Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما

  حامد محمد خلیفہ عمان

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی مکہ میں جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا:

’’اے ابو عبداللہ! میں نے سنا ہے کہ آپ عراق جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ہاں۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایسا نہ کیجیے۔ یہ عراقی آپ کے باپ کے قاتل ہیں، جنہوں نے آپ کے بھائی کے پیٹ میں کدال ماری تھی۔ اگر آپ ان کے پاس چلے گئے، تو وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ: 37360)

جب دوبارہ ملاقات ہوئی، تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’اگر آپ خود تو حرم میں ٹھہرتے جبکہ اپنے قاصدوں کو بلاد و امصار میں پھیلا دیتے اور اپنے عراقی شیعوں کو خط لکھ کر اپنے پاس آنے کو کہتے تو مناسب تھا۔ یوں آپ مضبوط رہتے۔‘‘ (الاخبار الطوال للدینوری: صفحہ 244)

سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما دونوں کی رائے ایک تھی اور دونوں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو مکہ ٹھہرنے اور کوفہ نہ جانے پر آمادہ کرنے کی ازحد کوشش کی۔ لیکن کوفی غداروں نے انہیں ایک منظم اور مکارانہ منصوبے کے تحت عراق بلوا ہی لیا۔