میں سنی کیوں ہوا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

میں سنی کیوں ہوا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 1 از 5

میں سنی کیوں ہوا

 داستان هدایت ..... جناب صالح حسین شوق صاحب

یہ مضمون کے7 ذیقعدہ 1345ھ کے النجم لکھنو میں شائع ہوا تھا اس میں صاحب مضمون جناب صالح حسین شوق نے اپنے سنی مذهب قبول کرنے کے اسباب و عوامل بیان کیے ہیں مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیعوں کے دل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف کتنا بغض و عناد بھرا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس مضمون کو بے راہ لوگوں کیلئے ہدایت کا ذریعہ بنائے مضمون درج ذیل ہے

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الكريم وعلى اله واصحابه اجمعين

آج سے (یعنی جس وقت صاحب مضمون کی عمر 40 سال تھی) چوبیس پچیس سال قبل جبکہ میں تقریبا پندرہ سولہ برس کا تھا اور ضلع چھیرہ کے اسکول میں پرانے نصاب کے موافق تیسرے درجے میں تعلیم پارہا تھا کہ رب مقلب القلوب نے شیعہ مسلک سے متنفر کر کے حلقہ بگوشان صحابہؓ میں داخل فرمایا اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ .....

سن رشد کو پہنچا تو پکا شیعہ تھا

ہم دو بہن بھائی تھے جو بحالت یتیمی اپنی جدہ ماجدہ والدہ مرحومہ کے زیر سایہ پرورش پارہے تھے چونکہ الحاج مولوی مبارک حسین صاحب جد مرحوم ضلع کے مشہور رئیس اور وکیل تھے اور آپ کی حیات ہی میں ہمارے والد ماجد جناب الحاج مولوی سید نجم الحسن صاحب مرحوم رحلت فرما چکے تھے اور ہم دونوں بہن بھائی کا سن دو تین سال سے زائد نہ تھا اس لیے جائیداد کا نظم تحت انتظام ککڑ ضلع محکمہ کورٹ آف وارڈس کے در آیا اور ہم لوگ بولایت و نگران جدہ امجدہ و والدہ مرحومہ کے تربیت پانے لگے اور جناب دادی صاحبہ و جملہ بزرگان خاندان نے خاص توجہ اس امر پر رکھی کہ سنی المشرب اتالیق کا مذھبی اثر ہم پر نہ پڑنے پائے چنانچہ جب میں سن رشد کو پہنچا تو پکا شیعہ تھا اور خاص عقیدت والہانہ کے ساتھ محرم الحرام کی رسم عزاداری اور اس کی تمام بدعات میں حصہ لیتا جو ہمارے یہاں بڑے اہتمام سے انجام دی جاتی تھیں۔

نعوذ باللہ عمرکشی کی رسم

مذھبی غلو کے اہتمام کا یہ عالم تھا کہ ہمارے ننھیال میں جس کا خاص تعلق کھجوہ ضلع سارن سے ہے نعوذ باللہ عمرکشی کی رسم ہوتی تھی اس میں بشوق تمام حصہ لیتا تھا حتی کہ اس کی رنگ رلیوں نے ہمیں یہاں تک آمادہ کیا کہ ایک سال جدہ ماجدہ سے میں نے عرض کی کہ جو رسم ہمارے ننھیال میں ہوتی ہے اس کو آپ اپنے یہاں بھی قائم کریں مگر جدہ مرحومہ نے ہماری عرض کو منظور نہیں فرمایا اور یہ کہہ کر ہماری آرزؤں کو خاک میں ملا دیا کہ تمہارے دادا نے کبھی اس رسم کو اپنے یہاں ادا نہیں کیا تمہارے دفتر کے تمام عمال سنی المشرب ہیں اور نوکر چاکر بھی اسی مسلک والے ہیں اور یہ سب تمہارے بزرگوں کے وقت سے یوں ہی چلے آرہے ہیں ان کی خاطر شکنی کسی طرح مناسب نہیں اس فہمائش سے مجھے قلق ہوا اور اپنی شقاوت قلبی کی بھڑاس کو اس وقت یوں پورا کیا کہ اپنے ہاتھوں کاغذ پر ایک تصویر بنائی اس کو بیت الخلاء میں لے گیا اور پھر یہ قرار دے کر کہ یہ مخبر صادقﷺ کے خلیفہ اقدس جناب سیدنا عمر فاروقؓ کی ہے اور اس پر پیشاب پاخانہ کر ديا نعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا

دل نے کبھی گوارہ نہ کیا

منجلہ دیگر مذھبی تعلیمات کے ہم کو یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ لعنت کی عبادت ادا کرتے وقت اس امر کا ضرور خیال رکھنا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ وسیدنا عمر فاروقؓ کے ہم نام سیدنا علیؓ کی اولاد بھی ہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی نادانستگی میں سب وشتم جاری ہو جائیں مگر ہمارے قلب کی اس وقت عجیب حالت ہو گئی جب ہمیں یہ تلقین بھی کی جانے لگی کہ نماز پنجگانہ کے بعد مصلی اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک ایک تسبیح لعنت کی ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے نام سے نہ پڑھ لیں باوجود اپنی مذھبی شدت کے مجھ سے شیعہ مسلک کی یہ عبادت سر انجام نہ پاسکی، نمازوں کے بعد تسبیح اٹھاتا اور پھر رکھ دیتا ۔ دل نے کبھی گوارا نہ کیا کہ اس کو گالیاں دوں جس کا ماں ہونا قرآن کریم نے صریح طور پر واضح کر دیا ہو۔

خدارا ! خلفاء راشدینؓ پر لعنت نہ کرنا

 بہر حال اسی طرح بسر ہورہی تھی کہ یکا یک اسکول کے مدرسین میں سے ایک بزرگ کو میری سادہ لوحی اور مذہبی نیک نیتی پر رحم آیا اور انھوں نے ایک روز دبی زبان سے مگر نہایت مخلصانہ طور پر مجھ سے فرمایا "تم کو ماشاء اللہ مذھب سے بڑا شغف ہے اچھی بات ہے مگر خدارا خلفاء راشدینؓ پر لعنت نہ کرنا قلب اس فعل سے سیاہ ہو جاتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد خدا نے انہی مولوی صاحب کو یہ توفیق بھی دی کہ ایک روز وہ ایک کتاب لائے جس میں سیدنا عمرؓ کے اسلام لانے کا مفصل حال درج تھا تاکہ اس کو دیکھ کر ہمارا دل اس بزرگ کی دشمنی کی جانب سے کچھ نرم ہو جائے اور لعنت سے محفوظ ہو سکوں ۔ ان دو باتوں کا اثر ہمارے قلب پر کیا ہوا ہم نے اس وقت محسوس نہیں کیا مگر غالبا یہی دو واقعے تھے جس سے پہلے ہمارے کان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حمایت یا تعریف کے الفاظ سے قطعا نا آشنا تھے۔

تلاوت قرآن اور نماز سے محبت

 ہماری تربیت نے ہم کو سنی مسلک سے اس قدر دور رکھا تھا کہ جب کبھی ہمارے دادا صاحب مرحوم کا ایک سنی خانساماں قرآن مجید کی تلاوت کرتا اور میں بے اختیار اس کے پاس جا کر سننے لگتا تو یہ خیال آتے ہی کہ میں ایک سنی کا قرآن پڑھنا سن رہا ہوں چونک پڑتا اور اس خوف سے کہ کہیں گناہ میں مبتلا نہ ہو جاؤں وہاں سے دور ہٹ جاتا یہ تو تلاوت کا حال تھا۔ طریقہ نماز کا بھی اس سنی کا زیادہ پیارا معلوم ہوتا خصوصاً جہری نمازوں میں اس کا قراءت کرنا اور رکوع و سجدہ کی تسبیحوں کو بالسرادا کرنا میں شیعہ مسلک میں سب کو بالجہر ہی پڑھا کرتا تھا۔

الفاظ مقدس سینہ میں اترنے لگے

صفحہ 1 از 5