میں سنی کیوں ہوا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

میں سنی کیوں ہوا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 4 از 5

کی دھمکی دلائی۔ بحمد اللہ میں اس آزمائش میں ثابت قدم رہا بلکہ اپنے قلب کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت سے ایسا استوار پایا گویا جائداد سے محروم کیا جاتا ایک موہوم امر تھا مگر تا ہم گھر بار کو عشاق نبویﷺ کے نام کے صدقہ میں ان پر نثار کر دینے کا تصور دریا کے موجوں کی طرح لہریں لینے لگا۔

شیعہ پبلک ہمارا بال بھی بیکانہ کر سکی

بہر حال حسب منشاء درخواست تحقیقات شروع ہوئیں کلکٹر صاحب خود آئے ہم سے کچھ زیادہ پوچھا نہیں بلکہ مجھ سے تو کلکٹر نے میری تعلیمات کے متعلق استفسارات کر کے مجھ کو روانہ کر دیا ہاں دادی صاحبہ مرحومہ کا دیر تک تبادلہ خیال ہوتا رہا کیوں کہ وہی ہماری ولی تھیں اور نامعلوم اللہ نے ان کی زبان سے کس طرح کا بیان دلوایا کہ درخواست خارج کر دی گئی اور شیعہ پبلک ہمارا ہال بھی بیکا نہ کرسکی۔

میری بہن بھی سنی ہو گئی

اور تو اور ان تحقیقات سے ایک نیا گل کھلا یعنی بہن سلمھا اللہ کے بھی سنی المشرب ہو جانے کی اسی روز بنیاد پڑگئی۔ وما علینا الا البلاغ المبین

( ماهنامه خلافت راشده)

سراسیمگی پھیل گئی

جام پور شہر وارڈ نمبر7 میں ایک عورت نے کافی عرصہ بیمار رہنے کے بعد موت سے دو دن قبل خواب دیکھا خواب کا ذکر کرتے ہوئے رشتہ داروں کو بتایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں جھنم میں پہنچ چکی ہوں اور فرشتے میری پٹائی کر رہے ہیں اور مجھے یاد دلا رہے ہیں کہ تو نے ساری زندگی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ازواج مطہراتؓ پر تبرا بازی کی

اور ان تبرائی مجالس میں شرکت کی لہٰذا تجھے اس بات کی سزا مل رہی ہے میں خواب میں یہ حالت دیکھ کر گھبرا کر اٹھ بیٹھی اور ساری رات پریشانی میں گذاری اب میں تمہیں یہ خواب سنا رہی ہوں اور اب میں مذھب شیعہ سے براءت کا اعلان کرتی ہوں پھر اس عورت نے کلمہ شریف پڑھا اور مذھب شیعہ سے توبہ کی اپنے رشتہ داروں کو وصیت کی کہ میرا جنازہ اہلِ سنت سے پڑھایا جائے دوسرے دن اس کا انتقال ہوگیا تو اس کے رشتہ داروں نے شیعہ عقائد کے مطابق کفن دفن کا انتظام کرنا شروع کیا تو اس کا بیٹا ماں کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے بضد ہوگیا کہ میں اور میرا باپ بھی شیعہ ہونے کے باوجود میں ماں کی وصیت پر عمل کروں گا اور اس کا کفن دفن مذھب اہلِ سنت کے مطابق کروں گا تو برادری دو دھڑوں میں بٹ گئی آخر اس کا جنازہ سنی مذھب کے مطابق پڑھایا گیا جس میں اہلِ سنت ہمسائے جو کہ پریشان تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ جنازہ اہلِ سنت کے عقیدہ کا امام پڑھے گا تو کثرت سے شرکت کی تمام انتظام اہلِ سنت کے مذہب کے مطابق کیا گیا تو شیعہ رشتہ داروں نے ناراض ہو کر جنازہ میں شرکت نہ کی اور اس خواب سے ان کے اندر سراسیمگی پھیل گئی۔

