاب اور حساب سکھا اور اسے آگ سے بچا۔ 

(مسند احمد جلد 4 صفحہ 157 صحیح ابنِ حبان صفحہ 1932)۔

2۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد مروہ کے پاس نبی کریمﷺ کے بال مبارک کاٹے یہ حدیث مسند امام احمد میں کئی سندوں کے ساتھ روایت کی گئی ہے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ اس کے راوی ہیں جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ حدیث خود سیدنا امیرِ معاویہؓ سے ہم تک پہنچی ہے آپؓ نے فرمایا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ رسول اللہﷺ پر بہتان باندھنے والا آدمی نہیں تھا۔ 

(مسند احمد جلد 4 صفحہ 118۔122۔126)۔

 سنن سعید بن منصور میں فضائل

1ـ سیدنا نعیم بن ابی ہند اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں سیدنا علیؓ کا ساتھی تھا جب نماز کا وقت آیا تو ہم نے بھی اذان دی اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لشکر نے بھی اذان دی ہم نے اقامت پڑھی انہوں نے بھی اقامت پڑھی ہم نے بھی نماز پڑھی انہوں نے بھی نماز پڑھی میں نے دونوں طرف سے قتل ہونے والوں کے بارے میں سوچا جب سیدنا علیؓ نے سلام پھیرا تو میں نے عرض کیا کہ ہماری طرف سے قتل ہونے والوں اور ان کی طرف سے قتل ہونے والوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا مَنْ قُتِلَ مِنَّا وَمِنْهُمْ يُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی خواہ کوئی ہماری طرف سے مارا گیا ہو یا ان کی طرف سے مارا گیا ہو اگر اس کی نیت اللہ کی رضا اور جنت کی طلب تھی تو وہ جنت میں گیا۔

(سنن سعید بن منصور جلد 2 صفحہ 344)

2۔ سیدنا عمرو بن شرحبیل ہمدانی تابعیؒ فرماتے ہیں کہ میں جنگِ صفین میں حصہ لینے والوں کے بارے میں متذبذب تھا کہ فریقین میں سے افضل کون ہے میں نے اللہ کریم سے عرض کیا کہ میری راہنمائی فرمائے جس سے میری تسلی ہوجائے مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ مجھے اہلِ صفین کے پاس جنت میں لے جایا گیا میں سیدنا علیؓ کے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا جو سبز باغ میں اور چلتی نہروں کے پاس موجود تھے میں نے کہا سبحان اللہ میں کیا دیکھ رہا ہوں آپ لوگ تو وہی ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا وہ کہنے لگے ہم نے اپنے رب کو رؤف اور رحیم پایا میں نے کہا سیدنا امیرِ معاویہ کے ساتھیوں پر کیا گزری؟ انہوں نے کہا وہ تیرے سامنے موجود ہیں میں ادھر کو بڑھا تو سامنے ایک قوم تھی جو سبز باغ میں اور چلتی نہروں کے پاس موجود تھی میں نے کہا سبحان اللہ میں کیا دیکھ رہا ہوں آپ لوگ تو وہی ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا انہوں نے کہا ہم نے اپنے رب کو رؤف اور رحیم پایا۔ 

(سنن سعید بن منصور جلد 2 صفحہ 340 مصنف ابنِ ابی شیبہ جلد 8 صفحہ 722)۔

مصنف ابنِ ابی شیبہ میں فضائل:

ایک سطر اوپر اس کا حوالہ گزر چکا ہے۔

 صحیح ابنِ حبان میں فضائل:

اس کے دو حوالے مسلم شریف اور مسند احمد میں فضائل کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

 دیگر کتب میں فضائل:

1۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا يَا مَعْاوِيَةًؓ إِنْ وَلَيْتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَ اعْدِل یعنی اے سیدنا معاویہؓ جب آپ کو حکومت ملے تو اللہ سے ڈرنا سیدنا امیرِ معاویہؓ فرماتے ہیں کہ حضور کریمﷺ کے اس ارشاد کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ میں حکمرانی میں مبتلا کیا جاؤں گا۔

(مسند احمد جلد 4 صفحہ 126 مسند ابو یعلمی جلد 5 صفحہ 429 البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 130 مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 355 دلائل النبو للبیہقی جلد 6 صفحہ 446)

2۔ اللہ اور اس کا رسول سیدنا امیرِ معاویہؓ سے محبت کرتے ہیں۔ 

(تطہیر الجنان صفحہ 14)

3۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے نبی کریمﷺ نے حضرت جبریل علیہ السلام سے مشورہ لیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کاتبِ وحی بنایا جائے یا نہیں حضرت جبریل نے عرض کیا اس سے کتابت کروایا کریں وہ امین ہے۔

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 127)

