میں سنی کیوں ہوا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

میں سنی کیوں ہوا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 5

اسی اثناء میں ایک روز دادا صاحب مرحوم کے کتب خانہ کی دیکھ بھال کر رہا تھا کہ کچھ بند پارسل نظر پڑے کھولا تو حرف ابیض والا قرآن مقدس تھا بین السطور ترجمہ اور حاشیہ پر مختصر لکھائی مندرج تھی 27 عدد پارے تھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پارہ پارہ ہو کر طبع ہور ہا تھا اور ابتداء ہی سے دادا مرحوم نے اس کا ہدیہ کرنا شروع کر لیا تھا اتنے ہی پارے آنے پائے تھے۔ کہ انہوں نے رحلت فرمایا اس لیے بقیہ تین پارے نہ آسکے کیونکہ ان کی رحلت کا زمانہ اور اس کے بقیہ پاروں کی طباعت کا وقت قریب قریب ایک ہی تھا جدا امجد مرحوم کو کتابوں کا بڑا شوق تھا شیعی چھپے ہوئے بے شمار نسخے عرضیوں کے بھی تھے جو امام غائب کے پاس دریا کے ذریعہ روانے کیے جاتے تھے مسلک کی نایاب جلدیں عراق سے ساتھ لائے تھے۔ خصوصاً قرآن کریم کی جلدوں کے تو شیدا معلوم ہوتے تھے۔ متعدد قلمی نسخے ہر کمرہ، ہر دفتر میں موجود رکھتے ، جو نیا قرآن کہیں چھپتا فورا ھدیہ کرتے بہر حال اس قرآن کریم کی جلد کے بقیہ پارے منگوائے اور بڑے اشتیاق سے اعلیٰ درجہ کی جلد بندی ہوئی اور جی جان سے تلاوت شروع کر دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ خداوند ذوالجلال کا مقدس کلام معہ ترجمہ کے نظروں سے گذرا اس وقت تک تلاوت بلا فہم ہوا کرتی تھی اب جو اس کے مطلب پر نظر پڑی تو ایسا محسوس ہوا کہ دوسری دنیا میں ہوں آنکھوں کے رستے اس کے الفاظ مقدس اب سینہ میں اترنے لگے جیسے کوئی پیاسا پانی پیے۔ صبح سے عصر تک جب کبھی فرصت ملتی

میں ہوتا اور وہ ہمارا حرف ابیض والا با ترجمہ قرآن ہوتا ۔

اعضاء نے شیعہ نماز کا طریقہ فراموش کر دیا

باوجود دن دن بھر کی تلاوت کے چار ورق سے زیادہ نہیں پڑھ سکتا تھا اسی طرح خداوند کریم نے دو تین بار اپنا کلام پاک ختم کر دیا اور اس کی مقدس چاشنی ہماری جان کو بخشی چونکہ یہ قرآن ہم نے دادا صاحب مرحوم کی کتابوں سے خود پایا تھا اس لیے کبھی اس کا وہم گمان بھی شاید نہیں ہوا کہ یہ سنی مذهب کی کتاب ہے نیز ہماری شیعہ تعلیمات میں غالباً یہ کسر رہ گئی تھی کہ ہم کو بھی قرآن کریم سے متنفر نہیں کرایا گیا تھا اور نہ یہ ذھن نشین ہوا تھا کہ موجودہ مصحف بیاض عثمانی ہے جس میں کفر کی بنیادیں ہیں بلکہ دانسته یا نا دانستہ دادی صاحبہ مرحومہ جب ہم بھائی بہن اور گھر بھر کو صبح کی نماز کیلئے بعوض سلانے کے جگانے کی لوری دے کر بیدار فرما تھیں کہ اٹھو اے نمازی نماز گزارو۔ پیا ملن کا بیریا ہے۔ تو چونکہ بڑے درد کے ساتھ ان الفاظ کو ادا کرتی تھیں اس لیے ہم لوگ جاگ ہی پڑتے اور نماز ختم کر کے قرآن لے کر تلاوت کے لئے بیٹھ جاتے اور جو بچہ جتنی دیر تک تلاوت کرتا وہ اسی مقدار سے دادی صاحبہ مرحومہ کی محبت اور انعام کا صلہ پاتا الغرض قرآن کی عظمت ہمارے دلوں میں پہلے سے قائم تھی اور بسا اوقات ہمارے ایک شیعہ بزرگ ہمارے سنی عمال کو چھیڑ کر بحث و مباحثہ کو گرم کر دیا کرتے تھے ہمارے گھر میں مذھبی چرچے رہا ہی کرتے تھے جس میں خاموشی کے ساتھ میں موجود رہا کرتا ایک روز غالبا جبکہ تنہائی میں عشاء کی نماز پڑھ رہا تھا کہ یکا یک دل نے کہا کہ ہاتھ باندھ لو اور گویا بے ساختہ ہمارے ہاتھ نماز ہی کے اندر اس طرح پر بندھ گئے جیسا کہ حنفی مسلک کا قاعدہ ہے مگر تمام ارکان نماز کے ویسے ہی ادا کرنے پڑے جیسے شیعہ مسلک میں تھے اس طرح کچھ زمانہ گذرنے پر میں نے ان استاد صاحب سے ایک روز کہا جو سیدنا عمرؓ کے ایمان لانے والی کتاب کے دینے والے تھے کہ کوئی کتاب ایسی ہو جس میں سنی مسلک کا طریقہ نماز وغیرہ کی کیفیت درج ہو تو ہمیں مرحمت فرمائیں تو انھوں نے شرح وقایہ کا اردو ترجمہ لا کر ہمارے حوالے کر دیا جس کی کتاب الطہارت و کتاب الصلوۃ کے ورق ورق کا میں کیڑا ہوگیا اور سنی مسلک کے طریقہ نماز سے آگاہی حاصل کر لی مگر باوجود اس کے جب کبھی نماز کیلئے کھڑا ہوتا تو چونکہ جوارح شیعہ طریقہ کے عادی ہوچکے تھے ، بار بار اسی انداز سے جاری ہو جاتے اور میں رونے لگتا کہ یا اللہ تیری صحیح نماز مجھ سے ادا نہیں ہو سکی بحمد اللہ محنت کرتے کرتے کئی مہینہ میں ایسی مشق ہوگئی کہ اب شیعہ طریق نماز کو جوراح نے یوں فراموش کر دیا جیسے وہ کبھی اس سے آشنا ہی نہ تھے۔

