دین اسلام کی نشر و اشاعت
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور عظیم فتوحات کا دور تھا، اس لیے ان حالات کا تقاضا تھا کہ آپؓ کے گورنر مفتوحہ ممالک میں اپنے ساتھ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعاون سے دین اسلام کی نشر و اشاعت کریں۔
(إعلام الموقعین: جلد 2 صفحہ 248) آپؓ کے دور خلافت میں شام کے گورنر یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے آپؓ کے نام خط لکھا کہ ’’شام کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے، شہروں میں لوگوں کا ہجوم ہے، انہیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو قرآن کی تعلیم اور دین اسلام کی فقہ و بصیرت دے سکیں، آپؓ ایسے معلمین کو یہاں بھیج کر ہماری مدد کریں۔ ‘‘چنانچہ خط پانے کے بعد حضرت عمرؓ نے پانچ علماء و ممتاز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وہاں بھیجا۔
(سیرأعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 247) آپؓ کے بارے میں یہ بات کافی مشہور ہے کہ آپؓ گورنران کو بھیجتے وقت لوگوں سے بار بار یہ کہتے تھے:
’’لوگو سن لو! اللہ کی قسم میں اپنے گورنروں کو اس لیے نہیں بھیج رہا ہوں کہ تمہاری چمڑیاں ادھیڑیں اور تمہارا مال تم سے چھین لیں بلکہ انہیں اس لیے بھیج رہا ہوں تاکہ تمہیں تمہارے دین کی باتیں اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتیں بتائیں اور سکھائیں۔‘‘
(السیاسۃ الشرعیۃ: صفحہ 150) اور حضرت عمرؓ اپنے گورنروں سے فرماتے تھے: ’’میں تمہیں مسلمانوں پر ظلم کرنے اور ان کی چمڑی ادھیڑنے کے لیے گورنر نہیں بنا رہا ہوں بلکہ اس لیے یہ ذمہ داری دے رہا ہوں تاکہ انہیں نماز پڑھاؤ اور قرآن سکھاؤ۔‘‘
(نصیحۃ الملوک: الماوردی: صفحہ 72، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 65) بہرحال آپؓ نے بہت سارے معلمین و مبلغین کو مختلف اسلامی شہروں میں بھیجا اور انہوں نے وہاں جا کر مشہور علمی مدارس کی بنیاد ڈالی، جیسا کہ اس کی تفصیل پچھلے مباحث میں گزر چکی ہے۔