ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت…

ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت گرد تنظیمیں

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 5

یہ تنظیم کویت میں فتنہ و فساد اور عوامی اضطراب و بےچینی پیدا کرتی، بم دھماکے، اغوا اور قتل و غارت کی خفیہ کاروائیاں کرتی تاکہ کویت میں اپنا تسلّط قائم کر کے ایران کی ہم مذہب حکومت قائم کر سکیں۔ اس جماعت نے کویت میں بہت سی تخریبی اور دہشت گردی کی وارداتیں کی ہیں۔ جن کو تاریخ نے محفوظ کر لیا ہے۔

 کویتی حزب الله ایرانی شیعہ تحریک کا ایک اہم جزو شمار ہوتی ہے، جس کی قیادت آية الله العظمی خامنه ای کرتا ہے۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ60)

يمنى حزب الله :

       یمن میں حزب الله کی علاقائی برانچ کا نام حزب الله رکھا گیا لیکن حزب الله لبنانی کے گھناؤنے جرائم قتل و غارت اور دہشت گردی کی وارداتوں کی وجہ سے یمن کے مسلمان معاشرے میں حزب الله کو پذیرائی نہ مل سکی جو کہ شیعہ اثنا عشریہ کے عقائد و افکار کی پیروکار تھی، لہٰذا اس برانچ کا نام تبدیل کرکے الشهاب المؤمن رکھا گیا، تاکہ یہ عوام میں مقبول ہو سکے۔ یہ تنظیم 90 کی دہائی میں قائم کی گئی۔

 اس تنظیم میں شیعہ زیدی فرقے کے افراد بھی بھرتی کئے گئے جو کہ اپنے زیدی عقائد ترک کر کے اثنا عشریہ عقائد کو قبول کر چکے تھے یا وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے (تقیہ) دھوکہ دہی سے اس نئی تنظیم میں شامل ہو گئے تاکہ ایرانی شیعہ کے اثنا عشریہ عقائد کو یمن میں فروغ دیا جا سکے۔ 

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ67)

 بحريني حزب الله

         بحرین میں ہادی المدرسی کو الجبهة الاسلامية لتحرير البحرين کے نام سے تنظیم بنانے کی ہدایات دی گئیں۔ جس کا ہیڈ کواٹر تہران میں ہوگا۔ اس تنظیم نے ابتداء میں ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے اغراض و مقاصد کی وضاحت کی، جو درج ذیل ہیں :

  1. آل خلیفہ کی حکومت کا خاتمہ۔ 
  2.  بحرین میں ایرانی خمینی انقلاب کے موافق شیعی نظامِ حکومت کا قیام۔
  3.   بحرین کو خلیجی ممالک کے اتحاد سے نکال کر ایران کے ساتھ منسلک کرنا۔ 

یہ تنظیم ایران سے متعدّد میگزین شائع کرتی تھی۔ جیسے: الشعيب التأثر: اور الثورة الرسالة وغیرہ ہیں۔ 80 کی دہائی میں بحرین کی تحریکِ آزادی کے قائدین اور ایرانی انٹیلی جنس آفیسروں کا اجتماع ہوا جس میں تحریک آزادی کا عسکری ونگ قائم کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ اس ونگ کا نام حزب الله البحرين رکھا گیا۔

 اس جماعت کے قیام کی ابتداء ہی میں حجه الاسلامیہ کے جنرل سیکرٹری محمد علی محفوظ کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ حزب الله کے بحرینی ونگ کو تین ہزار شیعی لشکری فراہم کرے گا، جن کی عسکری تربیت ایران اور لبنان میں ہوگی۔

 اس تنظیم کا سربراہ عبد الامير الجمری کو بنایا گیا اور ان کے بعد علی سلیمان نے ان کی قیادت سنبھالی ہے۔ ہادی المدرسی تحریکِ آزادی بحرین کا قائد اس نئے ونگ کا مرشد اور امداد کننده سربراہ ہے۔ اسی طرح محمد نقی المدرسی نے اس نئے ونگ کو فکری اور اعتقادی راہنمائی دی۔

