ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت…

ایران کی بنائی گئ اور ایران کے لئے کام کرنے والی شیعہ دہشت گرد تنظیمیں

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 4 از 5

 ایران کے ایک فارسی اخبار کیهان 13جون 1991ء کے مطابق کہ ایرانی انقلاب کے فورًا بعد پاکستانی شیعہ اکابر پنجاب کے شہر بھکر میں جمع ہوئے اور تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کی بنیاد رکھی، اس تحریک نے پاکستانی شیعوں کو اتنا فعّال بنایا کہ انہوں نے ایرانی انقلاب کے اصل مقاصد کے حصول کیلئے 1980ء میں پاکستان کی سیکرٹریٹ کا کامیابی سے گھیراؤ بھی کیا جو تین دن تک جاری رہا اور پاکستان کی فوجی حکومت کو ان کے مطالبات ماننے پر بھی مجبور کر دیا۔ علامہ عارف اللہ حسینی ملعون (بانی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ) کی تحریک جعفریہ کی سربراہی کا ذکر کرتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ وہ دیوانگی کی حد تک ایرانی انقلاب اور خمینی سے متاثر تھے، انہوں نے نجف میں خمینی کے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھا تھا اور وہ خمینی کو دنیائے اسلام کا امام اور ایرانی انقلاب کو مسلم ملکوں میں اسلامی تحریکوں کا محور تصور کرتے تھے۔ عارف حسینی ملعون نے ایرانی انقلاب کے مقاصد کو پاکستان میں روشناس کرانے اور ترقی دینے میں بڑا موثر کردار ادا کیا۔ اخبار کے مطابق تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ پاکستان میں ایک ایسی جفاکش، وفا شعار اور متحرک جماعت بن چکی ہے جو پاکستان میں ایران کیلئے بہت مؤثر کام کر رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ (جو سعودی خاندان کی پروردہ ہے) کی مخالفت کے باوجود یہ اپنی سیاست اور کارکردگی کو پاکستان کے دور دراز علاقوں تک لے گئی ہے۔ اب شمالی علاقہ جات کے سادہ لوح لوگ ایرانی انقلاب سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ ان کے ہر گھر اور مسجد میں خمینی کی تصاویر پہنچ چکی ہیں اور مقامی پولیس کی مزاحمت کے باوجود "سکردو" کی ایک مرکزی سڑک کا نام "شاہراہ خمینی" رکھا جا چکا ہے۔ تحریک جعفریہ کے سر براہ ساجد علی نقوی ملعون پاکستان میں اپنی کارکردگی کی رپورٹ دینے اور ایرانی لیڈروں سے نئی ہدایات اور رہنمائی حاصل کرنے کیلئے وقتًا فوقتًا ایران جاتے رہتے ہیں۔ جہاں آیت اللہ خامنہ ای ملعون اور ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی ملعون اور (اس وقت ایران کا موجودہ صدر) ان سے ملنے کے لئے خصوصی وقت دیتے ہیں۔ 

(ایران افکار و عزائم، صفحہ 79 تا 83)

 میرے محترم قارئین کرام! اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ ایرانی انقلاب کی فکری پیداوار ہے جو پاکستانی شیعوں کے لئے ایک مضبوط عملی پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ یہ تحریک پاکستان میں ایرانی انقلاب کے اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے ایسا کام کر رہی ہے جسے کرنا پاکستان میں ایرانی نمائندوں کے بس سے باہر تھا۔ 

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ 76)

پاکستان کی شیعہ جماعت "تحریک نفاذ فقہ جعفریہ" جو ایرانی اخباروں کے مطابق ان کے انقلاب کے الہامی اثرات کے تحت قیام میں لائی گئی ہے، نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ایرانی طرز کا انقلاب لانے کیلئے اپنے کارکنوں کو ضروری دہشت گردی اور تخریب کاری کی تربیت دے رہی ہے۔ اور اس وقت ہر پاکستانی شیعہ، خمینی ملعون کو اپنا امام تصور کرتا ہے۔ ان کے گھروں میں خمینی ملعون کی تصویریں آویزاں ہیں اور یہ طبقہ ایران کے ہر حکم کو بجالانا اپنا جزو ایمان سمجھتا ہے۔

