قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت…

قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 5 از 7

’’اگر حسین رضی اللہ عنہ ابن مرجانہ فارسیہ کے قرابت دار ہوتے تو وہ ایسا کبھی نہ کرتا۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 300، جلد، 8 صفحہ 170)

ابن مرجانہ پر یزید کو اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ اس نے اس اقدام کی جرأت کیونکر کی، لیکن مجوسیت اور فارسیت کے اس بغض اور کینہ کا کیا کیجیے جو ابن زیاد کی رگ رگ میں پیوست تھا اور یہ اس کا نسبی ورثہ تھا۔ بلاشبہ ابن زیاد نے اپنی ایرانی ماں کے مجوسی خون کے اثرات کو بدن کے روئیں روئیں میں محفوظ کر رکھا تھا، جس میں عربوں کے لیے رحم نام کی کوئی چیز نہ پائی جاتی تھی، چاہے وہ جو بھی ہو!!!

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

’’گمانِ غالب ہے کہ اگر قتل و شہادت سے قبل یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر قابو پا لینے میں کامیاب ہو جاتا، تو انہیں ضرور معاف کر دیتا، جیسا کہ اسے ان کے والد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جناب حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں کڑی تاکید تھی اور جیسا کہ خود اس نے بھی یہ روح فرسا خبر سن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنے دل کے خیالات کا برملا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ ابن زیاد کو لعنت و ملامت کرتے ہوئے بظاہر یزید نے انہی جذبات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ اس سب کے باوجود یزید نے نہ تو ابن مرجانہ کو معزول کیا، نہ اس پر کوئی عتاب کیا اور نہ کسی کو بھیج کر اس کے اس قبیح فعل پر کسی غم و غصہ کا اظہار ہی کیا۔ و اللہ اعلم۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 202)

ابن زیاد کو عتاب نہ کرنے کے اسباب معروف ہیں۔ یزید کو بدلتے حالات کے پل پل کی خبریں پہنچ رہی تھیں، فتنے کی آگ بلند سے بلند ہوتی جا رہی تھی، بلاد و امصار سے آنے والی خبریں خوش کن نہ تھیں۔ یزید کو سردست ابن مرجانہ اور اس کے کوفی اعوان و انصار سے اپنے تعلقات کشیدہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ یہ بات بھی معروف ہے کہ یزید کو ابن مرجانہ پر بے حد غم و غصہ تھا اور یزید نے اسے کوفہ کی ولایت پر بھی مجبوراً تعینات کیا تھا۔

جیسے تاریخ کے اوراق میں یہ بات بھی محفوظ ہے کہ جناب امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شہید مظلوم خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قاتل موجود تھے اور لوگوں کے بے پناہ اصرار اور مطالبہ کے باوجود امن اور اطمینان اور وحدت کے قائم ہونے سے قبل انہوں نے نہ تو ان میں سے کسی پر حد جاری فرمائی اور نہ کسی سے قصاص ہی لیا تھا اور یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حالات میں نہ استقرار پیدا ہوا نہ استحکام، نہ امن قائم ہو سکا اور نہ اطمینان کی دولت ہی نصیب ہو سکی۔ اسی لیے جناب علی رضی اللہ عنہ نے کسی پر حد بھی قائم نہ فرمائی اور نہ ان اشرار وفجار قاتلوں میں سے کسی سے قصاص ہی لیا۔

ہاں سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے بصرہ خروج کے دوران میں جن جن سے قصاص لیا سو لیا اور جن پر اللہ کا حکم ہوا، ان پر حد جاری کی، یا جس نے ان بزرگوں سے قتال کیا اور اس دوران میں مارا گیا۔ غرض ان لوگوں کے سوا کسی کو بھی قصاص یا حد میں قتل نہ کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس بات سے کسی کو انکار کی گنجائش نہیں کہ جناب علی رضی اللہ عنہ قاتلانِ عثمان کو قصاص میں قتل کرنے کے بے حد حریص تھے۔

یزید نے کوفہ کے والی ابن زیاد کو جو خط لکھا تھا، اس میں کسی جگہ بھی خاص سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینے کی طرف اشارہ تک نہ تھا، بلکہ اس کے برعکس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے، ان کے مقام و مرتبہ کو پہچاننے اور اس کا پاس لحاظ کرنے اور آپ کے ساتھ معاملہ کرنے میں ازحد حزم و احتیاط سے کام لینے کے واضح اشارے پائے جاتے ہیں۔

یزید نے اس بات کی تاکید بھی لکھ بھیجی تھی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی بھی معاملہ کرنے سے قبل یزید کو اس کی اطلاع ضرور دی جائے۔ یہ جملہ امور بتلاتے ہیں کہ یزید جناب حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں کافی خوف زدہ تھا۔

ذیل میں اس مراسلہ کی عبارت کے چند جملے نقل کیے جاتے ہیں، یزید لکھتا ہے:

’’مجھے اس بات کی خبر پہنچی ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ بے شک تمہارا زمانہ اور تمہارا شہر اس آزمائش میں مبتلا ہو گئے ہیں اسی طرح اپنے عاملوں میں سے تمہیں اس آزمائش کا سامنا ہے۔ انہی مواقع پر یا تو لوگ آزاد ہوتے ہیں یا پھر غلام بنا لیے جاتے ہیں۔‘‘

لیکن ابن زیاد نے یزید کی اس فہمائش کی مطلق پروا نہ کی اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے ان کا سر یزید کے پاس بھیج دیا۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

’’میں کہتا ہوں کہ صحیح یہ ہے کہ ابن زیاد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر شام نہ بھیجا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ یزید نے ابن زیاد کو خط میں لکھ بھیجا کہ ’’مجھے اس بات کی خبر پہنچی ہے کہ حسین (رضی اللہ عنہ) عراق کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ ان پر نگران اور مسلح افراد مقرر کر دو، ان پر پہرا رکھو، کوئی گمان ہو تو قید میں ڈال دینا اور کوئی تہمت ملے تو دار و گیر کرنا، البتہ ان کے خون سے ہاتھ رنگنے سے سخت گریز کرنا، ہاں جو تم سے قتال کرے اسے قتل کر دینا اور مجھے پل پل کی خبر بھیجتے رہنا۔ و السلام!‘‘ (البدایۃ والنہایۃ: جلد، 8 صفحہ 145 علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ کو اس مسئلہ میں تردد ہوا ہے۔ دیکھیں: تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 293)

صفحہ 5 از 7