Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

ایک ملزم ہوتا ہے اور الزام ہوتا اب قادیانی خود ملزم ہے 50 زائد حوالے ہے کہ انہوں نے خود نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور رہے شیعہ یہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ وہ معصوم ہے وغیرہ جبکہ اہلسنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ بالاتفاق تمام ائمہ مسلمان ہیں۔

سوال پوچھنے والے کا نام:   کنزہ

جواب 

یہاں جس الزام اور التزام کی کہانی شروع کی گئی ہے یہ بھی اہلِ قبلہ والے عنوان جیسی ایک خود فریبی ہے 

فرزندان آل رسولﷺ میں سے کسی نے بھی اپنے معصوم منصوص مفترض الطاعتہ ہونے کا عقیدہ نہ بیان کیا اور نہ ہی اختیار کیا لہٰذا امت اسلام کا کوئی فرد ان نفوس قدسیہ کے بارے میں وہ رائے قائم نہیں کرتا جو رائے ان دشمنانِ صحابہؓ کے بارے میں قائم کی گئی ہے جو انبیاء کے علاوہ کسی اور کو معصوم منصوص مفترض الطاعتہ اور حلال حرام کا مختار قرار دیتے ہیں کیونکہ دشمنانِ صحابہؓ کا آل رسولﷺ کے قدسی صفت حضرات پر یہ الزام ہے کہ وہ خود کو مصوم وغیرہ کہتے ہیں التزام نہیں اور شرعی حکم کا تعلق التزام کے ساتھ ہے الزام کے ساتھ نہیں اب دشمنانِ صحابہؓ نے چونکہ انبیاء کے علاوہ اور لوگوں کے لیے بھی حلال حرام وغیرہ خصوصیات انبیاء کا عقیدہ اختیار کیا ہوا ہے۔

جو کہ اہل علم کے مطابق عقیدہ ختم نبوت کا انکار ہے چونکہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی عقیدہ اختیار کرنے کا دشمنانِ صحابہؓ میں التزام پایا جاتا ہے لہٰذا ان پر شریعت وہی حکم جاری کرے گی جو حکم انکار ختم نبوت کا ہے۔

خلاصہ یہی ہے کہ جہاں جہاں عقیدہ ختم نبوت کے منافی عقیدہ کا التزام پر پایا جائے گا وہاں پر انکار ختم نبوت والا حکم بھی نافذ ہو جائے گا اور جہاں محض الزام ہو التزام نہ پایا جائے تو وہاں پر شریعت کا وہ حکم بھی نہیں لگتا۔

فرزندانِ آل رسولﷺ پر الزام ہے التزام نہیں لہٰذا ان پر وہ حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

دشمنانِ صحابہؓ میں عقیدہ امامت کی آڑ میں انکارِ ختم نبوت کا التزام ہے لہٰذا وہی حکم لگے گا

مرزا غلام احمد کے ہاں انکارِ ختم نبوت کا التزام ہے لہٰذا اس پر بھی وہی حکم جاری ہو گا، قادیانی امت کے ہاں بھی التزام ہے لہٰذا حکم بھی التزام والا ہے۔