Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمانؓ نے ایسے اشخاص کو والی اور حاکم مقرر کیا جن سے خیانت سرزد ہوئی۔

  علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒ

 سیدنا عثمانؓ نے ایسے اشخاص کو والی اور حاکم مقرر کیا جن سے خیانت سرزد ہوئی۔

جواب:سیدنا عثمانؓ علم غیب نہیں رکھتے تھے جس شخص کو جس کام کے لائق سمجھا اس کے ذمہ حکومت کے کام سپرد کئے اگر ان میں سے کسی فرد سے کوئی خیانت ظاہر ہوگئی تو اسے معزول کر دیا والمرأ انما یعرف عندالمعاملہ۔ 

سیدنا علیؓ بھی اپنے حسنِ ظن سے لوگوں کو ولایت و حکومت پر فائز فرمایا کرتے تھے اور چند ایک سے جن میں ان کے بعض چچیرے بھی تھے خیانت ظاہر ہوئی ان کو معزول کر دیا۔

جیسا کہ سیدنا علیؓ کا ایک مکتوب گرامی نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 85 اس پر دلالت کرتا ہے۔

  اما بعد فأنی اشرکتک فی امانتی وجعلتک شعاری وبطانتی ولم یکن فی اھلی رجل اوثق منک  فی نفسی لمواساتی وموازرتی واداء الامانۃ الی فأما رایت الزمان علی ابن عمک قد کلب وعد وقد حرب وامانۃ الناس قد خزیت وھذہ الامۃ قد فنکمت وشغرت قلبک لابن عمک ظھر المجن وفارقتہ  مع الفارقین وخاذلتہ مع الخاذلین وخنتہ مع الخائنین فلا ابن عمک واسیت ولا الامانۃ ادیت۔

ترجمہ: امابعد میں نے تمہیں اپنی امانت میں شریک کیا اور اپنا راز دان بنایا میرے خاندان میں میرے نزدیک تجھ سے زیادہ بااعتماد آدمی نہ تھا جو میری مؤاساۃ کرتا اور اداۓ امانت میں میرا ساتھ دے مگر جب تو نے دیکھا کہ زمانہ تیرے ابنِ عم (سیدنا علیؓ) کے خلاف ہے اور دشمن آمادہ جنگ ہے اور لوگوں کی امانت فساد میں ہے اور یہ امت غیر محتاط ہوگئی ہے جس کے محافظ نہیں ہیں تو بھی اپنے ابنِ عم(چچا کا بیٹا) کے لئے بدل گیا اور جدا ہونے والوں کے ساتھ جدا ہوگیا اور بدعہدی کی اور خیانت کرنے والوں کے ساتھ خیانت کی نہ تو نے ابنِ عم کی مواسات اور ہمدردی کی اور نہ ہی امانت کو ادا کیا۔سلسلہ شکایات جاری رکھتے ہوئے آگے فرماتے ہیں۔

کیف تشبع طعاما وشرابا وانک تعلم انت تاکل حراما وتشرب حراما وتباع الاماء وتنکح النساء من اموال الیتامیٰ والمساکین والمؤمنین والمھاجدین الذین اٰفاء اللہ علیھم ھذہ الاموال۔

ترجمہ: طعام و شراب(شراب بمعنی پینا) سے تو کیسے اپنا پیٹ بھر رہا ہے حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ حرام ہے اور تو حرام کھا اور پی رہا ہے تو باندیاں بیچتا ہے اور عورتوں سے نکاح کرتا ہے یتیموں اور مساکین کے مال سے اور ایمان داروں اور مجاہدین کے مال سے جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ اموال فئی میں عطا کئے ہیں۔

ایضا صفحہ87۔ 

اس خط کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں۔

لاضربتک بسیفی الذی ضربت احدا الا دخل النار۔

  میں تجھے اپنی تلوار سے اڑا دوں گا جس کو بھی وہ تلوار مارتا ہوں وہ جہنم رسید ہو جاتا ہے۔

سیدنا علیؓ کے مقرر کردہ ایسے اشخاص میں منذر بن جارود عبدی بھی تھا اسے سیدنا علیؓ نے کئی جگہ عامل مقرر کیا اس کی خیانت معلوم ہونے پر آپ نے لکھا۔

اما بعد فصلاح  ابیک غرنی منک ظننت انک تتبع ہدیہ  و تسلک سبیلہ فاذا انت فیما رتی الی عنک لا تدع لھواک انقیادا ولا تبقی لا خرتک عتادا تعمہ دنیاک بخراب اخرتک وتصل عشیرتک بطيقعة دينك فمن كان بصفتك فليس باهل ان يسر به الثغرا و ينفذ به امراء ويعلی له قدر او يشرك في امانته او يؤمن علی خيانة  فاقبل الی حين يصل اليك كتابی هذا ان شاءالله۔

 *ترجمہ:*     

تیرے باپ کی نیکی نے تیرے بارہ میں مجھے دھوکے میں رکھا میں نے سمجھا تو بھی اس کی سیرت پر چلے گا اور اس کی راہ پرگامزن ہوگا تیرے متعلق میرے پاس جو معلومات پہنچ رہی ہیں تو اپنی خواہش کی انقياد کر رہا ہے اور آخرت کے لئے کوئی حصہ باقی نہیں چھوڑے گا آخرت برباد کر کے دنیا آباد کر رہا ہے دین ختم کر کے اپنی رشتہ داری بنا رہا ہے جو شخص تیری سی صفات کا حامل ہو وہ اس قابل نہیں کہ سرحدوں کی حفاظت کر سکے اور کوئی حکم نافذ کرسکے اور نہ اس قابل کہ اس کا قدر بلند کیا جائے یا اسے کسی امانت میں شریک کیا جائے یا کسی خیانت پر امین سمجھا جائے جب میرا خط تیرے پاس پہنچے فوراً میرے پاس آؤ۔

( نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 175صفحہ 176)۔

مذکورہ بالا دونوں خطوط سیدنا علیؓ کے مشہور مکتوبات سے ہیں جنہیں رضی نے نہج البلاغہ میں ذکر کیا ہے امامیہ کا عقیدہ ہے سیدنا علیؓ اور تمام ائمہ "ما کان وما یکون" کے علوم سب کچھ جانتے ہیں محمد بن یعقوب کلینی نے (اصول کافی صفحہ 129 باب الائمہ یعلمون علم ما کان وما یکون) اس معنیٰ میں کافی روایات اپنے آئمہ کی نقل کی ہیں امیہ کے اس فاسد عقیدہ کی رو سے سیدنا علیؓ پر یہ وزنی اعتراض لازم آتا ہے کہ جان بوجھ کر آپ نے اس قسم کے لوگ کیوں مقرر فرمائے اہلِ سنت کے نقطہ نظر سے  اعتراض نہیں آتا کیونکہ اہلِ سنت کسی شخص کے لئے علم غیب کے قائل نہیں ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

سورة الأعراف 188۔

وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ۔

اگر میں غیب جانتا بہت اچھائی جمع کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی۔

نیز سیدنا علیؓ نے فارس کا (نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 24) امیر زیاد کو مقرر کیا تھا جس کی والدہ کا نام سمیہ تھا اس کا جاہلی دور میں ابوسفیان کے ساتھ ناجائز تعلق تھا اس وقت یہ عبید بن حارث کی بیوی تھی انہیں ایام میں زیاد پیدا ہوا بڑا ہو کر اس نے فصاحت و بلاغت اور زِیرکی میں نام حاصل کیا ایک دن سیدنا عمرو بن عاصؓ نے کہا یہ نوجوان قریش سے ہوتا تو عرب کو لاٹھی سے چلاتا ابوسفیان نے کہا میں اس کی وضع جو اس کی ماں کے شکم میں تھی کو جانتا ہوں سیدنا علیؓ نے پوچھا کیسے؟ ابوسفیان نے کہا یہ میرے نطفہ سے ہے زیاد اپنے زنا زادہ ہونے پر فخر کرتا تھا امیر المؤمنین سیدنا علیؓ نے کسی مصلحت کی بناء پر اس زیاد کو امیر فارس بنایا اور اس کے فسق و فجور پر نظر نہ کی اس علاقہ میں اس کے ہاتھ سے نظم و نسق درست ہوگیا سیدنا معاویہؓ نے زیاد کی طرف لکھا تا کہ اسے اپنی طرف کھینچے۔

سیدنا علیؓ نے زیاد کو لکھا۔

(دیکھئے نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 90۔91) مجھے پتہ چلا ہے کہ سیدنا معاویہؓ تجھے اپنی طرف کھینچنے کے لئے خط لکھ رہا ہے اس سے بچ کر رہ یہ ہر طرف سے حملہ آور ہوگا تیری نسبت ابوسفیان سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی تو اس کی وراثت کا مستحق ہے سیدنا علیؓ کی وفات تک زیاد ان کے ساتھ رہا سیدنا علیؓ کی شہادت اور سیدنا حسنؓ کی مصالحت کے بعد وہ سیدنا معاویہؓ کے پاس چلا گیا۔

سنہ 44 ھ میں زیاد کی نسبت ابوسفیان کی طرف کر دی گئی سیدنا معاویہؓ نے جب اسے عراق کا والی بنایا وہ اولادِ سیدنا علیؓ کا بدترین مخالف بن چکا تھا سعید بن سرح ایک شخص کو زیاد نے دھمکایا سعید مدینہ میں سیدنا حسین بن علیؓ کے پاس آیا اور زیاد کی شکایت کی زیاد نے اس کا گھر منہدم کر دیا اس کا مال لوٹ لیا اور اس کے اہل و عیال کو پکڑ لیا سیدنا حسینؓ نے لکھا زیاد تم مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو اس کا گھر بنوا دو اس کا مال واپس کرو جواب میں زیاد نے سیدنا حسینؓ کو سخت و سُست کہا اور بےادبی کے کلمات لکھے سیدنا حسینؓ نے سیدنا معاویہؓ کو حالات کی اطلاع دی سیدنا معاویہؓ نے زیاد کو تنبیہ کی کہ تو نے سعيد پر ظلم کیوں کیا اور سیدنا حسینؓ کے ساتھ بےادبی سے کیوں پیش آیا اسے حکم دیا کہ سعید کا گھر بنواؤ اور اس کا مال واپس کرو۔

زیاد نے عراق میں بہت خون ریزی کی ایک رات میں پندرہ سو آدمی بے گناہ قتل کرا دئیے امیر المؤمنین سیدنا علیؓ اگر زیاد کی خباثت نفس اور اس کے کاموں کے انجام سے واقف ہوتے اسے کیوں امیر فارس مقرر کرتے۔