قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت…

قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 7

گزشتہ میں یہ بات بھی مفصل بیان کی جا چکی ہے کہ حضرات آل بیت رسولﷺ اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی جناب حسین رضی اللہ عنہ کے اس خروج کے موافق نہ تھا، ان سب حضرات نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو اہل کوفہ پر اعتبار کرنے سے منع کیا اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان سب حضرات کو کوفیوں پر اس قدر خوف اور اندیشہ ہونے کے باوجود شام میں موجود یزید پر ادنیٰ سا کھٹکا یا خرخشہ بھی نہ تھا، حالانکہ یزید کو کوفہ اور مدینہ کے جملہ احوال کی پل پل کی خبریں بھی پہنچ رہی تھیں۔

اس موقعہ پر اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جناب حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کو کسی فرد واحد نے بھی یزید کی بیعت کرنے پر مجبور نہ کیا تھا اور جب تک ان کوفی رافضیوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو فتنہ کی آگ میں ڈال نہ دیا تھا، کسی نے بھی جناب حسین رضی اللہ عنہ کو میلی نگاہ سے دیکھا تک نہ تھا۔ اس مرحلہ میں جناب حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایسی کوئی ظاہر و باہر وجہ جواز بھی نہ تھی، جو یہ بتلاتی کہ امت کی مصلحت خروج حسین رضی اللہ عنہ میں ہے۔ اگر جناب حسین رضی اللہ عنہ ان دغا باز،خائن اور مکار و عیار رافضی کوفیوں کے کہنے پر خروج نہ فرماتے، تو ان بدبختوں کو جناب حسین رضی اللہ عنہ سے غداری کر کے انہیں شہید کرنے کا موقعہ ہی ہاتھ میں نہ آتا اور نہ امت مسلمہ کو یہ اندوہناک، جگر پاش اور دل خراش حادثۂ فاجعہ دیکھنے کو ملتا۔ لیکن ہوتا وہی ہے جو رب کی تقدیر میں لکھا ہوتا ہے اور اللہ کی تقدیر نافذ ہو کر رہتی ہے۔ اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دل فگار واقعہ امت مسلمہ کے لیے بے پناہ غم و اندوہ کا باعث ہے اور اس دل سوز واقعہ نے امت سنت و الجماعت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا المیہ حضرات خلفائے راشدین جناب فاروق اعظم، جناب عثمان غنی اور جناب علی بن ابی طالب(رضی اللہ عنہم اجمعین) کی شہادتوں کے المیوں سے ہرگز بھی بڑا نہیں۔ لیکن اگر بنظر انصاف دیکھا جائے، تو ’’حقیقی مصیبت‘‘ امت سنت و الجماعت کی ان اسباب و وسائل اور ادوار و مراحل سے کمال غفلت ہے، جن کو سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رسول کے پاکیزہ خونوں سے کھلواڑ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اور قتل و غارت کے اس ہوش ربا واقعہ کو رہتی دنیا تک کتاب و سنت اور اہل اسلام پر طعن کا ایک قوی ذریعہ بنا لیا گیا اور یہ خطرناک کھیل کھیلنے والے رافضی کوفی اس واقعہ کو آڑ بنا کر آج تک امت مسلمہ کے عقیدہ کی بیخ کنی کرنے، اس کے اتفاق و اتحاد کو پراگندہ کرنے اور توحید و رسالت پر اس کے یقین و اذعان کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ 

’’بے شک قتل حسین رضی اللہ عنہ کے المیہ کا حقیقی الم ناک پہلو یہی ہے۔‘‘

یہ بات اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ’’ہماری تعزیت‘‘ یہ احرار اور ان سے قبل حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا شیوہ ہے۔

منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی لاش سولی پر لٹکی تھی۔ لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ’’(حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی والدہ ماجدہ) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا وہ رہیں۔‘‘ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و تذکیر کی اور فرمایا: ’’یہ لاش کچھ بھی نہیں، اصل تو روحیں ہیں، جو اللہ کے حضور موجود ہیں، پس آپ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں۔‘‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’بھلا مجھے صبر کرنے سے کون سی بات روک سکتی ہے، جبکہ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کا سر قلم کر کے بنی اسرائیل کی ایک رنڈی کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ: 37328)

غدار اور دغا باز و جفاکار یہود بنی اسرائیل کے ہاتھوں رب تعالیٰ کے متعدد پیغمبر شہید ہوئے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی طرح حضرت زکریا علیہ السلام بھی قتل کیے گئے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ قَدْ جَآئَ کُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْہُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَo 

(سورۃ آل عمران: آیت 183)

’’کہہ دے بے شک مجھ سے پہلے کئی رسول تمھارے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے اور وہ چیز لے کر بھی جو تم نے کہی ہے، پھر تم نے انھیں کیوں قتل کیا، اگر تم سچے تھے۔‘‘

اور فرمایا:

سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَہُمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِo

 (سورۃ آل عمران: آیت 181)

’’ہم ضرور لکھیں گے، جو انہوں نے کہا اور ان کا نبیوں کو کسی حق کے بغیر قتل کرنا بھی اور ہم کہیں گے جلنے کا عذاب چکھو۔‘‘

محبان حسین رضی اللہ عنہ کی قتل حسین رضی اللہ عنہ کے حادثۂ فاجعہ پر خود اپنی غم گساری اور تعزیت کے لیے یہی امر بس ہے کہ رب تعالیٰ نے قاتلان حسین رضی اللہ عنہ سے بدترین انتقام لیا۔ یہ اہل کوفہ اور ان کے ہم نوا تھے، جو کتاب و سنت سے سب سے زیادہ دور، کتاب و سنت کی صحت پر سب سے زیادہ شک کرنے والے اور سلف صالحین سے جن میں سرفہرست حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، ان سے سب سے زیادہ بغض، نفرت اور کینہ رکھنے والے ہیں، ان کا حسینی عقائد سے کوئی تعلق واسطہ نہیں، نہ انہیں امت حسین رضی اللہ عنہ سے ہی کوئی سروکار ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ بجائے صلحاء کے مشاہد و مزارات پر جانے کے ابو لؤلؤہ فیروز دیلمی (قاتل حضرت عمر رضی اللہ عنہ )کی قبر کی طرف بھاگتے ہیں۔ 

’’تو کجا من کجا‘‘

کوفی رافضی قاتلان حسین رضی اللہ عنہ سے رب تعالیٰ کی قدرت و مشیت نے کس طرح انتقام لیا؟ ذیل میں اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے:

صفحہ 2 از 7