قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت…

قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 7

چنانچہ میدان کربلا میں جب عراقیوں کی غداری دیکھ کر جناب حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے تین باتیں پیش کیں، جن میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ انہیں یزید کے پاس جانے دیا جائے، لیکن عراقیوں نے تینوں میں سے کسی ایک بات کو بھی نہ مانا اور نتیجہ بالآخر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے جاں نثار رفقاء کی شہادت کی صورت میں نکلا۔ چنانچہ جب یزید کو اور اس کے گھر والوں کو قتل حسین رضی اللہ عنہ کی دل خراش خبر پہنچی، تو وہ بے حد غم زدہ ہو کر رونے لگے اور یزید نے کہا: اللہ کی لعنت ہو ابن مرجانہ فارسیہ پر! اگر اس کا حسین (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ کوئی قرابتی رشتہ ہوتا، تو وہ انہیں ہرگز بھی قتل نہ کرتا۔ میں حسین (رضی اللہ عنہ) کو قتل کیے بغیر بھی اہل عراق کی اطاعت پر راضی تھا۔ یزید نے آل بیت حسین رضی اللہ عنہ کو انعام و اکرام سے نواز کر انہیں عزت و احترام کے ساتھ مدینہ روانہ کیا۔ البتہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ یزید نے نہ تو جناب حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدلہ لیا اور نہ قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کر دئیے جانے کا حکم ہی دیا۔ رہی وہ روایات جن میں ان باتوں کا ذکر ہے کہ یزید نے آل بیت حسین رضی اللہ عنہ کی خواتین اور اولادوں کو قیدی بنایا، انہیں شام کے گلی کوچوں میں رسوا کرنے کے لیے گھمایا اور انہیں کجاوں کے بغیر اونٹوں پر سوار کیا، بلاشبہ یہ سب دروغِ بے فروغ اور باطل ہے۔ الحمد للہ کسی مسلمان نے کبھی کسی ہاشمیہ خاتون کو قیدی نہیں بنایا اور نہ امت محمدیہﷺ نے کبھی بنو ہاشم کو قیدی اور غلام بنانے کو حلال جانا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ یہ جاہل اور خواہشات کے غلام جھوٹ کثرت سے بولتے ہیں۔ جیسا کہ ان گمراہوں کی ایک جماعت یہ تک کہتی ہے کہ حجاج بن یوسف نے … کو قتل کر دیا تھا۔ یہ سب نرا جھوٹ ہے، حجاج نے کسی ہاشمی کو کبھی قتل نہیں کیا حالانکہ اس کے ہاتھوں پر بے شمار لوگوں کا خون لگا ہے۔ چنانچہ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو حکم لکھ بھیجا تھا کہ کسی بنی ہاشم سے ہرگز بھی تعرض نہ کرنا۔ میں نے بنی حرب کا انجام دیکھا ہے کہ جب انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے تعرض کیا، تو انہیں جن عذابوں سے واسطہ پڑا سو وہ تم جانتے ہی ہو۔‘‘ 

(منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 557)

آگے لکھتے ہیں:

’’خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں یہ بات معروف ہے کہ مسلمانوں نے کسی ایسی عورت کو کبھی قیدی اور کنیز نہیں بنایا، جس کا ہاشمیہ ہونا معروف ہو اور نہ مسلمانوں نے آلِ حسین رضی اللہ عنہ میں سے کسی کو قیدی ہی بنایا تھا۔ بلکہ آل بیت حسین رضی اللہ عنہ جب شام میں یزید کے گھر پہنچے تھے، تو یزید کے گھر والوں نے قتل حسین رضی اللہ عنہ پر رونا شروع کر دیا تھا۔ یزید نے ان کا بے حد اکرام و اعزاز کیا اور انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو اسی کے پاس ٹھہر جائیں اور چاہیں تو مدینہ لوٹ جائیں۔ اس پر انہوں نے مدینہ لوٹ جانے کو اختیار کیا۔

