سوال:
مولانا جی اس زمانے میں تفضیلی شیعہ بھی موجود ہیں جو کسی کے نزدیک کافر نہیں ہے پھر تمام شیعہ پر کفر کا حکم علی اطلاق لگانا کیوں؟
جواب
جنگلی چوہا دھوکہ دہی میں جو کمال رکھتا ہے وہ ضرب المثل ہے وہ اپنا گھر کچھ اس طرح سے بناتا ہے کہ شکاری اس کی چال کے آگے بے کار ہو جاتا ہے چنانچہ وہ اپنے گھر کے دو راستے رکھتا ہے ایک کا نام نافقا ہے اور دوسرے کا نام قاصعا ہے شکاری جب اس کی طرف لپکتا ہے تاکہ اس کا شکار کرے تو یہ اپنے گھر کے ایک راستے سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جاتا ہے تاکہ شکاری کو دھوکا دے پس شکاری اس انتظار میں رہتا ہے کہ وہ اس جگہ سے نکلے گا جہاں سے داخل ہوا ہے مگر دھوکہ باز جنگلی چوہا تو کب کا وہاں سے نکل چکا ہوتا ہے۔ نفاق اسی نافقا سے ماخوذ ہے اگر اس تعریف کو سامنے رکھ لیا کر عصر حاضر میں پائے جانے والے دین نفاق کو پہچاننے کی کوشش کی جائے تو حقیقت حال سورج نصف النہار کی طرح واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے
اپنی زبان سے خود کو مومن کہہ کر دشمنانِ صحابہؓ کا گروہ صدیوں سے دین حق پر حملہ اور ہونے کے باوجود اور ملت اسلامیہ کی جڑیں کھوکھلا کرنے کے باوجود آج تک موجود ہے کیسے؟ اسی طرح کہ جب کبھی وہ امت اسلام میں بدنام ہونے لگتا ہے اور اس کی اصل حقیقت کھلنے لگتی ہے تو وہ فوراً پینترا بدل کر ایک نئے گروہ کی شکل میں سامنے لے آتا ہے۔
اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دور حاضر میں پاکستان کے اندر پائے جانے والے اثناء عشری گروہ نے خود اپنے دو گروہ متعارف کروانا شروع کر دیے ہیں ان کے بقول ایک گروہ تو ذاکروں کا ہے جبکہ دوسرا ان کے ایت اللہ صاحبان کا دکھانے میں یہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن ثابت کر رہے ہیں۔۔ جو دراصل علمائے حق کی اس تحریک کو بے اثر کرنے کی کوشش ہے جس کے بعد اثناء عشری دین پوری طرح ننگا ہو کر امت اسلام کے سامنے اگیا اور ان کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملی تب انہوں نے اپنے اثناء عشری گروہ کو ہی دو دینوں کی شکل دے کر یہ دکھانا شروع کر دیا کہ ہمارے بھی دو گروہ ہیں۔
*پس یہ تفضیلی والا چکر بھی اسی طرح کا ہے ورنہ کسی بھی دین کو ثابت کرنے کے لیے کہ وہ دین پایا جاتا ہے یا نہیں ضروری ہے کہ اس دین کا کوئی دین سکھانے والا مرکز موجود ہو پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہاں کسی مقام پر تفضیلی پائے جاتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس مدرسے اور دینی مرکز کا نام بتائیں کہ جو تفضیلی گروہ کا ہے مگر اج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا بس ایک مفروضہ ہے جو دھوکہ دینے والے لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور ہم ان کی زبان سے سن کر من تسلیم کر کے ڈگڈگی بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ امر واقعہ کے بالکل خلاف ہے*