پردے ڈال دیتا تھا

یہ زمانہ تھا کہ میں اسکول کے تیسرے درجے میں پہنچ چکا تھا مذہبی انہماک کے ساتھ ساتھ تعلیمی شغل کو بھی کما حقہ ادا کرنا ضروری تھا اس لیے مجھے ایک کمرہ اپنے لیے مخصوص کرنا پڑا تھا جس میں دین و دنیا کے شغل جاری رہتے چونکہ وضوء کی عبادت اور نمازیں میں دونوں آبائی طریقہ کے خلاف ادا کرتا تھا اس لیے کمرہ کے دروازوں پر پردے ڈال دیتا تھا اندر ہی میں وضوء بھی کرتا اور جب سناٹا ہو جاتا تو نمازیں بھی پڑھ لیتا۔ شدہ شدہ احباب و بزرگوں کو خیال ہونے لگا کہ تنہائی میں میں کیا کرتا رہتا ہوں کہیں ایسا تو نہیں کہ برے افعال کا مرتکب رہتا ہوں جس کیلئے یہ سب پردہ داریاں ہیں۔ الغرض تانک جھانک ہوتی رہتی تھی کہ ایک روز جبکہ میں گردن کا مسح کر رہا تھا کہ والدہ مرحومہ نے دیکھ لیا اور فورا دادی صاحبہ کو اطلاع دی کہ میں نے لڑکے کو وضوء کرتے وقت گردن کاٹتے دیکھا ہے بعض سنی نوکروں نے بھی ہمارے راز سے واقفیت حاصل کرلی تھی اس لیے اب چرچا شروع ہو گیا۔

دادی صاحبہ کی محبت

شیعہ بزرگ دادی صاحبہ پر نرغہ کرنے لگے خبر لیجئے ایسا نہ ہو کہ لڑکا سنی ہو جائے مگر چونکہ ہمارے شباب کا زمانہ تھا اور دادی صاحبہ مرحومہ ہمارے مزاج سے واقف تھیں اس لیے کسی طرح کی سختی کرنا ان کی مصلحت کے خلاف تھا ان کی محبت کا یہ حال تھا کہ ذرہ برابر گزند ہمارے قلب کا ان سے دیکھا نہیں جاتا تھا اور فرمایا کرتی تھیں۔ شوہر اور بیٹے کو اللہ نے ہم سے جدا کر کے ان دونوں کی نشانی یہی دو بھائی بہن ہمیں دیے ہیں جہاں خود سوتیں وہیں اپنے پلنگ سے متصل ہم دونوں بھائی بہن کے پلنگ بھی بچھواتیں اور ہر کھانا پہلے خود تناول فرما لیتیں بعد میں ہم کو کھلاتیں خدا نخواستہ اگر کھانے میں زہر ہو تو ہم دونوں بہن بھائی محفوظ رہیں۔

وہابی ہو گیا ہے

صفحہ 2 از 5