اہل سنت کھجور کے نبیذ کے ساتھ وضو کرنا جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: فلم تجدوا مآء فتیمموا صعیدا طیبا اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔ (سورۃ المائده آیت 6)
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒاہلِ سنت کھجور کے نبیذ کے ساتھ وضو کرنا جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا
ترجمہ: اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔
(سورۃ المائده آیت 6)
جواب:
نبیذ تمر کے ساتھ وضو کرنا امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ اور جمہور اہلِ سنت کے نزدیک جائز نہیں ہے، امام ابوحنیفہؒ سے ایک مفتیٰ بہ روایت یہی ہے کہ جائزہ نہیں۔
امام ابوحنیفہؒ سے ایک روایت البتہ جواز کی بھی ملتی ہے اس باب میں وہ لیلتہ الجن(یہ حدیث جامع ترمذی صفحہ 32 میں موجود ہے کہ جنوں کو تبلیغ کی رات رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن مسعودؓ سے پوچھا تیرے برتن میں کیا ہے؟ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا نبیذ ہے فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے پھر آپﷺ نے اس میں سے وضو کیا۔
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں اس حدیث کی سند میں ابو زید راوی مجہول ہے انتہیٰ۔
عبداللہ بن مسعودؓ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ میں لیلتہ الجن رسول اللہﷺ کے ساتھ نہیں تھا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے تحفہ الاحوذی شرح جامع ترمذی صفحہ 91 جلد 1 کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ ولکم فی رسول الله اسوة حسنہ
