اہل سنت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بعض ایسی…

اہل سنت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بعض ایسی باتیں منسوب کیں ہیں جو کہ شانِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے بعید ہیں ۔ 1):-عائشہ رضی اللہ عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کپڑے کی گڈیاں بنار کھیلتی تھی حالانکہ اہل سنت کے نزدیک ثابت ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جہاں تصویر موجود ہو۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کی تصویریں کعبہ سے محو کرا دی تھیں۔ (الفاظ حدیث یہ ہیں عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت کنت العب بالبنات عندالنبی صلی اللہ علیہ وسلم وکان لی صواحب یلعبن معی الحدیث صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 258 باب مناقب عائشہ رضی اللہ عنھا)

  علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ

صفحہ 2 از 2

ابراہیم علیہ السلام کا سوال شک کی بناء پر نہ تھا، اگر شک کی وجہ سے ہوتا تو یہ شک ہمیں بھی ہوتا حالانکہ ہمیں کوئی شک نہیں ہے۔ لہٰذا ابراہیم علیہ السلام کو بھی شک نہ تھا۔

5) اہلِ سنت (صحیح مسلم: جلد 2)

اَوَلَمۡ تُؤۡمِنۡ‌ قَالَ بَلٰى وَلٰـكِنۡ لِّيَطۡمَئِنَّ قَلۡبِىۡ‌

روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام صرف تین کذباب بولے ہیں، اس میں کذب کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے حالانکہ انبیاء کذب سے معصوم ہیں۔

جواب: اس حدیث میں لفظ کذب کا معنیٰ مجازی تعریض ہے، الفاظ کے مجازی معانی اللہ کے کلام اور رسولﷺ کے فرامین میں عام ہیں اگر شیعہ اس جگہ کذب کے حقیقی معنیٰ لیتے ہیں اور تقیہ کا جواز ڈھونڈتے ہیں جس سے پھر انبیاء علیہم السلام کی باتوں پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ (نعوذ بالله)

6) اہلِ سنت صحاح میں روایت کرتے ہیں(جامع ترمذی میں لفظ یہ ہیں ان الشیطان لیخاف منک یا عمر الحدیث جلد 2 صفحہ 232 مناقبِ عمر نیز جامع ترمذی میں ہے انی لانظر الی شیاطین الجن والاانس یفرون من عمرؓ قصہ لعب الجشنیتہ) رسول اللہﷺ نے فرمایا سیدنا عمر فاروقؓ کے سایہ سے شیطان بھاگ جاتا ہے، اس حدیث سے سیدنا عمر فاروقؓ کی انبیاء پر تفضیل لازم آتی ہے، دیکھیے شیطان نے آدم علیہ السّلام کو وسوسہ میں ڈالا، قرآن میں ہے:

فَوَسۡوَسَ لَهُمَا الشَّيۡطٰنُ (سورۃ الاعراف آیت 20)

ترجمہ: شیطان نے ان دونوں کو وسوسہ ڈالا۔

نیز فرمایا:

قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى (سورۃ طہٰ آیت 120)

ترجمہ: کہا اے آدم! کیا میں تمہیں ایسا درخت بتاؤں جس سے جاودانی، زندگی اور وہ بادشاہی حاصل ہو جاتی ہے، جو کبھی پرانی نہیں پڑتی۔

موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے:

هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ(سورۃ القصص آیت 15)

ترجمہ: یہ شیطان کا کام ہے۔

ایوب علیہ السّلام کو مس کیا فرمایا:

مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ(سورۃ ص آیت 41)

ترجمہ: مجھے شیطان نے تکلیف و عذاب کے ساتھ مس کیا ہے۔

 رسول اللہﷺ کی قرأت میں القاء کیا، اور یہ آیت اتری: 

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِىٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰٓى اَلۡقَى الشَّيۡطٰنُ فِىۡۤ اُمۡنِيَّتِهٖ ‌

