Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شہر فسطاط

  علی محمد الصلابی

اگر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ شہر کوفہ کے اولین مؤسس و بانی شمار کیے جاتے ہیں تو حضرت عمرو بن عاصؓ بھی شہر فسطاط کے مؤسس اول ہیں۔ چنانچہ جب آپؓ اسکندریہ کی فتح سے فارغ ہوئے تو وہیں مستقل سکونت اختیار کرنا چاہی، لیکن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو خط لکھا کہ ایسی جگہ سکونت اختیار کرو کہ اگر مجھے تم تک آنے کی ضرورت پڑے تو ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی نہر یا سمندر نہ پڑے، لہٰذا حضرت عمرو بن عاصؓ اسکندریہ سے فسطاط منتقل ہو گئے۔(فتوح مصر: ابن عبد الحکم: صفحہ 92۔ عربی زبان میں فسطاط خیمہ کو کہتے ہیں، چونکہ آپ نے یہاں شروع میں خیمہ لگایا تھا اس لیے اس کو فسطاط کہا جاتا ہے۔)

سب سے پہلے آپؓ نے وہاں ایک مسجد تعمیر کی جو مسجد حضرت عمرو بن عاصؓ کے نام سے معروف ہوئی، جب کہ ایک مسجد اسکندریہ میں بھی بنائی تھی، پھر وہاں سیدنا عمر بن خطابؓ کے لیے بھی ایک گھر تعمیر کیا، غالباً ان کامقصد یہ رہا ہو کہ یہ دارالخلافہ بن جائے، لیکن حضرت عمر بن خطابؓ نے آپ کو خط لکھا کہ میرے لیے بنائے گئے مکان کو مسلمانوں کا بازار بنا دیا جائے۔ 

(عمرو بن عاص القائد السیاسی: صفحہ 135)

نیز آپ نے مسجد سے قریب ہی اپنے لیے دو گھر بنائے جیسا کہ ابن عبد الحکم اس کی تفصیل ہمارے سامنے اس طرح پیش کرتے ہیں:

جامع عمرو بن عاصؓ کے دروازے کے پاس آج جو گھر ہے اسے سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اپنا گھر بنایا تھا، گھر اور مسجد کے درمیان سے ایک راستہ جاتا ہے، اور اسی گھر سے متصل ہی اپنا ایک دوسرا گھر بنایا تھا۔ 

(فتوح مصر: صفحہ 96، 97)

غالب گمان یہ ہے کہ آپؓ نے اپنے لیے ایک ہی مکان بنایا تھا اور جب حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے لیے تیار کردہ عمارت کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا تھا تو دوسرے مکان کو آپ بحیثیت ’’دارالامارۃ‘‘ استعمال کرتے تھے، حضرت عمرو بن عاصؓ نے اپنے ہم نشین ممتاز صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کو اس کام کا مکلف کیا کہ وہ مختلف قبائل کے اعتبار سے ان کی رہائش گاہوں کے لیے احاطہ مقرر کریں، چنانچہ انہوں نے منظم طریقے سے ان کے مکانات کی جگہ اور سمت کو متعین کیا، اس وقت اس کو خطہ کہا جاتا تھا اور موجودہ دور میں محلہ اور کالونی کے مشابہ تھا، یہ اور بات ہے کہ اس نظام کے تحت آج کی طرح زمینوں کی وسیع حد بندی نہ کی جاتی تھی، بلکہ ہر دو قبیلہ کے درمیان سے ایک سڑک نکالی گئی تھی، انہیں آج کے مفہوم میں ہم سڑک تو نہیں کہہ سکتے، بلکہ یہ کہیں گے کہ ہر دو قبائل کے درمیان میں کشادہ گلیاں نکالی گئی تھیں، زمین کی حد بندی اور پلاٹ کی تقسیم کے لیے مقرر کیے گئے ممتاز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت معاویہ بن خدیج النجیبی، شریک بن سُمی الغطیفی، عمرو بن محرم الخولانی، اور حویل بن ناشرۃ المعافری رضی اللہ عنہم پر مشتمل تھی۔ 21ھ میں انہی حضرات نے لوگوں کو یہاں بسایا، اور قبائل کے اعتبار سے ان کو تقسیم کیا تھا۔ ‘‘