4۔ امام بخاریؒ نے اپنی تاریخ میں سیدنا وحشیؓ سے روایت کیا ہے کہ ما کان مُعَاوِيَةُؓ رِدْفَ النَّبِيِّﷺ فَقَالَ يَا مُعَاوِيَةُ مَا يَلِيْنِي مِنْكَ قَالَ بَطْنِي قَالَ اللهُمَّ امْلَأَهُ عِلْمًا وَحِلْماً یعنی ایک مرتبہ سیدنا معاویہؓ نبی کریمﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے آپﷺ نے پوچھا اے سیدنا امیرِ معاویہؓ تیرے جسم کا کون سا حصہ میرے قریب ہے؟ عرض کیا میرا پیٹ آپﷺ نے فرمایا اے اللہ اسے علم اور حلم سے بھر دے۔ 

(الخصائص الکبری جلد 2 صفحہ 293)

5۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ میری اُمت کا سب سے حلیم اور سخی آدمی ہے۔ 

(تطہیر الجنان صفحہ 12)

6۔ اے اللہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو جنت میں داخل فرما وَ اَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ۔

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 128)

7۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے نبی کریمﷺ سے کہا مجھ سے کشتی لڑیں سیدنا امیرِ معاویہؓ پاس موجود تھے انہوں نے فرمایا میں تم سے کشتی لڑتا ہوں نبی کریمﷺ نے دعا دی کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کبھی مغلوب نہیں ہوگا سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اس سے کشتی لڑی اور اسے بچھاڑ دیا سیدنا علیؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے یہ حدیث یاد ہوتی تو میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بھی جنگ نہ لڑتا۔

(الخصائص الکبریٰ جلد 2 صفحہ 199)

محبوب کریمﷺ نے فرمایا دَعْوا لِی أَصْحَابِی وَ أَصْهَارِي فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ یعنی میری خاطر میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اور میرے سسرال کو کچھ نہ کہا کرو جس نے ان کو گالی دی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ 

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 147)

واضح رہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے نبی کریمﷺ کے برادر نسبتی یعنی آپﷺ کی زوجہ مطہرہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہؓ کے بھائی ہیں۔

8۔ سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیرؓ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کے جنتی ہونے کی بشارت نبی کریمﷺ نے دی ہے اور یہ دونوں صحابی عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔

(ترمذی جلد 2 صفحہ 215 ابنِ ماجه صفحہ 12۔13)۔ جب کہ یہ دونوں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے لشکر میں شامل تھے اور ان کی شہادت سیدنا علیؓ کے لشکر کے ہاتھوں ہوئی اب بتائیے سیدنا عمار بن یاسرؓ کی شہادت سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لشکر کے ہاتھوں ہوئی اور سیدنا طلحہؓ و سیدنا زبیرؓ کی شہادت سیدنا علیؓ کے لشکر کے ہاتھوں ہوئی جب کہ شہید ہونے والے ان سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنتی ہونے کی گواہی احادیث میں موجود ہے اس پیچیدہ صورتِ حال کا حل آپکے پاس کیا ہے؟ سیدنا علیؓ نے جب سیدنا طلحہؓ کی لاش کو دیکھا تو انکے چہرے پر سے مٹی صاف کی اور فرمایا کاش میں اس واقعہ سے بیس سال پہلے فوت ہوگیا ہوتا۔

(جمع الفوائد جلد 2 صفحہ 214 البدایہ والنہایہ جلد 7 صفحہ 238)

سیدنا علیؓ کا یہ فرمان صاف بتا رہا ہے کہ سیدنا علیؓ اپنی فوج کو سیدنا طلحہؓ کا قاتل سمجھ رہے تھے۔

نیز آپؓ نے وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِل پڑھ کر فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ سیدنا طلحہؓ سیدنا زبیرؓ اور میں انہی لوگوں میں سے ہوں گے جن کا ذکر اس آیت میں ہے آپ کے اس فرمان سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ فوت ہونے تک ان ہستیوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے بارے میں رنجش موجود تھی اور یہی رنجش قیامت کے دن ختم کردی جائے گی۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی اپنی زندگی کے آخری دنوں میں فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں ذی طویٰ کا قریشی ہوتا اور مجھے حکومت ہی نہ ملی ہوتی۔

(الاکمال مع المشکوٰۃ صفحہ 617)۔

اسی لیے سیدنا علیؓ نے جنگ صفین کے بعد فرمایا تھا کہ قَتَلَايَ وَقَتَلَا مُعَاوِيَةَؓ فِي الْجَنَّةِ یعنی میری طرف سے قتل ہونے والے اورسیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے قتل ہونے والے سب جنتی ہیں۔

(طبرانی مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 596 حدیث نمبر 15927)۔ 

10۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت کی سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں نے سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا اسی دوران سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بلایا گیا اور دونوں کو ایک کمرے میں داخل کردیا گیا اور دروازہ بند کردیا گیا میں غور سے دیکھتا رہا تھوڑی دیر میں سیدنا علیؓ باہر تشریف لے آئے اور وہ فرما رہے تھے ربِ کعبہ کی قسم میرے حق میں فیصلہ ہوگیا پھر تھوڑی دیر میں سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی باہر تشریف لے آئے اور فرما یا ربِ کعبہ کی قسم میری بخشش ہوگئی۔

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 137)

11۔ سیدنا علیؓ کے ساتھ غلط فہمی کے دنوں میں شہنشاہِ روم نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی علاقے میں مداخلت شروع کردی تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے روم کے بادشاہ کو خط لکھا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو میں اپنے چچا زاد بھائی سیدنا علیؓ سے صلح کرلوں گا اور ہم دونوں مل کر تمہیں تمہارے گھر سے بھی نکال دیں گے اور تیرے لیے زمین تنگ کر کے رکھ دیں گے شہنشاہِ روم خوف زدہ ہوگیا اور صلح پر مجبور ہوگیا۔ 

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 126 تاج العروس جلد 7 صفحہ 208)

12۔ جب سیدنا علیؓ شہید ہوئے تو قتل کا یہ منصوبہ تین افراد کے خلاف تیار کیا گیا تھا سیدنا علیؓ سیدنا عمرو بن عاصؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا عمرو بن عاصؓ صاف بچ گئے سیدنا امیرِ معاویہؓ زخمی ہوئے اور سیدنا علیؓ شہید کردیے گئے۔ 

(البدایہ والنہایہ جلد 7 صفحہ 313)

اس واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ یہ تینوں ہستیاں ایک جان تھیں اور ان کا دشمن مشترک تھا۔

13۔ نبی کریمﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو ایک قمیض پہنائی تھی اور ان کے پاس نبی کریمﷺ کی وہ قمیض چادر ناخن اور بال مبارک بھی موجود تھے سیدنا امیرِ معاویہؓ نے وفات سے پہلے وصیت فرمائی تھی کہ مجھے حضورﷺ والی قمیض کا کفن پہنا کر آپﷺ والی چادر میں لپیٹ کر ناخن اور بال مبارک میری آنکھوں اور منہ پر رکھ دیے جائیں اور مجھے اللہ کے حوالے کر دیا جائے۔

(الاکمال فی عقب المشکوٰۃ صفحہ 617 و مثلہ فی اسد الغابہ جلد 4 صفحہ 387 نبراس صفحہ 307 البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 148)

14۔ مشہور و معروف تابعی سیدنا محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی وفات کا وقت آیا تو آپ سجدے میں پڑگئے اور باری باری اپنے رخسار زمین پر رکھ کر رونے لگے اور دعا فرمائی کہ اے اللہ میری مغفرت فرما دے میری خطاؤں سے درگزر فرما تو وسیع مغفرت والا ہے اور خطا کاروں کے لیے تیرے سوا کہیں پناہ نہیں آپ اپنے گھر والوں کو تقویٰ کی وصیت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ 

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 149۔150)

یہ سب باتیں اور خصوصاً وفات کے وقت آپ کی زبان مبارک پر اتَّقُوا اللہ  کے الفاظ کا جاری ہونا آپؓ کا خاتمہ ایمان پر ہونے کی واضح دلیل اور مثبت ترین قرائن ہیں۔

 محدثین کے اقوال:

1۔ محدثین علیہم الرحمہ نے اپنی اپنی حدیث کی کتابوں میں فضائل سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ذکر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نام سے باب قائم فرماتے ہیں جن میں سے بہت سی احادیث آپ گزشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔

2۔ امام احمد بن حنبلؒ سے کسی نے سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی:

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۝۔

(سورة البقرہ آيت نمبر141)

یعنی یہ ایک قوم ہے جو تم سے پہلے گزر چکی ہے انکے اعمال انکے لیے تمہارے اعمال تمہارے لیے انکے اعمال کے بارے میں تم سے سوال نہیں کیا جائے گا۔

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 137)

3۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں: 

سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح فرمانا سیدنا امیرِ معاویہؓ کی امارت کے صحیح ہونے کا ثبوت ہے۔ 

(اشعۃ اللمعات جلد 4 صفحہ 697)۔

4۔ حضرت ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ: 

پرانے بزرگوں نے ان جنگوں کے بارے میں خاموش رہنے کو پسند فرمایا ہے اور نصیحت کی ہے کہ تِلْكَ دِمَائَ طَهَّرَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْدِينَا فَلَا تلَوثُ بِهَا الْسِنَتَنَا یعنی جن لوگوں کے خون سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ان کی غیبت کر کے ہم اپنی زبانوں کو ناپاک کیوں کریں۔