(سورۃ الحج آیت 52)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے جب بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا تو اس کے ساتھ یہ واقعہ ضرور ہوا کہ جب اس نے (اللہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی (کفار کے دلوں میں) کوئی رکاوٹ ڈال دی۔

جواب: حدیث عمرؓ میں شیطان کا فرار اس کے خوف اور عدم تسلط سے کنایہ ہے، اس وجہ سے کہ حق تعالیٰ اپنے دوستوں کی حفاظت و حمایت فرماتے ہیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ(سورۃ الحجر آیت 46)

ترجمہ: یقین رکھو کہ جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔

فرار خوف کے معنیٰ میں مستعمل ہے، قرآن پاک میں ہے:

اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ(سورۃ الجمعہ آیت 8)

ترجمہ: بے شک جس موت سے تم بھاگتے ہو۔

مقصد یہ ہوا کہ سیدنا عمرؓ سے شیطان سخت خوف میں ہے۔ اور یہ شدت خوف انبیاء سے بھی ہے اس کے باوجود کبھی کبھی وسوسہ بھی ڈال دیتا ہے، جس طرح کہ رجوم آسمانی سے شدید ترین خوف کے باوجود شیاطین سرقت سمع کر لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ(سورۃ الصافات آیت 7)

ترجمہ: یہ ہر سرکش شیطان سے حفاظت کے لیے ہے۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ(سورۃ الحجر آیت 18) 

ترجمہ: البتہ جو کوئی چوری سے کچھ سننے کی کوشش کرے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ 

مذکورہ بالا آیات جن میں انبیاء علیہم السلام کا اعتراف معصیت سمجھا جاتا ہے ظاہر پر نہیں ہیں بلکہ ان کا فرمانا کسر نفسی کے طور پر ہے کتب تفسیر میں اس کی تفصیلات موجود ہیں 

7) اہلِ سنت روایت کرتے ہیں(صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 530 مناقب الليل) کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں بہشت میں داخل ہوا تو بلال کے جوتوں کی آواز آگے سنی، اس حدیث سے ابوبکر صدیقؓ کے غلام بلالؓ کی رسول اللہﷺ پر برتری ثابت ہورہی ہے (نعوذ باللہ)

جواب: یہ اعتراض بالکل باطل اور حدیث کے مفہوم نہ سمجھنے کی بناء پر ہے اس لئے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا بلالؓ کی مثالی صورت دیکھی تھی۔ دوسرے ایمان داروں کی مثالی صورت میں بھی آپ نے اس طرح دیکھی تھیں۔ طبرانی میں ہے، ابو امامہؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا میں بہشت میں داخل ہوا، اور آپ نے آگے بلالؓ کی حرکت کی آواز سنی اور میں نے اپنی امت کے فقراء کو بہشت کے بالا تر مقام میں دیکھا۔ ان کے مثالی ہونے پر یہ دلیل ہے کہ فقراء و اغنیاء امت قیامت کے بعد بہشت میں داخل ہوں گے۔

8) اہلِ سنت روایت کرتے ہیں(طبرانی اوسط اس کی سند ضعیف ہے جمیع الفوائد جلد 2 صفحہ 361 مناقب عمرؓ) کہ عرفہ کے دن رسول اللہﷺ نے عمرؓ کی طرف نظر کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مباہات فرماتے ہیں، بالخصوص عمرؓ پر اس حدیث سے عمرؓ کی رسول اللہﷺ پر برتری  لازم آتی ہے، کیونکہ خود کو آپ نے خواص میں شمار نہ کیا۔

جواب: اس حدیث سے یہ نتیجہ بالکل باطل ہے اس لیے کہ اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا عمر فاروقؓ کے علاوہ کسی اور پر خصوصی مباہات نہیں کرتے، لہٰذا اس حدیث سے تو سیدنا عمر فاروقؓ کی سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر افضلیت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ انبیاء علیہم السّلام کی شان تو بہت اونچی ہے۔


صفحہ 2 از 2