Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبادات و معاملات

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا منیٰ و عرفات میں پوری نماز پڑھنا اور قصر نہ کرنا:

29ھ میں حج کے موقع پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں قصر نہ کرتے ہوئے لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے قصر کیا اور دو ہی رکعت نماز پڑھائی پھر سیدنا عثمان بن عفانؓ کے پاس گئے اور عرض کیا: کیا آپؓ نے اس جگہ رسول اللہﷺ‏ کے ساتھ دو ہی رکعت نہیں پڑھی ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں۔ عرض کیا: کیا آپؓ نے اس جگہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو ہی رکعت نہیں پڑھی ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں۔ عرض کیا: کیا آپؓ نے اس جگہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو ہی رکعت نہیں پڑھی ہے؟

فرمایا: کیوں نہیں۔ عرض کیا: کیا آپؓ اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں دو ہی رکعت نہیں پڑھتے رہے ہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں۔ پھر حضرت عثمان بن عفانؓ نے فرمایا: اے ابو محمد! (سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔) مجھے یہ خبر ملی ہے کہ یمن کے کچھ حجاج اور جاہل لوگوں نے گزشتہ سال یہ کہا ہے کہ مقیم کو دو رکعت پڑھنی چاہیے کیوں کہ امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفانؓ دو رکعت پڑھاتے ہیں اور میں نے مکہ میں شادی کی ہے لہٰذا میں نے مناسب سمجھا کہ دو رکعت کے بجائے چار رکعت پڑھوں کیوں کہ لوگوں کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا مجھے خوف ہے پھر مکہ میں میں نے شادی کی ہے اور طائف میں میری جائداد ہے۔ بسا اوقات حج سے فارغ ہو کر یہاں میں قیام کر سکتا ہوں۔

سیدنا عبدالرحمٰنؓ نے فرمایا: ان میں کسی میں آپؓ کے لیے عذر نہیں کہ آپؓ دو رکعت جو رسول اللہﷺ‏ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کی سنت رہی ہے کی جگہ چار رکعت پڑھیں۔ آپؓ کا یہ کہنا کہ میں نے یہاں شادی کی ہے تو آپؓ کی بیوی آپؓ جہاں رہیں گے وہاں وہ بھی رہے گی جب چاہیں لائیں جب چاہیں لے جائیں وہ آپؓ کے تابع ہے۔ اور آپؓ کا یہ کہنا کہ طائف میں میری جائداد ہے تو یہاں آپؓ اور طائف کے درمیان تین دنوں کا فاصلہ ہے اور پھر آپؓ طائف کے باشندوں میں سے نہیں ہیں اور رہا آپؓ کا یہ کہنا کہ اہلِ یمن وغیرہ یہ کہیں گے کہ امیر المؤمنین حضرت عثمانؓ مقیم ہوتے ہوئے دو ہی رکعت پڑھتے ہیں تو رسول اللہﷺ‏ پر نزولِ وحی کا سلسلہ جاری تھا لوگوں میں اسلام کم تھا پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانہ ایسے ہی رہا پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا اسلام غالب آیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وفات تک یہاں دو ہی رکعت پر اکتفا کرتے رہے۔ اس پر سیدنا عثمانِ غنیؓ نے فرمایا یہ میری رائے ہے جو میں نے مناسب سمجھی ہے۔

اس کے بعد یہاں سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نکلے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ فرمایا: ابو محمد! کیا خبر اس کے برعکس ہے جو وہ جانتے ہیں؟ فرمایا نہیں؟ فرمایا: کیا کروں؟ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا جو آپؓ جانتے ہیں اس کے مطابق عمل کیجیے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اختلاف شر ہے مجھے جب یہ خبر ملی کہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے چار رکعت پڑھائی ہے تو میں نے بھی لوگوں کو چار رکعت ہی پڑھائی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن مجھے خبر ملی کہ انہوں نے چار رکعت پڑھائی ہے تو میں نے اپنے ساتھیوں کو دو رکعت پڑھائی، لیکن اب ویسے ہی ہو گا جو آپؓ فرما رہے ہیں یعنی چار رکعت پڑھوں گا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 268)

