قرآنِ پاک سے وضو میں پاؤں کا مسح ثابت ہوتا ہے مگر مذکورہ بالا اکابرینِ اہلِ سنت پاؤں دھوتے ہیں جواب:
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒقرآنِ پاک سے وضو میں پاؤں کا مسح ثابت ہوتا ہے مگر مذکورہ بالا اکابرینِ اہلِ سنت پاؤں دھوتے ہیں
جواب:
قرآنِ پاک میں اَرْجُلَكُمْ پر نصب اور جر دونوں قراتیں آئی ہیں اس کا عطف وَاَیْدِیْكُمْ پر ہے درمیان میں جملہ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ( سورۃ المائدہ 6) آگیا کہ ترتیب وضو کےاستحباب
(بلکہ اکثر علماء ترتیب وضو کے وجوب کے قائل ہیں) پر دلالت ہو، اور اَرْجُلَكُمْ کی جر بِرُءُوْسِكُمْ کے جوار کی وجہ سے ہے (جس سے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا) ہمارے اس بیان کی تائید متواترہ احادیثِ رسول اللہﷺ کرتی ہیں(جن سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے) مزید تحقیق ہماری کتاب منار الاحکام میں مذکور ہے اس جگہ امامیہ کے ذکر کردہ کچھ آثار کے نقل پر اکتفاء کریں گے۔
1):-عیاشی نے علی بن حسن سے روایت کی ہے کہ ابو ابراہیم سے میں نے پاؤں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا پاؤں دھونے چاہیئے۔
2):-محمد بن عمان بروایت ابی نصیر امام ابو عبداللہ سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر تو سر کا مسح کرنا بھول گیا اور پہلے پاؤں دھو لیے تو سر کا مسح کر اور پھر پاؤں دوبارہ دھو۔اس اثر سے معلوم ہوا ہے امام کے نزدیک ترتیب وضو فرض ہے۔
کلینی (فروع کافی جلد 3 صفحہ 35)اور ابوجعفر طوسی وغیرہ نے اس اثر کو صحیح اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔
3):-محمد بن حسن صفار زید بن علی سے وہ اپنے آباء سے وہ علی بن ابی طالبؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے کہا میں وضو کرنے بیٹھا رسولﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں پاؤں دھو رہا ہوں تو آپﷺ نے فرمایا انگلیوں کے درمیان خلال بھی کرو۔
بعض روافض(شیعہ)جو یہ کہتے ہیں کہ اہلِ سنت نے بھی مسح قدمین روایت کیا ہے، یہ محض جھوٹ ہے۔