Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

سوال

گزارش یہ تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روایت شدہ احادیث نبوی پر بعض فرقے بیہودہ اشکالات کرتے ہیں، ان کا منہ توڑ جواب کیلئے کوئی رائے دیں۔

ان سے بحث ومباحثہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ خود کو آگاہ رکھنے کے لئے۔

سوال پوچھنے والے کا نام:   عبداللہ

جواب

اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ‌ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى الۡغَيۡبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجۡتَبِىۡ مِنۡ رُّسُلِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ۖ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ۚ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَلَـكُمۡ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ (آل عمران)

ترجمہ: اللّٰہ ایسا نہیں کر سکتا کہ مؤمنوں کو اُس حالت پر چھوڑے رکھے جس پر تم لوگ اِس وقت ہو، جب تک وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے۔ اور (دُوسری طرف) وہ ایسا بھی نہیں کر سکتا کہ تم کو (براہِ راست) غیب کی باتیں بتادے۔ہاں! وہ (جتنا بتانا مناسب سمجھتا ہے اس کے لئے) اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ لہٰذا تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو۔ اور اگر ایمان رکھو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو زبردست ثواب کے مستحق ہو گے۔ 

ارباب علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں طیب سے مراد صحابہ کرامؓ اور خبیث سے مراد اپنی زبان سے خود کو مومن کہنے والے وہ دشمنانِ صحابہؓ ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی طرح ایمان لانے سے صاف انکاری ہیں۔

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ

پس اپنی زبان سے خود کو مؤمنین کہنے والے دشمنانِ صحابہؓ آج بھی جو صحابہ کرامؓ کی احادیث پر اعتراض کرتے ہیں یہ دراصل اپنے شجرہ نسب وضاحت کر رہے ہوتے ہیں۔

یہاں ہر عقلمند آدمی خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے دو طرح کے لوگ بتائے جن میں ایک تو وہ تھے جو واقعی مومن تھے اللہ کریم نے ان کو طیب کہا دوسرے وہ تھے جو اپنی زبان سے خود کو مومن کہتے تھے مگر واقعتاً مومن نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو خبیث کہا اب جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی احادیث پر اعتراض کرتے ہیں وہ طیب تو ہرگز نہیں ہو سکتے جب طیب نہیں تو پھر ایک ہی نام باقی بچ گیا ہے یعنی طیب جماعت کی احادیث پر اعتراض کرنے والے خبیث ہیں.