(عمرو بن عاص القائد السیاسی: صفحہ 136)

باوجودیکہ اس مقام پر نو آباد کردہ تمام محلوں اور قبائل کا تفصیلی ذکر ممکن نہیں ہے تاہم چند ایک کا ذکر کرنا فائدہ سے خالی نہیں لفظ محلہ کی جگہ خطہ لکھا گیا ہے، پس ان محلوں میں سے چند کے نام یہ ہیں:

خطہ اسلم، خطہ لیتون، خطہ بنی معاذ، خطہ بلی، خطہ بنی بحر، خطہ مہرۃ، خطہ لنحم، خطہ غافق، خطہ صدف، خطہ حضر موت، خطہ تجیب، خطہ خولان، خطہ مذحج، خطہ مراد، خطہ یافع، خطہ معافر اور انہی کے ساتھ اشعری حضرات بھی تھے۔ 

(فتوح مصر: صفحہ 115، 129 )

مختلف قبائل کے یہ نام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فتح اسکندریہ میں عربی اور غیر عربی قبائل کثرت سے شریک ہوئے تھے، جس کے نتیجہ میں انہی قبائل پر مشتمل بہت زیادہ کالونیاں اور مخصوص رہائشی محلے وجود میں آئے، اور ہر قبیلہ نے اپنے مسائل و ضروریات زندگی کو باہم حل کرنے کے لیے یہ پسند کیا کہ اسے ایک مخصوص طرح کی خود مختاری حاصل رہے، نیز یہ نو آباد محلے ہمیں اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ ہر قبیلہ کی رہائش گاہیں اور کالونیاں متعین کرنے میں حضرت عمرو بن عاصؓ نے بہت دقیق خاکہ و منصوبہ تیار کیا تھا۔ 

(عمرو بن العاص القائد السیاسی: صفحہ 137)

ان قبائل نے اپنے اپنے محلوں کے بالکل بیچ میں اپنے لیے مسجد بنائی تھی۔ 

ابن ظہیرہ نے اپنی کتاب ’’الفضائل الباہرۃ فی محاسن مصر والقاہرۃ‘‘ میں ابن زولاق کے حوالہ سے فسطاط میں تعمیر کردہ جن ابتدائی مساجد کا ذکر کیا ہے ان میں سب سے پہلے جامع عمرو بن عاصؓ کا ذکر ملتا ہے، پھر اس کے بعد ان دیگر مساجد کا شمار ہے جو مخصوص افراد کی طرف منسوب تھیں۔ 

(اہل الفسطاط: دیکھئے صالح أحمد العلی: صفحہ 38)

اس کے بعد مؤلف لکھتے ہیں کہ مساجد مصر کے بارے میں ہماری تیار کردہ فہرست کے علاوہ بھی صحابہ کرامؓ کے نام سے منسوب دوسری بہت ساری مساجد تھیں جنہیں ان لوگوں نے فتح کے وقت بنایا تھا اور ان کی تعداد تقریباً دو سو تینتیس 233 تک پہنچتی ہے، وہ مساجد قبائل و خاندان سے ترتیب کی رعایت کرتے ہوئے بنائی گئی تھیں۔

 (أہل الفسطاط: دیکھئے صالح أحمد العلی: صفحہ 38)

اس تفصیل کے ساتھ ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ جائے سکونت کے اختیار کرنے میں سیدنا عمرو بن عاصؓ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل رہی، انہوں نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں سے دارالخلافہ سے ربط و اتصال کرنا آسان تھا، مزید برآں شمال اور جنوب کے شہروں کے بالکل وسط میں اور دریائے نیل کے قریب یہ جگہ واقع تھی۔

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیہ: دیکھئے جمیل المصری: صفحہ 339)