ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت…

ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت گرد تنظیمیں

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 1 از 5

ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت گرد تنظیمیں

  میرے محترم قارئین کرام!

ایران میں شیعہ انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی بیرونی ممالک خصوصًا اسلامی ممالک میں متعدّد شاخیں اور تنظیمیں قائم کی گئی جو ایرانی نظام کے ماتحت تھیں۔ ان کا مقصد مختلف ممالک میں شیعہ کے ذریعے ایرانی انقلاب کے لئے راہ ہموار کرنے، ان ملکوں میں ایرانی طرز پر شیعہ خمینی انقلاب لانے، اور ان ملکوں کی امن وامان کو خراب کرنے، اور وہاں پر فتنہ و فساد برپا کرنے کے ناپاک عزائم شامل تھیں۔ ان میں سے چند تنظیموں کے نام درج ذیل ہیں:

 اسلامی ملکوں میں شیعہ دہشت گردوں کی بڑی بڑی پارٹیاں جن میں لبنان میں حزب اللہ، عراق میں اسلامی انقلاب کی سپریم کونسل، پاکستان میں تحریک جعفریہ، افغانستان میں وحدت پارٹی، سوڈان میں Nifمصر میں الجہاد، اور الجزائر میں ISf شامل ہیں۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ39)

1: حزب الله لبناني

لبنانی شیعه تنظیم حزب اللہ لبنان میں 1982ء میں قائم ہوئی۔ اور 1985ء میں سیاست کے میدان کارزار میں باقاعدہ شامل ہوگئی۔ یہ تنظیم ایرانی کمک پر پلنے والی تنظیم حركة امل الشیعہ کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔ 

 حزب الله: کا خطرناک کردار بالکل واضح ہو چکا ہے۔ کیونکہ گذشتہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حزب الله ایک متعصّب شیعہ تنظیم ہے، جن کے سینوں میں سنی مسلمانوں کے خلاف حسد و نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ 

 حزب الله دورِ حاضر میں سنی مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن جماعت کے روپ میں ابھری ہے، جو پوری دنیا میں سنیوں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔ یہ جماعت ظاہرًا یہود و نصاریٰ کے خلاف علمِ جہاد بلند کرتی دکھائی دیتی ہے حالانکہ حقیقت میں یہ عالمِ اسلام میں شیعہ مذہب کے فروغ اور خمینی ملعون کے شیعی انقلاب کو کامیاب بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ حزب الله لبنان میں ایک ایرانی تنظیم ہے۔ اس کی دلیل خود اس کی تأسیسی دستاویز میں ان الفاظ میں موجود ہے کہ:

 ہم حزب الله کے ارکان ہیں، جس کے ہر اوّل دستے کو اللہ تعالٰی نے کامیابی عطا کی اور دنیا میں اسلامی حکومت کی نشاۃِ ثانیہ ہوئی۔ ہم ایک مدبّر عادل حاکم کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں جو بذاتِ خود ولی، فقیہ اور امامت کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔ موجودہ دور میں ہمارا لیڈر آیة الله روح اللہ الموسوی خمینی ہے۔ جن کے ذریعے سے مسلمانوں نے ایران میں اسلامی انقلاب برپا کیا اور اسلام کی نشاۃِ ثانیہ ہوئی۔

 حزب الله کے لیڈر ابراهيم الامين اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم ایران کا ایک جزو ہیں، بلکہ ہم تو لبنان میں ایران اور ایران میں لبنان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 

(حزب اللہ کون ہے،صفحہ 22:9)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: تمام شیعہ خمینی ملعون کے زیرِ اثر حزب الله کی نشونما ایران میں ہوئی۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ106)