یہ حق ہے

میر منصب علی تھانوی جب شیعہ سے سنی ہوئے ان کی ماں بہت روئی اور تمام عمر ان کی صورت نہیں دیکھی ان کے سنی ہونے کا یہ قصہ ہوا کہ ان کو سنی شیعہ دونوں طرف کی باتیں سن کر تردد ہو گیا جو کسی طرح دفع نہ ہوتا تھا کسی نے کہا کہ پیران کلیر بڑی برکت کی جگہ ہے وہاں حاضر ہو وہ پیران کلیر کی مزار پر جا کر دعا کی اے اللہ اس بزرگ کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں کہ بس یوں ہی میرے قلب میں حق بات آجائے کہ یہ حق ہے اور اس کے خلاف کو دل قبول ہی نہ کرے اس کے بعد تھانہ بھون آئے اور اتفاقا ایک حافظ صاحب نے آیت وضوء میں اِلی المَرَافِق کی تفسیر میں یہ کہا کہ دیکھو اس سے معلوم ہوتا ہے پانی کہنیوں کی طرف لانا چاہیے انہوں نے شیعوں کو بالعکس کرتے دیکھا انھوں نے اپنے ماموں سے پوچھا جو کہ مجتہد تھے انہوں نے کچھ تاویل کی انہوں نے کہا کہ صاف بات کو چھوڑ کر تاویل کو قبول نہیں کیا جاتا پس معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ قرآن کے تارک ہیں اور پکے سنی ہو گئے (حسن العزیز)۔

ماما نوکرانی

کانپور میں ایک ماما نوکر تھی وہ اپنی بہن کی حکایت بیان کرتی تھی کہ میری بہن شیعہ تھی اور خود میں بھی شیعہ تھی جب میری بہن کا انتقال ہوا تو اس کو غسل کے وقت گز ڈالا گیا میں یہ دیکھ کر سنی ہوگئی کہ میرا بھی یہی حال کریں گے یہ دیکھ کر میں سنی ہوگئی اللہ جانے قیامت میں کیا حالت ہوگی یہاں تو اس کی صورت دیکھنے سے معلوم ہوتی ہے کہ دوزخی ہے۔

نو مسلم شیعہ خاندان کے سر براہ غلام شبیر سے ایک ملاقات

سوال ..... غلام شبیر صاحب ! کیا آپ نے شیعیت سے توبہ کر لی ؟

جواب: جی ہاں۔

سوال .. آخر کیا وجہ بنی؟

جواب اس لیے کہ شیعہ مذهب جھوٹا مذھب ہے اور اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

سوال : آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ مذھب جھوٹا ہے؟

جواب ... مجھے شیعیت کی حقیقت کا علم مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی تقریر کی کیسٹوں سے اور مولانا قاری محمد یعقوب صاحبؒ سرپرست سپاہ صحابہؓ بلوچاں کی تبلیغ اور ان کے تعاون سے اور شیعہ مذھب کے کفریہ لٹریچر پڑھ کر پتہ چلا کہ شیعہ مذحب جھوٹا ہے۔

 سوال : کیا آپ کے قریبی رشتہ داروں میں سے بھی کسی نے مذھب حق قبول کیا؟

جواب نہیں ! صرف میں میری بیوی اور بچوں نے اسلام قبول کیا ہے جبکہ ہمارے دوسرے رشتہ دار ابھی شیعہ ہیں اور ہمارا علاقہ جلا بلوچاں شیعہ کا گڑھ ہے اور یہاں کے بڑے بڑے ذاکر بھی مشہور ہیں۔ سوال : آپ نے اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے کسی کو مذہب اسلام کی حقانیت سے روشناس کروایا ہے؟

جواب: جی ہاں؟ کیوں نہیں میں اپنے بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کو اسلام کی حقانیت کے بارے میں بتا رہا ہوں اور انھیں مذہب شیعہ سے توبہ کرنے کیلئے تبلیغ کررہا ہوں اور دعا بھی کررہا ہوں کہ اللہ تعالی انھیں ہدایت نصیب کرے۔

(خلافت راشده مٸ 1991 )

شیعہ مذھب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا

چکوال میں ایک نوجوان نے مولانا حقنواز جھنگوی شہیدؒ کی کیسٹ سن کر اسلام قبول کر لیا اس نوجوان کا تعلق ایک مشہور شیعہ گھرانے سے ہے اور اس کے گھر میں اکثر مجالس عزا کا اہتمام ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو ایمان کی روشنی عطا کی اور اس نے

سپاہ صحابہؓ چکوال کے سرپرست مولانا عبدالشکور جھنگویؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا اس نوجوان کا نام وسیم عباس تھا اب اس نے اپنا نام وسیم عثمان رکھ لیا ہے وسیم عثمان کو گھر سے

صفحہ 4 از 5