رہ گیا قصہ سر حسین رضی اللہ عنہ کے گلی گلی پھرائے جانے کا اور اس جیسی دوسری اناپ شناپ باتیں، تو بلاشبہ وہ جھوٹ اور بہتان ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔

رہے وہ حوادث و عقوبات جو قتل حسین رضی اللہ عنہ کا نتیجہ تھیں، تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خونِ حسین رضی اللہ عنہ سے ہاتھ رنگنا بہت بڑا گناہ ہے اور اس گناہ کا ارتکاب کرنے والا، اس پر راضی رہنے والا، اس میں معاونت کرنے والا، بلاشبہ یہ سب لوگ رب تعالیٰ کے اس عقاب کے مستحق ہیں، جو ایسے ہی مجرموں کو دیا جاتا ہے۔

لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ان سے افضل ہستیوں کے قتل سے بڑا گناہ نہیں، جیسے رب تعالیٰ کے پیغمبروں اور سابقین اوّلین مہاجرین و انصار کا قتل، مسیلمہ کذاب سے جنگ میں شہید ہونے والے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم، شہدائے احد، بیر معونہ کے مظلوم شہید اور جیسے سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قتل وغیرہ۔‘‘ (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 559)

علامہ ابن جریر طبری کی بعض روایات ان حقائق سے پردہ اٹھاتی ہیں، جن میں بے شمار لوگوں کو اشتباہ پیش آیا ہے۔ ان روایات کے سامنے زبانِ زد خلائق وہ روایات پادر ہوا ہو جاتی ہیں، جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان حسد اور کینہ کے جذبات کو انگیخت کرتی ہیں۔ چنانچہ طبری ایک جگہ لکھتے ہے کہ

’’جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خواتین اور گھر والوں کو ابن زیاد کے پاس لایا گیا، تو اس نے عزت و احترام کے ساتھ انہیں ایک علیحدہ مکان میں اتارا، ان کے لیے نفقہ جاری کیا اور انہیں خلعتیں بھی دیں۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 300، جلد، 8 صفحہ 171)

طبری کے اس بیان سے ان روایات کی غیر واقعیت کا یقینی علم ہو جاتا ہے، جن میں ان محترم خواتین کی بابت ازحد نازیبا اور ناشائستہ باتیں مذکور ہیں کہ ان واجب الاحترام خواتین سے بے حد غفلت برتی گئی، ان کے مقام و مرتبہ کا کوئی پاس ولحاظ نہ کیا گیا، بغیر پالان اور کجاووں کے ان کو اونٹوں کی ننگی پیٹھوں پر سوار کیا گیا، اور نہ جانے کیا کیا۔ بلاشبہ یہ سب کی سب کوفیوں کی خرافات اور دروغ بافیاں ہیں، جو ان کے اس کینہ اور نخوت کی غمازی کرتی ہیں، جو یہ مسلمانوں کے جیوں میں پھونکنا چاہتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کی اخوت و ہمدردی پارہ پارہ ہو اور شقاق و نفاق اور بغض و عداوت کو ان کے جیوں میں زہریلے تیر کی طرح پیوست کر دیا جائے۔ اسی طرح ان کوفیوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن کی بابت جن محیّرالعقول روایات کو گھڑا ہے، جن کا بیان گزشتہ میں گزر چکا ہے، جو ان کے بنیادی عقائد کا حصہ ہیں ، ان سے غرض جناب حسین رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر یا تصدیق نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کی جڑوں میں فتنہ اور شقاق کا بیج بونا ہے، تاکہ انجان لوگوں پر شہادت حسین کا الم ناک واقعہ ایک چیستاں بن کر رہ جائے۔

غرض ایک طرف یہ روایات ہیں، تو دوسری طرف وہ روایات بھی ہیں جو بتلاتی ہیں کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کا سن کر یزید رونے لگا تھا اور بے اختیار کہہ اٹھا:

صفحہ 4 از 7