(مرقاۃ جلد 11 صفحہ 379)

5۔ علامہ ابنِ حجر مکیؒ نے ایک مکمل کتاب سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں لکھی ہے جس کا نام تطہیر الجنان ہے۔

6۔ علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری میں علامہ قسطلانی نے ارشاد الساری میں علامہ کرمانی نے شرح کرمانی میں اور بے شمار محدثین نے اپنی اپنی کتب میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان بیان فرمائی ہے اور ان پر زبان درازی سے منع فرمایا ہے۔

 صوفیاء کے اقوال:

اس سے پہلے:

(1)۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ کا خواب اور 

(2)۔ سیدنا عمرو بن شرحبیل ہمدانیؒ کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔

(3)۔ سیدنا عبداللہ بن مبارکؒ سے کسی نے پوچھا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ افضل ہیں یا سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ؟ آپ نے فرمایا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گھوڑے کی ناک میں جمنے والی مٹی بھی سیدناوعمر بن عبدالعزیزؒ سے افضل ہے۔

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 146)

(4)۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ ساری زندگی سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی خدمت میں وظیفہ پیش کرتے رہے اور یہ دونوں شہزادے بخوشی اُسے قبول فرماتے رہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ لکھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کے پاس ایک ضرورت مند اپنی حاجت لے کر حاضر ہوا آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ ہمارا رزق راستے میں ہے تھوڑی دیر میں دینار کی پانچ تھیلیاں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے پہنچ گئیں ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار تھے قاصد نے عرض کیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ دیر سے وظیفہ پیش کرنے پر معذرت کر رہے تھے آپؓ نے وہ پانچوں تھیلیاں ضرورت مند کو دے دیں اور اتنی دیر بٹھائے رکھنے پر معذرت چاہی۔ 

(کشف المحجوب صفحہ 77)

(5)۔ سیدنا غوثِ اعظمؒ فرماتے ہیں: 

رہا سیدنا امیرِ معاویہؓ اور سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کا معاملہ تو وہ بھی حق پر تھے اس لیے کہ وہ خلیفہ مظلوم کے خون کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور قاتلِ سیدنا علیؓ کے لشکر میں موجود تھے پس ہر فریق کے پاس جنگ کے جواز کی ایک وجہ موجود تھی لہٰذا ہمارے لیے سکوت اس سلسلہ میں سب سے اچھی بات ہے ان کے معاملے کو اللہ کی طرف لوٹا دینا چاہیے وہ سب سے بڑا حاکم اور بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ہمارا کام تو یہ ہے کہ ہم اپنے عیوب پر نظر ڈالیں اور دلوں کو گناہوں کی چیزوں سے اور اپنی ظاہری حالتوں کو تباہی انگیز کاموں سے پاک اور صاف رکھیں۔

(غنیۃ الطالبین صفحہ 186)

6۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ نے مثنوی شریف میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا نہایت ایمان افروز واقعہ شعروں میں لکھا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شیطان نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو نماز کے وقت تھپکیاں دے کر سلا دیا جب وہ جاگے تو نماز کا وقت گزر چکا تھا آپؓ نماز کے قضاء ہونے پر سخت روئے اور پشیماں ہوئے دوسرے دن شیطان نے انہیں بر وقت جگا دیا آپؓ نے شیطان سے پوچھا کہ تم تو لوگوں کو غافل کرنے پر لگے ہوئے ہو آج تم نے مجھے نماز کے لیے کیسے جگا دیا؟ شیطان نے کہا کل نماز کے قضاء ہونے پر آپ اتنا روئے اور پشیماں ہوئے کہ اللہ نے آپ کو نماز پڑھنے سے بھی زیادہ اجر دے دیا آپ کو ملنے والا وہ اجر دیکھ کر میں نے سوچا کہ آپ کو غافل کرنے سے بہتر ہے کہ آپ نماز ہی پڑھ لیں اس کے لیے مولانا رومیؒ نے یہ عنوان قائم کیا ہے:

 بیدار کردن ابلیس سیدنا امیر المومنین معاویهؓ را کہ برخیز کہ وقت نماز است۔

یعنی ابلیس کا امیر المومنین سیدنا معاویہؓ کو جگانا کہ اٹھو نماز کا وقت ہے۔

(مثنوی معنوی مولانا رومؒ دفتر دوم صفحہ 248)۔

7۔ ایک اللہ کے ولی نے خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت کی آپﷺ کے پاس سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ موجود تھے راشد الکندی نامی ایک شخص آیا سیدنا عمر فاروقؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ‎ یہ شخص ہم میں نقص نکالتا ہے کندی نے کہا یا رسول اللہﷺ‎ میں ان سب میں عیب نہیں نکالتا بلکہ صرف اس ایک میں عیب نکالتا ہوں اس نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی رسول اللہﷺ نے ایک نیزہ پکڑا اور سیدنا معاویہؓ کو دے دیا اور فرمایا یہ اس کے سینے میں مارو انہوں نے اسے نیزہ مار دیا میری آنکھ کھل گئی صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ راشد کندی کو رات کے وقت سچ مچ کسی نے مار دیا ہے۔ 

