میں سنی کیوں ہوا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

میں سنی کیوں ہوا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 5

مگر باوجود ان تمام باتوں کے فکر ان کو بھی دامن گیر رہتا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے جو سنتی ہوں۔ چنانچہ ایک روز جب میں اپنے کمرے میں صاف فرش پر عشاء کی نماز میں مصروف تھا کہ یکا یک کمرہ میں چلی آئیں اور اسی تخت پر بیٹھ گئیں جس پر میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میں روزانہ دروازہ بند کر کے نماز پڑھتا تھا اس روز اتفاق سے بھول گیا تھا میں نے نماز ہی میں محسوس کیا کہ تشریف لائیں ہیں سوچا کیا کروں دل نے فیصلہ کیا کہ نماز تو پوری کرلوں سلام پھیر کر گردن جھکائے بیٹھا رہا دیر تک خاموش رہنے کے بعد غصہ میں بولیں سنی بھی نہیں وہابی ہو گیا ہے جا نماز بھی نہیں بچھائی۔

ہماری بڑی سبکی ہوئی

میں خاموش رہا پھر فرمایا" سر اٹھاؤ ڈرو نہیں ہم کو اس کا شک تھا کہ تم بند کمرہ میں کسی برے افعال کے مرتکب رہتے ہو آج معلوم ہوا کہ جو کچھ تمہارے بارے میں سنا تھا وہ صحیح ہے اور تم نے مذہب بدل دیا۔ خیر یہ تو ایک رشتہ ہے اللہ اور اسکے بندے کے درمیان ہم کو دخل نہیں دینا چاہیے۔ ہاں اتنی خواہش ضروری ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں تم اپنے آپ کو ظاہر نہ کرتے تو اچھا ہوتا ورنہ ہماری بڑی سبکی ہوئی۔ دادی صاحبہ تو یہ تقریر فرما کر چلی گئیں مگر ہماری عجب حالت ہوگئی راز فاش ہونے سے حیاء دامن گیر ہوگئی حتی کہ میں اپنے بستر پر سونے کیلئے نہیں گیا اور دوسرے روز بھی کھانا وغیرہ باہر ہی سے منگوا کر کھایا۔ دادی صاحبہ نے زنان خانہ میں بلا بھیجا تو میں بھی حاضر نہ ہو سکا سامنے جانے سے طبیعت عرق عرق ہوتی معلوم ہوتی اور اندر جانے کی ہمت نہ پڑتی۔

حسب دستور رہنے سہنے لگا

دوسرے روز شام کے وقت کمرہ سے باہر سائبان میں بیٹھا تھا کہ دادی مرحومہ کو دیکھا دیوانہ وار باغ میں نکل آئی ہیں اور مردانہ سے ہوکر سڑک کا رخ کرلیا میں لپک کر آگے ہوگیا اور دروازہ روک کر عرض کرنے لگا کہ کہاں تشریف لے جارہی ہیں۔ ارشاد کیا کہ ہم کو چھوڑ دو میں نے ضد کی تو رونے لگیں اور فرمایا کہ تم کو اسی دن کیلئے پالا پوسا تھا کہ جوان ہو کر ہم سے کنارہ کشی کرلو اور ہم کو منہ نہ دکھاؤ اللہ اللہ ان جملوں نے قلب کو پاش پاش کر دیا میں بھی رونے لگا بالاخر منا کر واپس لایا اور اس طرح جو خجالت مجھے دامن گیر ہوگئی تھی زائل ہوئی اور حسب دستور میں رہنے سہنے لگا حتی کہ انٹرنس کا امتحان بخوبی میں نے پاس کیا اور اس کی خوشی میں دادی صاحبہ مرحومہ نے مجلس میلاد منعقد فرمائی۔