 2: حزب الله حجازی

 1979ء میں ایران میں خمینی انقلاب کے قیام کے شروع ہونے اور اس کے غلبے کے فوراً بعد ایرانی حکمرانوں نے اپنے سعودی ایجنٹوں کو سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کا حکم دے دیا۔ ایرانی حکومت کی اس تحریض و تحریک پر 1400ہجری میں ضلع قطیف میں شیعہ آبادی نے بغاوت کر دی۔ اس بغاوت میں کچھ اس طرح کے نعرے لگائے گئے... ہم حسینی مذہب کے پیروکار ہیں، ہمارا قائد خمینی ہے، سعودی حکومت کو ختم کر کے دم لیں گے، شاہ فہد اور خالد کی حکومت کا تختہ الٹ کر رہیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

 پھر جیسے ہی سعودی شیعہ قیادت اور ایرانی حکومت میں تعلقات مضبوط ہوئے اور خمینی انقلاب کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوئے تو سعودی شیعہ کو حسن الصفار کی قیادت میں ایک نئی تنظیم بنانے کا حکم دیا گیا۔ لہٰذا منظمه الثورة الاسلامية لتحرير الجزيرة العربيه کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دے دی گئی۔ جس کے لیڈر اور منتظم حسن الصفار تھے۔ اس تنظیم کا معنی ہے۔۔۔۔ جزیرۀ عرب کی آزادی کے لئے اسلامی انقلابی تنظیم۔ اور اس تنظیم کا ہیڈ آفس ایران میں تھا۔

 اس تنظیم کے اغراض و مقاصد:

  1.  ایران میں برپا ہونے والے خمینی انقلاب کی حمایت اور اسے عالمِ اسلام میں غالب کرنے کی کوششیں کرنا۔ 
  2. جزیرۂ عرب یعنی سعودی عرب کی سنّی اسلامی حکومت کو ختم کرنا اور ایرانی حکومت کے تابع خمینی حکومت قائم کرنا۔ 

 حجازی حزب الله کا عسکری ونگ:

80 کی دہائی کے نصف ثانی میں تقریباً 1987ء میں جزیرہ عرب کی اسلامی تنظیم نے اپنا عسکری ونگ قائم کیا اور اسے حزب الله الحجازی کا متفقه نام دیا گیا۔ اور یہ عسکری ونگ سعودی عرب میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کیلئے بنایا گیا تھا، ایام حج میں فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کیلئے اس کو ایرانی گارڈ کے ساتھ وابسطہ کر دیا گیا۔

 اس تنظیم کی تشکیل ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسر احمد شریفی کے زیرِ انتظام انقلابی طرز پر کی گئی۔ اس تنظیم میں بعض سعودی شیعہ طالب علموں کو بھرتی کیا گیا جو ایران کے شہر قم میں زیرِ تعلیم تھے۔ 

1407ء کے حج کے دنوں میں حزب الله الحجازی کے شیعہ کارکنوں نے ایرانی انقلابی گارڈ کے تعاون سے ایک بہت بڑا جلوس نکالا جس کا مقصد حجاج کرام کو قتل کرنا اور عوامی پراپرٹی کو نقصان پہنچانا اور مسجدِ حرام اور مقدس مقامات میں فتنہ و فساد بر پا کرنا تھا۔

 (حزب اللہ کون ہے، صفحہ51)

 3: كويتي حزب الله

 کویتی حزب الله 80 کی دہائی میں:حزب اللہ لبنانی کی تأسيس کے بعد قائم کی گئی۔ 

کویتی حزب الله کی اس برانچ کی بنیاد کویتی شیعہ کے ان طلباء نے رکھی جو ایرانی شہر قم کے حوزہ دینیہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

 خلیجی ممالک میں حزب الله کے مؤسسين اور کارکنان کی بھرتی قم شہر ہی سے ہوتی ہے، جبکہ یہ لوگ وہاں کے حوزہ علمیہ میں شیعی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ اس تنظیم کے اکثر کارکنان کے ایرانی گارڈ کے ساتھ گہرے روابط ہیں، کیونکہ انہوں نے تخریبی تربیت انہیں سے حاصل کی تھی۔ 

صفحہ 1 از 5