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 147)

8۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندیؒ فرماتے ہیں:

امیر المومنین سیدنا علیؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ہم سے بغاوت کرنے والے ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ نہ کافر ہیں نہ فاسق کیونکہ ان کے پاس تاویل موجود ہے جو انہیں کافر اور فاسق کہنے سے روکتی ہے۔ اہلِ سنت اور رافضی دونوں امیر المومنین سیدنا علیؓ کے ساتھ لڑائی کرنے والوں کو خطاء پر سمجھتے ہیں اور دونوں امیر المومنین سیدنا علیؓ کے حق پر ہونے کے قائل ہیں لیکن اہلِ سنت سیدنا علیؓ سے جنگ کرنے والوں کے حق میں محض خطا کے لفظ سے زیادہ سخت لفظ استعمال کرنا جائز نہیں سمجھتے اور زبان کو ان کے طعن و تشنیع سے بچاتے ہیں اور سیدنا خیر البشر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا صحابی ہونے کا حیاء کرتے ہیں۔

(مکتوبات امام ربانی جلد 2 صفحہ 95 مکتوب نمبر 36)۔

9۔ امام عبد الوہاب شعرانیؒ ایک عظیم ترین صوفی بزرگ ہیں اور حضور شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی قدس سرہ کے نظریات کے زبردست پر چارک ہیں آپ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب الیواقیت والجواہر میں ایک سرخی قائم فرمائی ہے وہ سرخی یہ ہے:فِي بِيَانِ وَجُوْبِ الْكَفِّ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَ الصَّحَابَةِ وَوُجُوبِ اعْتِقَادٍ أَنَّهُمْ مَا جُورُون۔

یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی جھگڑوں کے بارے میں زبان کو لگام دینا واجب ہے اور ان سب کے ماجور ہونے کا اعتقاد واجب ہے۔

اس عنوان کے تحت آپ نے زبردست بحث فرمائی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ اس موضوع پر بعض تاریخ دانوں کی خلاف تحقیق باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہیں اور تاریخ پڑھتے وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مرتبے اور مقام کو لحوظ رکھنا چاہیے اس لیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مرتبہ قرآن وسنت سے ثابت ہے جب کہ تاریخ محض کچی پکی باتوں کا مجموعہ ہے سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ:

 تلکَ دِمَائَ طَهَّرَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْهَا سَيُوْ فَنَا فَلَا نَخْضِبْ بِهَا الْسِنَتَنَا۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خون سے ہماری تلواروں کو بچا لیا ہے تو ہم اپنی زبانوں کو ان کی غیبت کر کے کیوں گناہ گار کریں یہی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین اپنے کندھوں پر لادا اور ہم تک پہنچایا ہمیں نبی کریمﷺ کی طرف سے ایک لفظ بھی اگر پہنچا ہے تو انہی کے واسطے سے پہنچا ہے لہٰذا جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کیا اس نے اپنے دین پر طعن کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ اطہار کے درمیان ہونے والی غلط فہمیوں کا معاملہ نہایت نازک اور دقیق ہے اس میں رسول اللہﷺ کے بغیر کوئی شخص فیصلہ دینے کی جرات نہ کرے اس لیے کہ یہ مسئلہ حضور کی اولاد اور حضور کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہے آگے کمال الدین بن ابی یوسفؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ لیس المراد بما شجر بین علی ومعاويةؓ المنازعة فى الامارة كما توهمه بعضهم وانما المنازعة كانت بسبب تسليم قتلة عثمانؓ الى عشيرته ليقتصوا منهم الى آخره یعنی سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان جو برادرانہ جھگڑا ہوا اس سے مراد حکومت کی خاطر جنگ لڑنا نہیں ہے جیسا کہ بعض شیعہ کو وہم ہوا ہے یہ جھگڑا محض اس بات کا تھا کہ سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں کو ان کے رشتہ داروں کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ قصاص لے سکیں سیدنا علیؓ کی رائے یہ تھی کہ ان کو گرفتار کرنے میں تاخیر کرنا بہتر ہے اس لیے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ سیدنا علیؓ کے لشکر میں گڈ مڈ ہوچکے تھے ایسی صورتِ حال میں قاتلوں کو گرفتار کرنا حکومت کو ہلا کر رکھ دینے کے مترادف تھا اس لیے کہ جنگ جمل کے دن جب سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں کو فوج سے نکل جانے کا حکم دیا تھا تو ان میں سے بعض ظالموں نے سیدنا علیؓ کے خلاف خروج کرنے اور انہیں قتل کرنے کا عزم کرلیا تھا اس کے برعکس سیدنا امیر معاویہؓ کی رائے یہ تھی کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرنا چاہیے اب یہ دونوں ہستیاں مجتہد ہیں اور دونوں کو اجر ملے گا۔