کونڈوں کی رسم

ان کی اکثر یہ عادت تھی اور ایسے دستور میں شیعہ و سنی دونوں جماعتوں کے افراد کو مدعو فرماتیں تھیں مگر میلاد خواں کو تاکید کر دیتیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب نہ پڑھیں چنانچہ وہ مجلس میلاد حسب ہدایت ان کے قائم ہوئی جس کے دو تین روز بعد والدہ مرحومہ نے اسی پاس ہونے کی خوشی میں مجلس برپا کی اور کونڈا بھی کیا اس رسم میں شیعہ لوگ بعد ذکر خیر ائمہ اثنا عشرہ کے دستر خواں پر بیٹھ کر جلیبیاں کھاتے ہیں چنانچہ حسب رواج جب بعد مجلس دستر خوان لگایا گیا تو میں بھی موجود تھا شب کے غالباً گیارہ بجے ہوں گے۔ لوگ جلیبیاں اٹھا چکے تھے ایک میرے ہاتھ میں بھی تھی دفعتا صفدر حسین جو والدہ مرحومہ کے خلیرے بھائی تھے سیدنا عمرؓ کا نام لے کر لفظ لعنت کو اپنی زبان پر لائے اور گویا کونڈہ کی اس طرح بسم اللہ کی۔ جہاں میں بھی موجود تھا تو میری طبیعت جلیبی کھانے سے رک گئی اس سے پہلے بھی جب ہمارے تبدیل مذهب کا حال دادی صاحبہ مرحومہ سے بھی مخفی تھا تو آٹھویں محرم کو حاضری کی روٹیاں جن کے نیاز کرتے وقت عموماً سب وشتم کے الفاظ مثل درود و دعاء کے پڑھے جاتے ہیں نہیں کھائی جاتی تھیں۔ بلکہ نیاز ونذر کی کوٹھڑی سے اپنا حصہ منگوا کر پوشیدہ طور پر اس کو دفن کر دیتا اور ہمارے راز دان کو جب محسوس ہوتا کہ مجھ پر فاقے گذر چکے ہیں تو کچھ سامان کر کے وہ ہم کو کھلا پلا دیتے۔

ہمیں ستانا مناسب نہیں تھا

بہر حال اب جلیبی ہاتھ میں ہے دل گوارا نہیں کرتا کہ کھاؤں نہیں کھاتا تو راز جو گو اب ویسا راز نہ تھا مگر پھر بھی راز تھا۔ فاش ہوتا ہے اور دادی صاحبہ کی وصیت کے خلاف ہوتا ہے کہ انھوں نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ ان کی زندگی تک ہم بالاعلان اپنے مذھب کو فاش نہ کریں۔ غرض اس کشمکش میں فیصلہ یہی کیا کہ جلیبی نہیں کھائی اور سیدھا اپنے کمرہ میں اٹھ آیا اور عالم خیال میں مستغرق ہوگیا کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے اتنے میں ایک شیعہ بزرگ جن کا میں ادب کرتا ہوں اور وہ بھی اکثر آمد و رفت رکھتے تھے ہمارے پاس آئے اور اپنی ٹوپی اتار کر ہمارے پیروں پر رکھ دی اور فرمایا کہ معاف کرو ہم لوگوں نے صفدر کو ڈانٹا کہ انھوں نے تم کو کیوں گزند پہنچایا میں نے عرض کی کہ آپ بزرگوں سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی ہاں اتنی شکایت ماموں صاحب سے ضرور ہے کہ جب وہ ہمارے جذبات سے واقف تھے تو ہمیں ستانا مناسب نہ تھا۔

علی الاعلان سنی طریقہ سے نمازیں پڑھو

ادھر ایک شیعہ بزرگ واجبات ادا کر کے رخصت ہوئے اور ادھر دادی صاحبہ مرحومہ کو جو بستر علالت پر تھیں بہن سلمھا اللہ نے خبر کر دی کہ بھیا کے ساتھ لوگوں نے ایسا برتاؤ کیا، ماما مجھے بلانے آئی جب ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو والدہ وغیرہ کو بھی متوشوش اور سخت مکدر پایا۔ دادی صاحبہ نے نہایت برہمی کی حالت میں مجھ سے فرمایا کہ ہمارے گھر میں دادا صاحب مرحوم کے وقت سے کبھی اس طرح برملا تبراء کی رسم نہیں برتی گئی تم نے دروازہ بند کر کے سب وشتم کرنے والوں کو زدو کوب کیوں نہ کروایا خیر تم کل سے علی الاعلان نمازیں پڑھو اور ظاہر ہوجاؤ ۔ دیکھیں کوئی " عد بشد سبب خیرگر خدا خواہد ۔ غرض ہماری حالت طشت ازبام تو ہو ہی چکی تھی جو کچھ رہا سہا پس و پیش دادی صاحبہ کی وصیت کے باعث دامن گیر تھا وہ بھی جاتا رہا میں اپنے کمرے کے قید خانہ سے گویا آزاد ہو گیا۔

جائیداد سے محروم کرنے کی دھمکی

شیعہ حضرات نے اس بات کی بھڑاس یوں نکالی کہ کلکٹر ضلع کے پاس متعدد دستخط سے ایک عرض داشت گذاری ۔ جس میں ہمارے تبدیل مذھب کی کیفیت مندرج کر کے تفتیش حالات کی استدعا کی اور جائداد سے مرحوم کیے جانے

صفحہ 3 از 5