Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

سوال 

اکثر سنی لوگ جواب میں یہ کہتے ہیں کہ بیشک شیعہ کے عقائد غلط ہیں اور وہ کافر بھی ہیں لیکن اسلام کہتا ہے کہ کافر کو بھی کافر نہیں کہنا چاہیے اس پر براہ مہربانی رہنمائی فرما دے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ تم ان کو برا کہو گے تو وہ تمہارے بڑوں یعنی صحابہؓ کو برا کہیں گے۔

سوال پوچھنے والے کا نام:   محمد انس

جواب

کافر کو بھی کافر نہیں کہنا چاہیے، یہ جملہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ ممکن ہے کسی جاہل شخص نے اس قسم کی کوئی بات کہہ دی ہو ورنہ دین اسلام یہ تعلیم ہرگز نہیں دیتا اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جہاں یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا سے ایمان والوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کا نام لیا اسی طرح قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ میں ان نام لیا تو یہاں کافروں کو خود اللّٰہ تعالیٰ نے کافر ہی کہہ کر پکارا ہے پس اسلام کی دعوت یہ نہیں ہے کہ کافر کو کافر بھی نہ کہو۔

بلکہ اس کے برعکس صورتحال یہ ہے کہ جس طرح کسی مسلمان کو کافر کہنا جائز نہیں اسی طرح کسی کافر کو مسلمان کہنا بھی جائز نہیں اس بارے میں افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ کسی مسلمان کو کافر نہ کہو یہ مسئلہ حدیث میں آیا ہے یعنی اللّٰہ کے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص اگر کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے تو ان دو میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے۔ جس کو کافر کہا گیا اگر وہ واقعی کافر ہے تو یہ فتویٰ اس پہ لگ جائے گا ورنہ لوٹ کر اس شخص کی طرف آ جائے گا جو یہ فتوی دینے والا ہے۔

 لیکن کسی کافر کو مسلمان نہ کہو یہ مسئلہ اللّٰہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے سورۃ نساء کی 88 نمبر آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے درمیان کافروں کے باب میں اختلاف ہو جانے کے وقت نہایت ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کر دیا ہے تم ان کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنے لگ گئے ہو اور کیا تم ان کو ہدایت دینا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہے؟ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ

تو جو مسئلہ حدیث پاک کا ہے وہ تو بچہ بچہ جانتا ہے عالم جاہل سب اس کو بیان کرتے ہیں اور جو مسئلہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس حوالے سے قرآن میں بیان کیا وہ نہ کسی خواص کی زبان پر آتا ہے اور نہ کسی عام مسلمان کی زبان پر! 

تو اس مسئلہ کا یہ ایک افسوسناک پہلو ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس طرح کسی مسلمان کو کافر کہنا جائز نہیں اسی طرح کسی کافر کو مسلمان کہنا بھی جائز نہیں۔

دوسری بات جو اس موقع پر ساتھ ملائی گئی ہے کہ تم اگر ایسا کرو گے تو لوگ تمہارے بڑوں کو یعنی صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہیں گے یہ بھی نہایت جاہلانہ بات ہے اصل بات یہ ہے اللّٰہ تعالیٰ نے قران پاک میں فرمایا کہ تم ان کے جھوٹے خداؤں کو گالیاں نہ دو ورنہ وہ تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے 

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍؕ

لہٰذا جس نے یہ ٹانکے بازی کی وہ یہ جہالت کا مظاہرہ ہے نہ کہ علم کی روشنی۔ 

 سوچنے کی بات ہے اگر کافر کو کافر نہیں کہا جائے گا تو کیا مسلمان کہیں گے ؟؟؟ 

اگر کافر کو کافر نہیں کہنا تو عام لوگوں کو ان کے کفر کا کیسے پتہ چلنا؟؟؟

اگر کافر کو کافر نہیں کہنا تو کافر کے کفر سے عام مسلمان کیسے اپنے عقائد بچا سکتے ہیں؟؟؟