(الیواقیت والجواهر جلد 2 صفحه 445)

10۔ حضرت علامہ عبدالعزیز پرھارویؒ کے پاس علم لدنی تھا آپ کسی استاد کے پاس نہیں پڑھے تھے آپ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں ایک مکمل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جس کا نام ہے ناہیہ عن ذم معاویہؓ۔

ہم نے عشرہ کاملہ کے طور پر دس اولیائے کرام کے حوالے نقل کر دیے ہیں اگر یہ تمام اولیاء علیہم الرضوان سیدنا امیرِ معاویہؓ کا احترام کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے تو پھر آپ کو وہ جنت مبارک ہو جو اولیاء کی دشمنی کے نتیجے میں ملا کرتی ہے۔ 

ذُقُ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ۔

 عقائد کی کتب میں تعلیم:

عقائد کی تمام کتابوں میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں زبان کو لگام دینے پر زور دیا گیا ہے۔

(شرح عقائد نسفی صفحہ 123 شرح فقہ اکبر صفحہ 65 نبراس صفحہ 307 الیواقیت والجواہر جلد 2 صفحہ 445)۔

فاضل بریلویؒ نے مسائل کلامیہ میں لکھا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؒ اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہیں نسیم الریاض کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: 

وَمَنْ يَكُونُ يَطْعَنَ فِي مُعَاوِيَةَؓ فَذَالِكَ كَلْبَ مِنْ كِلَابِ الْهَاوِيَةِ۔

 یعنی جو سیدنا امیرِ معاویہؓ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔

(فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ 62)۔

 شیعہ کی کتب میں فضاںٔل:

1۔ سیدنا علیؓ فرمایا کرتے تھے کہ: 

إِنَّا لَمْ نَقَاتِلُهُمْ عَلَى التَّكْفِيرِ لَهُمْ وَلَمْ تُقَاتِلُهُمْ عَلَى التَّكْفِيرِ لَنَا لَكِنَا رَأَيْنَا إِنَّا عَلَى حَتَّى وَرَأَوْا أَنَّهُمْ عَلَى حَتَّی۔ 

یعنی ہم انہیں کافر قرار دے کر ان سے جنگ نہیں لڑ رہے اور نہ ہی اس لیے لڑ رہے ہیں کہ یہ ہمیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ہمارے خیال کے مطابق ہم حق پر ہیں اور ان کے خیال کے مطابق وہ حق پر ہیں۔

(قرب الاسناد جلد 1 صفحہ 45)۔

إِنَّ عَلِياً عليه السلام لَمْ يَكُنْ يُنْسِبْ أَحَداً مِنْ أَهْلِ حَرْبِهِ إِلَى الشَّرْكِ وَ لَا إِلَى النِّفَاقِ وَلَكِنْ يَقُوْلُ هُمُ اخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَيْنَا۔ 

یعنی کہ سیدنا علیؓ اپنے مخالفوں کو نہ ہی مشرک سمجھتے تھے اور نہ ہی منافق بلکہ فرماتے تھے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں جو ہم سے بغاوت پر اتر آئے ہیں۔

(قرب الاسناد جلد 1 صفحہ 45)۔ 

یہی حدیث اہلِ سنت کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔

(بیہقی جلد 8 صفحہ 172 اشعة اللمعات جلد 4 صفحہ 317)۔ 

سیدنا علیؓ کے فرمان سے واضح ہوگیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کافر کہنے والا سیدنا علیؓ کے فیصلے کا منکر ہے اور ایک مصدقہ مسلمان کو کافر کہہ کر خود کافرانہ حرکت کر رہا ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے دشمنی کرنے والا سیدنا علیؓ کے بھائی سے دشمنی کر رہا ہے۔

آج جو لوگ سیدنا علیؓ سے جنگ کی وجہ سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کافر اور جہنمی کہہ رہے ہیں کیا ان میں ہمت ہے کہ وہ سیدنا علیؓ کا ایسا قول دکھا سکیں جس میں انہوں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کافر اور جہنمی قرار دیا ہو؟ بلکہ الٹا سیدنا علیؓ انہیں اپنا بھائی قرار دے رہے ہیں اور ان کی منافقت نہیں بلکہ غلط فہمی تسلیم کر رہے ہیں۔

