قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت…

قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 6 از 7

لیکن ابن مرجانہ فارسیہ نے یزید کے خط کی ہدایات کی مطلق پروا نہ کی اور ان سب فہمائشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان سے بھی قتال کیا، جنہوں نے قتال میں پہل نہ کی تھی اور انہوں نے تو صلح کی پیش کش کی تھی۔ گویا اس کی رگوں میں ٹھاٹھیں مارتے ایرانی مجوسی خون نے اس کی بصیرت و بصارت دونوں کو اندھا کر دیا تھا، اور اسے حسد و کینہ کی اندھی کھائی میں جا گرایا۔ چنانچہ ابن مرجانہ فارسیہ نے صلح کی پیش کش کو ٹھکرا کر مجوسی نسل کی لاج رکھتے ہوئے شر کو اختیار کیا اور ان اہل فتنہ کی معاونت و مساعدت پر کمربستہ ہو گیا، جنہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو فتنہ کا جال بن کر اور ان کی جائے قرار سے نکال کر غدار کوفیوں کے آگے لا کھڑا کیا۔ جبکہ ابن زیاد ان کی تلواروں اور آراء کے ہم نوا تھا۔

کیا یہ وہی لوگ نہیں تھے، جو جناب امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور انہوں نے مسلمانوں میں فتنہ کا بیج بونے، امن و سلامتی کو غارت کرنے اور باہمی اتفاق و اتحاد کو جلا کر خاکستر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تھا اور انہیں جب بھی کسی نئے فتنہ کی بنیادیں رکھنے کا موقع ملا، انہوں نے وہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے کمال چابک دستی سے کام لیتے ہوئے ابن زیاد کی مجوسی رگ کو چھیڑا اور اسے صلح و سلامتی کی راہ سے بڑی خوبی کے ساتھ موڑ لیا، حتیٰ کہ اسے خود اپنے امیر اور خلیفہ کی رائے کے خلاف چلنے پر آمادہ کر لیا۔ چنانچہ ان حضرات کے بھڑکانے اور اکسانے پر ابن مرجانہ نے یزید کو کسی بات سے آگاہ کرنا گوارا نہ کیا اور کوفیوں کی انگیخت پر حسینی قافلہ کو تلواروں پر رکھ لیا اور قتل حسین رضی اللہ عنہ کے رسوائے زمانہ جرم کا ارتکاب کر لیا۔ اسی بات کو تاکید کے ساتھ یزید نے جناب علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رحمۃ اللہ کے سامنے بیان کیا تھا کہ اسے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش کا مطلق علم نہ تھا اور اسے یہ روح فرسا خبر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل ہو جانے کے بعد ملی تھی۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 300)

حالات و واقعات کا اگر استقرائی اور معروضی جائزہ لیا جائے، تو یہی حقیقت الم نشرح ہو کر سامنے آتی ہے۔ پھر ان سب کے ساتھ ساتھ بنو امیہ کے حلم و بردباری کو بھی ہر وقت سامنے رکھیے، جو سب قبائل عرب میں ان کا طرۂ امتیاز اور امتیازی وصف تھا، جس کی شہادت جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملنے شام گئے، تو ان کے آنے کی خبر سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو حکم دیا کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا کر حاضر ہو۔ چنانچہ یزید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یزید کو خوش آمدید کہا اور خوب گفتگو رہی۔ جب یزید جانے لگا، تو جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید سے ارشاد فرمایا:

’’جب بنو حرب (یعنی بنو امیہ) نہ رہیں گے، تو سمجھ لینا کہ لوگوں کے علماء رخصت ہو گئے۔‘‘

پھر یہ شعر پڑھا:

مغاض عن العوراء لا ینطقوا بہا

و اصل وراثات الحلوم الاوائل

(البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 229 تاریخ دمشق: جلد، 65 صفحہ 403)

’’برائیوں سے چشم پوشی کرنے والے اور ان کو دیکھ کر بھی ان پر لب کشائی نہ کرنے والے، اور بردباروں کی پہلی وراثتوں کے اصل وارث۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے:

’’جب بنو امیہ ختم ہو جائیں گے، تو سمجھ لینا کہ لوگوں میں حلم و بردباری جاتی رہی ہے۔‘‘ (العقد الفرید: جلد، 4 صفحہ 337 لابن عبد ربہ۔ الکامل لابن اثیر: جلد، 3 صفحہ 262 الانصاف للخلیفۃ: 535)

پھر جب ان سب امور کے ساتھ خود سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی یزید کو جناب حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس تاکیدی وصیت کو بھی ملا لیا جائے کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کا ازحد خیال رکھنا اور ان کے ساتھ حسن معاملہ کرنا، چنانچہ جب یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کر دئیے جانے کی خبر پہنچی، تو بے اختیار رونے لگا، کہ یہ جملہ امور اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینا یا کروا دینا یزید کی اس سیاست اور ان قواعد و ضوابط کے برملا خلاف تھا، جن کی نیو یزید نے اپنے والد ماجد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد معارضہ و مخالفت کا مقابلہ کرنے کے لیے رکھی تھی۔

اس امر کی تاکید کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ میں یزید کی مرضی، کوئی سیاست، اشارہ یا کوئی حکم شامل نہ تھا، جناب علی بن حسین رحمہ اللہ کے موقف سے بھی ہوتی ہے کہ کسی صحیح نص میں یہ مروی نہیں کہ انہوں نے یزید کے خلاف خروج میں کسی کے ساتھ مشارکت کی ہو، یا انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد اس بارے میں یزید کو کبھی برا بھلا کہا ہو، یا جب یزید نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تھا، تو انہوں نے یزید کے اس اعتذار کو تشکیکی نگاہ سے دیکھا ہو، یا اس کی عذر خواہی میں کسی تردد کا شکار ہوئے ہوں۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، جناب محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ، آل بیت کے سردار جناب عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما اور دوسرے اجل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مواقف کو بھی ملا لیجیے۔ یہ بات کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ ان بزرگ ہستیوں میں سے کسی ایک نے بھی قتل حسین رضی اللہ عنہ کا ذمہ دار یزید کو ٹھہرایا ہو۔

امت کے اہل علم اور ارباب دانش و بینش کو اس امر سے باخبر ہونا لازم ہے، تاکہ وہ امت مسلمہ کے قابل اعتبار اکابر و اصاغر اور اسلاف و اخلاف کی سیرت و بصیرت اور اسوہ و قدوہ کی پیروی کریں اور باطل روایات پر کان دھرنے سے سخت گریز کریں اور جرأت بے جا کی اس دلدل میں گرنے سے بچیں، جس میں گرانے کے لیے یہ دشمنان صحابہ صدیوں سے کوشش کر رہے ہیں اور مذموم مقصد کے حصول کے لیے مکر و فریب کی ہر چال چلنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔

رب تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے:

صفحہ 6 از 7