گورنران کے اوقات عمل
علی محمد الصلابیعہد فاروقی میں گورنران کے اوقات عمل کی کوئی خاص تنظیم نہ تھی، خلیفہ اور والیان تمام اوقات میں کام کرتے تھے، جب کہ ان پر ایسی کوئی پابندی بھی نہ تھی حتیٰ کہ ان میں سے بعض تو رات کو گھوم گھوم کر پہرہ دیتے اور احوال معلوم کرتے، ان میں خود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے، آپؓ رات کو گشت کرتے اور مدینہ کے حالات کا جائزہ لیتے۔ والیان ریاست کے پاس لوگ مختلف اوقات میں جاتے اور وہ ان کی ضرورتیں پوری کرتے۔ کوئی دربان یا چپڑاسی نہ ہوتا تھا جو یہ کہہ کر ان کے پاس جانے سے روک دیتا کہ ’’یہ کام کا وقت نہیں ہے۔‘‘ والیان ریاست بلا تاخیر پہلی فرصت میں اپنے امور کو انجام دے لینے کے حریص تھے۔ حضرت عمرؓ نے اس سلسلے میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو یہ کہتے ہوئے خط لکھا تھا کہ ’’آج کا کام کل پر مت ٹالو، ورنہ تمہارے پاس کام کی کثرت ہو جائے گی اور بہت سے کام خراب ہو جائیں گے۔ واضح ہو کہ لوگ اپنے بادشاہوں سے دور بھاگتے ہیں، اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ پرانے کینے، دنیاوی مفادات اور ذاتی مصلحتیں میرے یا تمہارے اوپر غلبہ پا لیں۔‘‘
(مناقب امیر المومنین: ابن الجوزی صفحہ: 129)