3۔ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ: ابتدا اس طرح ہوئی کہ ہمارا اور شام والوں کا آمنا سامنا ہوا اور ظاہر ہے کہ ہمارا رب بھی ایک ہمارا نبی بھی ایک ہماری دعوتِ اسلام بھی ایک نہ ہی ہمارا دعویٰ تھا کہ ہم اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق میں ان سے بڑھ کر ہیں اور نہ ہی وہ اس بات کا دعویٰ کرتے تھے معاملہ بالکل برابر تھا اگر اختلاف تھا تو صرف سیدنب عثمانؓ کے خون میں اختلاف تھا حالانکہ ہم اس سے بری تھے۔

(نہج البلاغہ صفحہ 424)۔

اخْتِلافُ أَصْحَابِى لَكُمْ رَحْمَةً۔

یعنی میرے صحابہ کا اختلاف تمہارے لیے رحمت ہے۔

(احتجاج طبری جلد 2 صفحہ 105-106)

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حق میں اس قدر دلائل کے ہوتے ہوئے ان پر زبان درازی کرنا محض بدنصیبی کی علامت ہے اصول یہ ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن سے کام لینا واجب ہے اور اگر اس کا کوئی نقص یا عیب نظروں میں آئے بھی تو جہاں تک ہوسکے اس میں صحت کا پہلو تلاش کر کے اس سخت فتویٰ سے بچانا ضروری ہے۔

ایک عام آدمی کے حق میں احتیاط اور حسنِ ظن ضروری ہے تو ایک صحابی کاتبِ وحی محبوبِ کریمﷺ کے برادر نسبتی کے بارے میں کتنا حسنِ ظن ضروری ہوگا اور پھر اس کے بارے میں احادیث میں اس قدر تصریحات موجود ہوں تو اس کے بارے میں لب کشائی کرتے وقت کتنی احتیاط لازم ہوگی۔

میرے عزیز! اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جنگوں میں سیدنا علیؓ حق پر تھے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا موقف درست نہ تھا مگر اس کے باوجود انہیں حبیبِ کریمﷺ نے مسلمان قرار دیا ہے لہٰذا ہم ان کی خطا کو اجتہادی خطا یا غلط فہمی اور اچھی نیت پر محمول کرتے ہیں اتنی سی بات ہے جس کا آپ نے بتنگڑ بنا دیا ہے۔

آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر عیب نکالتے رہتے ہیں اور ہم نہایت ادب اور احتیاط کے ساتھ ان کا بہتر محمل تلاش کرتے رہتے ہیں یہ اپنا اپنا نصیب ہے۔

قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْلَهَا۔

یعنی اس امت کے بعد والے لوگ پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے۔

(ترمذی مشکوٰۃ صفحہ 470)

نبی کریم ﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا کہ ایک ایسی قوم نکلے گی جو آپ سے محبت کا دعویٰ کرے گی اسلام کو رسواء کرے گی دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر نکل جاتا ہے انکے نظریات عجیب ہوں گے انہیں رافضی کہا جائے گا وہ مشرک لوگ ہوں گے ان کی نشانی یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جمعہ اور جماعت میں نہیں آئیں گے اپنے سے پہلے لوگوں پر طعن و تشنیع کریں۔

(دارِ قطنی صواعقِ محرقہ صفحہ 161)

واضح رہے کہ آپ کے دوسرے بھائی (خارجی) سیدنا علیؓ کو غلط کہتے پھرتے ہیں۔

حضور غوث اعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ لکھتے ہیں کہ: خارجیوں کا قول اسکے خلاف ہے اللہ انکو ہلاک کرے وہ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کبھی بھی امام برحق نہ تھے۔

(غنیۃ الطالبین صفحہ 186)

چنانچہ ایک خارجی لکھتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا موقف ہر اعتبار سے صحیح تھا اور سیدنا علیؓ کا صحیح نہ تھا اپنی سیاسی مصلحتوں پر مبنی تھا۔

(تحقیق مزید بسلسلہ خلافتِ معاویہؓ و یزید صفحہ 137 مصنف عظیم الدین خارجی)

اہلِ سنت کے نزدیک جیسا یہ خارجی زبان دراز ہے ویسے ہی آپ زبان دراز ہیں اور بڑوں کے معاملہ میں جج۔ 

یہ بھی واضح رہے محمود عباسی اینڈ کمپنی خارجیوں نے سیدنا حسینؓ علی جدہ و علیہ الصلوٰۃ و السلام کو بھی باغی کہہ دیا ہے (نعوذ باللہ من ذلک)

ہمارے نزدیک آپ میں اور ان خارجیوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ بے ادبی اور بدتمیزی بلکہ بدبختی قدر مشترک ہے۔

 حرفِ آخر:

سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں اپنا عقیدہ قائم کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ امیرِ بخاری مسلم ترمذی مسند احمد سنن سعید بن منصور مصنف ابنِ ابی شیبہ اور البدایہ والنہایہ جیسی کتابوں سے ہم نے آپکے جو فضائل نقل کیے ہیں انہیں فراموش نہ کیا جائے۔ 