حضرت عثمانؓ نے منیٰ و عرفات میں قصر نہ کرتے ہوئے مکمل چار رکعت نماز کمزور اور جاہل مسلمانوں پر شفقت کرتے ہوئے پڑھائی تاکہ وہ فتنہ میں مبتلا نہ ہوں، چنانچہ جب سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپؓ سے اس سلسلہ میں پوچھا تو آپؓ نے اس کا معقول سبب بتایا، اور انہیں اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کیا تو انہوں نے آپؓ کے قول کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو پوری نماز پڑھائی اور قصر نہ کیا اسی طرح سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیا اور ان کی مخالفت نہ کی، کیوں کہ آپؓ امامِ راشد تھے جس کی متابعت واجب ہوا کرتی ہے بشرطیکہ شریعتِ مطہرہ سے نہ ہٹا ہو۔ سیدنا عثمانؓ نے جو کچھ کہا اگر اس میں نصِ شرعی کی مخالفت کا ذرا بھی شبہ پایا جاتا تو جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپؓ کی متابعت نہ کرتے۔

(عثمان بن عفان، صادق عرجون: صفحہ، 192)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے سوالات کے جواب میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے جو کچھ فرمایا اور جو دلائل پیش کیے وہ معقول ہیں اگر دین و شریعت کے اسرار و حکم پر بحث کرنے والے اس سلسلہ میں غور کریں تو یہ حقیقت آشکارا ہو گی کہ اس وقت ان حالات میں نماز کو مکمل پڑھنا اور قصر نہ کرنا ہی بہتر تھا کیوں کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے جو رسول اللہﷺ‏ اور عہدِ صدیقی و فاروقی میں نہ تھے جن کی وجہ سے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ لوگ نماز کے سلسلہ میں فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے خاص کر جاہل و گنوار اور جو دور دراز علاقوں کے رہنے والے تھے اور اہلِ علم وہاں تک نہیں پہنچ پاتے تھے جو انہیں احکام و مسائل کی تعلیم دیں لہٰذا حضرت عثمانِ غنیؓ نے اس شر کا دروازہ بند کر دینا چاہا اور آپؓ نے اپنے سلسلہ میں شبہ کے ازالہ کے لیے کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔ فرمایا ان کی بیوی مکہ کی ہیں اور طائف میں ان کی جائداد ہے بسا اوقات ایامِ حج ختم ہونے کے بعد وہاں وہ ٹھہر سکتے ہیں ایسی صورت میں مقیم ہوں گے لہٰذا ان پر اتمامِ فرض ہو گا ان کی یہ دقتِ نظر شریعت کے اسرار و حکم کے دقیق فہم کا نتیجہ تھی۔

(عثمان بن عفان، صادق عرجون: صفحہ، 194)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سفر میں اتمامِ صلاۃ کی قائل رہی ہے جن میں اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عثمان، سیدنا سلمان اور دیگر چودہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔

(کتاب الامامۃ والرد علی الرافضۃ، الأصبہانی: صفحہ، 312) 

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سفر میں قصر کے وجوب کے قائل نہ تھے آپؓ کا وہی موقف تھا جو بعد میں فقہاء مدینہ اور امام مالک رحمۃ اللہ و امام شافعی رحمۃ اللہ وغیرہم نے اختیار کیا ہے اور پھر یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اسی لیے اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف رہا ہے لہٰذا اس کی وجہ سے کفر یا فسق لازم نہیں آتا۔

(الریاض النضرۃ: صفحہ، 566)

رہا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ اختلاف شر ہے

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 268)

اور دوسری روایت میں میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں۔

(القواعد الفقہیۃ، الندوی: صفحہ، 336)

تو اس کے اندر ہمارے لیے یہ رہنمائی اور تذکیر ہے کہ اجتہادی مسائل میں اختلاف سے اجتناب بہتر ہے، اور مسلمان کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ اس کو ذہن میں رکھے اور مختلف فیہ فروعی مسائل میں جنگ و جدال کو کم کرنے کی کوشش کرے۔

(فقہ الاولویات، محمد الوکیلی: صفحہ، 169) 

کیوں کہ جن حالات سے امتِ اسلامیہ دوچار ہے ان حالات میں جدل و اختلاف میں قیمتی اوقات کو ضائع کرنا اور خطرناک چیلنج کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔

(الفکر الاسلامی بین المثالیۃ والتطبیق، کامل الشریف: صفحہ، 29)

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے طرزِ عمل سے یہ بات آشکارا ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وحدتِ ملت کے انتہائی حریص تھے۔