 ان تمام مراحل کے بعد یہ نیا ونگ اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوگیا اور اس نے ملک میں فتنہ و فساد برپا کر دیا اور کچھ اہم علاقوں اور ان کے گرد و نواح میں اپنا غلبہ قائم کر لیا۔ 

اس تنظیم کا پہلا اور بنیادی مقصد موجودہ نظامِ حکومت کو ختم کر کے ایرانی شیعہ کے زیرِ اثر حکومتی نظام قائم کرنا تھا۔ اس بات کی تاکید و تصریح آية الله روحانی کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ بحرین ایران کے تابع ہے اور بحرین اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس تنظیم کے اہم ترین کارنامے 1994ء میں ہونے والے فسادات، ہنگامہ آرائی اور غنڈہ گردی ہے۔ یہ بدترین ہٹلر بازی اور غنڈہ گردی مختلف تنظیمی ناموں سے کی گئی، مثلاً کبھی کاروائی منظمة الوطن السليب کی کاروائی قرار دیا گیا۔ حالانکہ حقیقت میں یہ ساری تنظیمیں اور ان کی کاروائیاں ایک ہی جماعت حزب الله البحرين کی کارستانیاں تھیں۔ 

بعد ازاں یہ تمام نام ایک ہی تنظیم میں مدغم ہو گئے اور نئی تنظیم جمعية الوفاق الوطني الاسلامیة کے نام سے قائم کر دی گئی۔ جس کی قیادت علی سلمان کو سونپی گئی۔ اس نئی تنظیم کو سیاسی اور صحافتی میدان میں خدمات کے لئے مختص کر دیا گیا جبکہ عسکری اور تنظیمی کاروائیاں عسکری ونگ حزب الله البحرین کے سپرد کر دی گئیں۔

(حزب اللہ کون ہے، صفحہ41)

  دهشت گرد گروپ ملنگان حیدر کرار

 ملنگان حیدر کرار شیعوں کا سب سے زیادہ خطر ناک گروہ ہے جو پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے گھروں کے دروازوں پر تبرّا کرتے ہیں اور بھیک کے بہانے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعنت کرتے ہیں۔ اس گروہ کے لوگ سیاہ کپڑوں میں ملبوس، پاؤں میں کڑے اور بالوں کی لمبی لمبی لٹیں لٹکائے رکھتے ہیں، یہ لوگ اُصولِ دین سے بالکل بے بہرہ ہیں بلکہ دینِ اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ ان کا کام صرف علی علی کے نعرے لگانا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امّہات المومنین رضی اللہ عنہن کو گالیاں دینا ہے، جو ان کے نزدیک یہی عبادت ہے۔ عام مسلمان ان کو کشتہ نفس اور تارک الدنیا سمجھتے ہیں۔

 حالیہ دنوں میں ایک باوثوق ذریعہ سے پتہ چلا ہے کہ صوبہ سرحد کی شیعی آبادی پارہ چنار کے نواحی علاقہ زیڑان میں کچے مٹی اور گارے کے مکانوں کے درمیان پہاڑی پر پختہ عمارات کا ایک سلسلہ ہے جسے ایرانی حکمرانوں کے مشورے اور امداد سے تعمیر کروایا گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ یہ اہلِ تشیع کا مدرسہ ہے لیکن درِ پردہ دراصل یہ ملنگوں کی پرورش گاہ ہے جہاں ان کو نشہ کے عادی بنا کر اور برین واش کر کے ملنگ بنایا جاتا ہے، اس جگہ اسلحہ اور بم بھی بنائے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس تعلیم گاہ میں اگست 2011ء میں ایک بم بھی پهٹا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور بہت زخمی ہو گئے تھے۔

 ملک کے مختلف حصوں سے کم سن بچوں اور نوجوانوں کو اغوا کر کے یہاں لایا جاتا ہے، ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے، انہیں نشہ کا عادی بنایا جاتا ہے اور چند سالوں کی تربیت کے بعد ان کو مکمل ملنگ بنا دیا جاتا ہے۔ پھر ان کو مختلف علاقوں میں شیعیت کے مقاصد کے فروغ کے لئے بھیجا جاتا ہے۔

 ان ملنگانِ حیدر کرار سے حسب ذیل کام لئے جاتے ہیں

صفحہ 2 از 5