ثانیاً نبی کریمﷺ نے انہیں بغاوت کے باوجود مسلمان قرار دیا ہے۔ 

(بخاری جلد 1 صفحہ 530)

ثالثاً سیدنا علیؓ نے بھی انہیں بغاوت کے باوجود بالکل اپنے جیسا مسلمان تسلیم کیا ہے۔

(نہج البلاغہ صفحہ 424)

رابعاً سیدنا حسنؓ نے انہیں خلافت سونپ کر واضح فرما دیا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ مسلمان تھے ورنہ لازم آئے گا کہ آپ نے معاذ اللہ ایک کافر اور جہنمی کو خلافت سونپی اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی۔ 

خامساً سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بغاوت کے بعد امیر المومنین بھی تسلیم کیا ہے اور صحابی ماننے کے علاوہ فقیہ بھی قرار دیا ہے جب کہ سیدنا ابنِ عباسؓ اہلِ بیت کے عظیم فرد ہیں۔

(بخاری جلد 1 صفحہ 531)

سادساً نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ میری امت کی اکثریت گمراہ نہیں ہوسکتی۔

(ترمذی جلد 2 صفحہ 39 ابنِ ماجه صفحہ 283)

جبکہ مسلمانوں کی اکثریت اہلِ سنت پر مشتمل ہے اور اہلِ سنت سیدنا امیرِ معاویہؓ کو صحابی مسلمان اور جنتی سمجھتے ہیں۔ 

سابعاً بڑوں کے درمیان غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں یہ غلط فہمیاں نبیوں صحابیوں ولیوں اور اہلِ بیتؓ کے درمیان بھی ہوتی رہی ہیں انکی بنا پر اپنے سے بڑے بزرگوں پر زبان درازی کرنا درست نہیں۔ 

ثامناً اگر تفصیلی دلائل کسی کی سمجھ میں نہ بھی آئیں تو احتیاط اسی میں ہے کہ ادب کا دامن نہ چھوڑا جائے غلطی سے کسی کی بے ادبی کرنے سے غلطی سے کسی کا ادب کرنا بہتر ہے۔

قاعدہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کی بات میں صحت کا پہلو تلاش کر کے اسے کفر کے فتویٰ سے بچانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر کسی نے دوسرے کو کافر کہا اور وہ فی الواقع کافر نہیں ہے تو اسے کافر کہنے والا خود کافر ہوجائے گا۔

(مسلم جلد 1 صفحہ 57)

بعض بدقسمت لوگ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو جہنمی ثابت کرنے کیلئے جتنی محنت سے کام لے رہے ہیں اس قدر محنت اور تکلف ویسے ہی جائز نہیں ہے خواہ کسی عام آدمی کے خلاف کیوں نہ ہو چہ جائیکہ سیدنا امیرِ معاویہؓ تو پھر بھی ایک صحابی ہیں اور انکے بے شمار فضائل احادیث میں بیان ہوچکے ہیں خوب سمجھ لیجیے یہ جملہ بہت قیمتی ہے۔

ابنِ عساکر نے ابو زرعہ رازی سے روایت کیا ہے کہ ان سے ایک آدمی نے کہا کہ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بغض رکھتا ہوں انہوں نے کہا کس وجہ سے؟ اس نے کہا اس لیے کہ اس نے سیدنا علیؓ سے جنگ لڑی تھی ابو زرعہ نے فرمایا تیرا خانہ خراب سیدنا امیرِ معاویہؓ کا رب رحیم ہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ سے جنگ کرنے والا سیدنا علیؓ کریم ہے تمہیں ان دونوں کے درمیان پنگا لینے کی کیا ضرورت ہے۔

(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 137)

 نوٹ: سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں اور آپؓ پر وارد کیے جانے والے اعتراضات کے رد میں مندرجہ ذیل کتب لکھی جاچکی ہیں مگر افسوس کہ مکار لوگ بار بار انہی گھسے پٹے سوالات کو دوہراتے رہنے کے عادی ہیں۔

1۔ دشمنانِ امیرِ معاویہؓ کا علمی محاسبہ شیخ الحدیث حضرت مولا نا محمد علی صاحب۔

النار الحاميه لمن ذم المعاویهؓ حضرت مولانا محمد نبی بخش حلوائی۔

3۔ سیدنا امیر معاویہؓ مفتی احمد یار خان صاحب نعیمی۔

ناہیہ عن ذم معاویہؓ حضرت علامہ عبد العزیز پرہاروی۔

5۔ تطهير الجنان حضرت علامہ ابنِ حجر مکیؒ علیہم الرحمتہ۔

 وَمَا عَلَيْنَا إِلا الْبَلَاغُ۔