دوسری وصیت
علی محمد الصلابیجب امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو محاذ جنگ پر روانہ کرنے نکلے تو انہیں دوسری وصیت ان لفظوں میں کی: ’’میں نے تم کو جنگ عراق کا سالار اعلیٰ بنایا ہے، میری وصیت غور سے سنو اور ذہن نشین کر لو، تم ایک مشکل اور صبر آزما مہم پر جا رہے ہو، حق پرستی ہی اس میں تمہاری معاون ہو سکتی ہے۔ خود کو اور اپنے ساتھیوں کو خیر و بھلائی کا عادی بناؤ، اسی سے کامیابی کی توقع رکھو، ہر عادت کی خیر صبر ہے، اگر تمہیں کوئی تکلیف یا ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو صبر کرنا، دل اللہ کے خوف و خشیت سے معمور رہے گا۔ جان لو! اللہ کی خشیت دو چیزوں سے پیدا ہوتی ہے، ایک اس کی اطاعت و فرماں برداری سے اور دوسری گناہوں سے اجتناب سے۔ جس نے دنیا کو حقیر سمجھ کر اور آخرت سے محبت کر کے اللہ کی اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے دنیا سے محبت کر کے اور آخرت کو حقیر سمجھ کر اللہ کی نافرمانی کی درحقیقت وہی عاصی و نافرمان ہے۔ دلوں کی مخصوص حقیقتیں اور حالتیں ہوتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جس کے لیے چاہتا ہے ودیعت کرتا ہے، ان میں سے کچھ پوشیدہ اور کچھ اعلانیہ ہوتی ہیں۔ اعلانیہ یہ ہیں کہ برحق قول پر جم جانے کے بعد حق کے سلسلہ میں اس کو اچھا اور برا کہنے والے دونوں اس کی نگاہ میں برابر ہوں اور پوشیدہ حالت کا ظہور اس وقت ہوتا ہے جب حکمت دل سے نکل کر زبان پر آ جاتی ہے اور لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پس لوگوں کی محبت حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہو، کیونکہ انبیاء اللہ تعالیٰ سے اسے مانگ چکے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرنے لگتا ہے تو لوگوں کی نگاہ میں اسے محبوب بنا دیتا ہے اور جب کسی بندہ سے نفرت کرتا ہے تو لوگوں کو اس سے متنفر کر دیتا ہے، لہٰذا اپنے معاون و مساعد لوگوں میں اپنا مقام و مرتبہ دیکھ کر اللہ کے پاس اپنے مقام و مرتبہ کا اندازہ کر لو۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 306، 307)