ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت…

ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت گرد تنظیمیں

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 3 از 5
  1.  بچوں اور نوجوانوں کو اغوا کر کے ملنگوں کی پرورش گاہوں میں پہنچانا-
  2.  نشہ آور اشیاء یعنی بھنگ، چرس، ہیروئن وغیرہ کے استعمال کو معاشرے میں پھیلانا-
  3.  تعویذ گنڈے کرنا اور سادہ لوح عورتوں کو ورغلانا۔
  4. مزاروں کو بے حیائی، زنا کاری، نشے اور جوئے کے اڈے بنانا۔ 

سرِ عام صحابہ کرام رضوان الله عليہم اجمعین اور امّہات المومنین رصی اللہ عنہن کو غلیظ گالیاں دینا اور ان کے خلاف نفرت پھیلانا۔ 

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ50)

 دهشت گرد تنظیم ISO

       پاکستان میں تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کی قائم کردہ تنظیم، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (iso) سب سے زیادہ پُرجوش اور فعّال ہے۔ یہ تنظیم ایرانی انقلاب کے اغراض و مقاصد کو عام کرنے اور فروغ دینے کیلئے پاکستان میں ایرانی حکومت کے کارکنوں سے کہیں بہتر کام کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اس نے نوجوان شیعوں کی لام بندی کیلئے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس تنظیم کے فرائض میں حسب ذیل ذمہ داریاں شامل ہیں۔

  1. انقلابی کتابچوں اور رسالوں کی تقسیم۔
  2. حسّاس علاقوں میں جلوس نکالنا۔ 
  3. مختلف موقعوں جیسے ایرانی انقلاب کی برسی، یوم القدس، ایران اور شیعوں کے خلاف سازشوں پر امریکہ سعودی عرب اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے خلاف احتجاج اور نفرت کا اظہار، مظاہروں اور جلوسوں کا اہتمام و انتظام کرنا وغیرہ وغیرہ۔

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ 76)

 پاکستان میں ایرانی فنڈنگ سے چلنے والی ایک طلبہ تنظیم iso کے حوالے سے گارڈین اخبار کے تجزیہ نگار (alex vatanaka) کا تجزیہ ملاحظہ ہو۔ iso۔۔۔ ایک طلبہ تنظیم ہے اس تنظیم کی نظریاتی بنیادیں وہی ہیں جو خمینی ملعون نے مہیا کی ہے، اگر دیکھا جائے تو iso کا پاکستان میں وہی کردار ہے جو لبنان میں حزب اللہ اور انقلابی گارڈز کا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں ایرانی انقلاب کو برپا کرنے کیلئے ایک بڑا پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے۔

 2009ء سے iso کی لیڈرشپ براہِ راست تہران میں موجود آیت اللہ خامنہ ای کے آفس سے منسلک ہے۔ (بحوالہ: نظام خلافتِ راشده دسمبر 2012، صفحہ 24)

ایرانی انقلاب کو پاکستان میں لانے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا انتخاب:

 میرے محترم قارئین کرام! مارچ 1979ء میں ایرانی انقلاب کے فوراً بعد جب پاکستانی شیعوں کا وفد آیت الله خمینی ملعون کو مبارکباد دینے کی غرض سے تہران میں اس کی خدمت میں حاضر ہوا تو خمینی ملعون نے ان کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان میں اپنے فرقے کے حقوق حاصل کرنے کیلئے خود کو منظّم کریں اور اس سلسلے میں اپنی جدّوجہد تیز کر دیں۔ خمینی ملعون نے اُن کو اپنی اور ایرانی حکومت کی طرف سے ہر طرح کی امداد اور پشت پناہی کا بھی یقین دلایا۔ 

چنانچہ آیت اللہ خمینی ملعون کی خواہش پر پاکستان واپس آکر اس وفد کے شیعہ لیڈروں نے خمینی ملعون کی ہدایت کے مطابق 12 اپریل 1979ء کو مفتی جعفر حسین کی زیرِ قیادت بھکر میں آل پاکستان شیعہ کنونشن منعقد کیا جہاں تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کی بنیاد رکھی گئی۔ حکومتِ پاکستان کو زور دار الفاظ میں اپنے مطالبات پیش کئے، شیعہ طالبِ علموں کیلئے الگ دینی نصاب اور ملک کے ہر شعبہ میں مساوی نمائندگی کا مطالبہ کیا اور مرنے مارنے کی باتیں کرنے لگے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے نصف درجن سے زیادہ مسلح تنظیمیں بنا دی۔ مثلاً : مختار فورس، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سپاه اولياء امل مليشيا، حسینی فورس، شیعه یوتھ فورس اور سپاه محمد وغیرہ وغیرہ۔

 اس کاروائی کے بعد شیعہ اکابرین کا پاکستان میں مقیم ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ اشتراک اور رابطوں کا عمل بھی تیز ہوگیا۔ ایران میں شائع شدہ شیعہ عقائد پر مبنی مواد سفارتِ ایران کے ذریعے پاکستان میں دھڑا دھڑ پہنچنے لگا اور پاکستان میں ان کے ایک درجن کے قریب مراکز فرہنگی اس مواد کا مقامی زبانوں میں ترجمہ کر کے لوگوں میں تقسیم کرنے لگے۔ امام باڑوں میں لاؤڈ اسپیکر پر شیعوں کا گستاخانہ اذان اور مسلمانوں کیلئے دوسری دلآزار اور شر انگیز باتوں کا بیان ہونے لگا محرم کے دوران پرامن سنی علماء کرام کی گرفتاریاں ہونے لگیں اور پولیس اور فوج کی زیرِ حفاظت سڑکوں پر ماتمی خنجر بردار تبرائی جلوسوں میں تیزی آگئی ملکی ذرائع ابلاغ ریڈیو، اخبارات اور ٹی وی دس دن کیلئے اس اقلیتی فرقے کے حوالہ کیا جانے لگا اور سنی مسلمانوں کے رہائشی علاقوں کے عین درمیان میں واقع شیعہ گھروں میں مجالس ہونے لگیں۔ جہاں شیعہ ذاکر اپنے اسلام دشمن عقیدوں کا پر زور پرچار کرنے لگے۔ 1980ء میں زکوۃ اور عشر کا قانون نافذ کر دیا گیا لیکن شیعہ طبقہ زکوۃ دینا نہیں چاہتا تھا۔

چنانچہ انہوں نے پہلے اس فیصلہ پر احتجاج کیا اور پھر اسلام آباد کی انتظامیہ کے شیعه افسران کے خفیہ اشتراک سے پاکستان سیکرٹریٹ کا زبردست گھیراؤ کرلیا، تین دن کے بعد حکومت نے شیعوں کو زکوۃ سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

 ایران کے ایک مشہور اخبار نے لکھا کہ ایران کی انقلابی تحریک سے متاثر ہو کر پاکستان کے شیعوں نے اپریل 1979ء میں تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کی بنیاد رکھی اور ایک ہی سال میں اتنے فعّال ہو گئے کہ 1980ء میں اپنے مطالبات منوانے کے لئے ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے ساری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔ انہوں نے پاکستان کے مرکزی دفاتر کا گھیراؤ کیا جو تین دن جاری رہا اور پاکستان کی فوجی حکومت کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کر دیا۔ اخبار نے مزید لکھا کہ شیعوں کی یہ کاروائی پاکستان بننے کے بعد ان کا یہ پہلا اہم کارنامہ تھا (یعنی اس طرح کی مزید اور بھی کاروائیوں کا ارادہ رکھتی)۔

 (ایران افکار و عزائم، صفحہ91)

صفحہ 3 از 5