(ایران افکار و عزائم، صفحہ 83:67)

  •  پاکستان میں شیعه دهشت گرد تنظیم "امل ملیشیاء" کی بنیاد 1980ء میں ایران کے حکمرانوں نے تحریک فقہ جعفریہ کے سربراہ ساجد نقوی کو پاکستان میں "امل ملیشیا" نام کی ایک مسلح جماعت بنانے کا اشارہ دیا۔ 

تحریک جعفریہ نے اس تنظیم کا مرکزی دفتر اور تربیت گاہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، جہاں شیعہ آبادی کی اکثریت ہے، میں بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ کام گلگت کے ایک متشدّد اور فعّال شیعہ لیڈر آغا ضیاءالدین رضوی، جو مرکزی انجمن امامیہ گلگت کے صدر تھے، کو سونپا گیا اُس نے پاکستان میں ایرانی سفارت کاروں جو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں خصوصی طور پر دلچسپی رکھتے ہیں کے تعاون اور صلاح و مشورے سے نہایت تندہی کے ساتھ گلگت، بلتستان، سکردو اور ہنزہ کے علاقوں سے شیعہ نوجوانوں پر مشتمل کمانڈوز کا ایک خطرناک گروه "امل ملیشیا" ترتیب دیا۔ اور ان کو دہشت گردی اور تخریب کاری کی تربیت کے لئے امام علی یونیورسٹی تہران بھیجا۔ پتہ چلا ہے کہ یہ کمانڈوز پاکستان کے مختلف علاقوں میں شیعہ مخالف علماء اور دوسرے سنیوں کو قتل کرتے ہیں۔

 اور ان کی فوری پناہ گاہیں قریب ترین شیعہ درس گاہیں ہوتی ہیں جو محض نام کی درسگاہیں ہیں۔ جہاں کوئی پولیس والا داخل نہیں ہو سکتا۔ اور حالات سرد پڑ جانے پر یہ کمانڈوز اپنے مستقل اڈوں پر عافیت کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے ممتاز علماء کو قتل کرنے کی سازش کے انکشاف کے بعد 35 دہشت گرد، جن کا تعلق شمالی علاقہ جات سے ہے، کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد جدید اسلحہ سے لیس اور مکمل تربیت یافتہ تھے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان دہشت گردوں کی کل تعداد 90 ہے جن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

(ایران اور عالم اسلام، صفحہ116) شیعه دهشت گرد تنظیم "امل ملیشیاء" کے بارے میں علامہ حق نواز جهنگوی شهیدؒ فرماتے هیں که:

     اب جو صورتحال ہے وہ یہ کہ اب شیعہ زیرِ زمیں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور اس فوجی تربیت کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ خمینی انقلاب کیلئے راستہ ہموار کر رہے ہیں، اور یہ ساری تربیت خمینی کے اشارہ پر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ شیعوں نے "*شیعہ امل ملیشیاء*" کے نام سے پاکستان میں ایک تنظیم بنالی ہے۔ جو کبھی کہیں اور بنی ہوئی تھی، اب اس کا دفتر یہاں کھل چکا ہے، جس کا باقاعدہ منشور ہے، جس کی فوٹو کاپی ہمارے پاس موجود ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم عزاداری کے تحفظ کیلئے مسلح ہو کر آئیں گے، اور ہم پوری قوت سے مظاہرہ کریں گے۔ 

میرے محترم قارئین کرام ! ایک طرف انہوں نے فوجی تربیت حاصل کر لی اور دوسری طرف "شیعہ امل ملیشیاء" بنا کر یہاں پر وہی کرتوت کرنا چاہتے ہیں، جو انہوں نے فلسطینیوں کے مسلمانوں

صفحہ 4 از 5